پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

June 14, 2024

انڈیا میں4 اور 5جون کے درمیان الیکشن کے نتائج آئے۔ نتیجہ تو پاکستان جیسا، مگر کمزور سیاست کے باوجود مودی صاحب نے وزیراعظم جلد ازجلد کہلانے کیلئے جو بھی قریبی رہنما مل سکا اسے بلاکر، کرسی سنبھال لی۔ یہ نہیں کہا ’’یہ کرسی مضبوط ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں سینٹ اور پارلیمنٹ کی سیٹوں کی الٹ پلٹ کا چکر، بجٹ کا انترا اور پھر آئی ایم ایف کا خوف تو سونے بھی نہیں دیتا۔ ذرا دیکھیں تو 16سال سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ روز صبح ٹی وی لگانے کو جی نہیں کرتا کہ دوچار لاشیں، دوچار گھروں کا صفایا۔ دوچار موٹر سائیکلیں چوری اور گاڑی والے کو اتار کر ڈاکو گاڑی لیکر فرار، اب پتہ چلا کہ وہ گاڑیوں کو کوئٹہ لیجا کر سودا کرکے اور اکثر گاڑیاں، سرحد پار چلی جاتیں، جہاں سے ہر رات دہشت گرد آکر ہمارے جوانوں کے گھروں کو بے چراغ کر جاتے ہیں۔ ادھر چمن ہوکہ گوادر کہ خضدار بلوچستان میں بجلی اور گیس کے نہ ہونے پر ٹریفک بند کرکے، شہری سڑکوں پہ بیٹھے، ساتھ ہی لاپتہ لوگوں کی تصویریں دکھا کر ساری دنیا کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ بلوچستان میں ان75 سالوں میں ہرحال میں جاگیرداروں کی حکومت رہی جو اب تک چل رہی ہے۔ کبھی بی ایل اے حملہ آور ہوتے ہیں تو کبھی طالبان۔ دوسری طرف آدھا بلوچستان ویران پڑا ہے۔ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں ہر آنے والا حکمران، قسمت بدلنے کے دعوے کرتا ہے اس وقت ہمارے حکمران معہ چیف صاحب بہت سے معاہدوں پر چین سے دستخط کرکے آئے ہیں ایسے منصوبے مشرف کے زمانے تک امریکہ سے ہوتے رہے۔ اب سی پیک کے نام پہ بہت منصوبے بناکر آئے ہیں۔ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایک ہزار پاکستانی نوجوانوں کو چین بھیجیں گے۔ کیا پاکستان جیسے زرعی ملک کےجوان، چینی جوانوں سے کھیتی باڑی سیکھیں گے جبکہ اس وقت پنجاب کی گندم خریدنے کا کوئی پلان نہیں ہے۔ اس وقت کےپی میں 600کارخانے بند ہوچکے ہیں اور ضرورت کے تحت فیکٹریوں اور گھروں کو دس دس گھنٹے بجلی اور گیس نہیں مل رہی ہے اور کے پی کا سلطان راہی اپنی بڑھکیں مارے جارہا ہے۔ یہ سب لکھتے ہوئے مجھے شرم آرہی ہے کہ ہر وزیر ٹیکس بڑھانے کی بات کرتا ہے۔پروڈکشن کی بات سوائے اسکے کہ ہم نے 500ٹن چیریز چین کو بھیج دی ہیں۔ ہمارے نصیب میں اب وہ بھی نہیں رہی۔ ہمارے حکمران چین کیساتھ معاہدے کرنے کے بعد، یہ بھی تو کہیں کہ ہمارے لوگوں کو چینیوں کی طرح محنت کرنے کی عادت کیا وہ وزیر ڈالیں گے کہ جو اسٹاف کی لکھی ہوئی تقریریں پڑھنے کیمرے کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ چیف صاحب کو حکمران کیساتھ بیٹھے دیکھ کر چکی804کےملزم کے الفاظ پہ اعتبار کرنے کو دل تو نہیں چاہتا مگر سچ یہی ہے کہ اصل حکمرانوں کو جلد مفاہمت کا راستہ بنانا پڑےگا ورنہ یہ نہ ہو کہ چڑیاں چک گئیں کھیت۔ چاروں طرف دیوالیہ دیوالیہ کا رولا پہلے ہی پڑا ہوا ہے۔اب تو بلاول میاں بھی اپنے ممبران کو ڈانٹ کر کہہ رہے ہیں کہ پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے چکر سے نکلو اور کچھ اپنے اپنے علاقے میں جاکر کام کرو۔ میں نے یہ بات اپنے ڈرائیور کو سنائی تو ہنس پڑا۔ جی ٹھیک ہے وہ کہتے رہیں یہ سنتے رہینگے۔ سن لیں ہماری خواتین ممبران کہ ان سب کو صرف اشتہاروں کے ذریعہ نہیں۔محلہ در محلہ ٹیمیں بناکر کام کرنا ہوگا۔ پھر یادآیا کہ ابھی تک ہمارے بلدیاتی ادارے منتخب ہی نہیں ہوئے۔ انکے کام کے پیرا میٹرز ہی طے نہیں ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک میں بہت سے بڑے بزنس مین سعودی عرب سے آئے، کئی دن قیام کیا سنا ہے، معاہدے بھی ہوئے۔ حکومت اور وزارت خارجہ سے پوچھو توکہتے ہیں کچھ معاہدے ابھی نامکمل ہیں۔ بس دو معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ ایک ہے بھنی ہوئی پیاز بھجوانے اور لیبر بھجوانے کے۔ ویسے گزشتہ ایک سال سے بہت سے تاجر، پاکستان کے اندر فیکٹریاں لگانے کا سوچ کر آئے اور بے مراد واپس گئے کہ جس ملک میں بجلی اور گیس کبھی کبھی ملے اور ٹیکس کی طویل فہرست میں تو کون بائولا، یہاں اپنا سرمایہ ضائع کریگا۔ پاکستان میں سینکڑوں کے حساب سے خواتین برانڈز پھیلتے جارہے ہیں۔ بیگمات سوٹ کیسز بھرکر ڈاکٹروں کے میلے میں اسٹال سجاتی ہیں۔ اس بزنس کو سرکار باقاعدگی دے تو ساری دنیا میں کچھ برآمدات مشہور ہوجائیں۔ اس وقت تو انڈیا کی ہرقسم کی مصنوعات اور کپڑے دنیا میں مارکیٹ کو پکڑے ہوئے ہیں یا پھر چینی مصنوعات ہیں۔پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی نے ملک کا کونہ کونہ پکڑا ہوا ہے۔ صدر مملکت پوچھتے ہیں کہ یہ آتے کہاں سے ہیں۔ حالانکہ یہ کام تو ضیاالحق کے زمانے سے جاری ہے۔ اگر کچھ لوگ زندہ بچ جاتے ہیں وہ غیر تصدیق شدہ سلنڈر پھٹنے سےمرجاتے ہیں، صرف حیدرآباد میںاب تک 26 لوگوں کی موت کی تصدیق ہوئی ہے۔

بار بار ذہن اس موضوع کی طرف جاتا ہے کہ ہمارا کیوں اپنے کسی ہمسائے سے نہ تعلق ہے، نہ کاروبار نہ یونیورسٹیوں میں طلبا کا اشتراک ؟کیا ہمارےاندر خرابی ہے کہ سارے ملکوں سے تجارت جس میں پھلوں، کھانوں، ڈبوں میں بند پکے ہوئے کھانے کیوں فروغ نہیں پا رہے۔ ہماری عورتوں نے تواب مختلف ڈھابے کھولنے شروع کردیے ہیں مگر میں صحافیوں سے لیکر پنشن والے لوگ اپنے سامنے احمد فرہاد جو رہا ہونے کے بعد پھر جیل میں ہے، کیلئےبول نہیں سکتے۔ ہماری شخصی آزادی پر پہرے مت بٹھائیں۔ ورنہ لوگ سوشل میڈیا کو سچ مان لیں گے۔