مجھے مستور رہنے دو…!!

September 02, 2018
 

روبینہ فرید

میں حکمِ رب پہ نازاں ہوں، مجھے مسرور رہنے دو

رَدا ہے یہ تحفظ کی، مجھے مستور رہنے دو

مثالِ سیپ میں موتی،مجھے رب قیمتی سمجھے

مجھے اپنی قدر افزائی پہ مغرور رہنے دو

مجھے مستور رہنے دو

زمانے کی نظر گہنا نہ دے پاکیزگی میری

حیا کے لعل و گُہر سے مجھے پُرنُور رہنے دو

مجھے مستور رہنے دو

زمانہ خلق ہے، مَیں ذریعۂ تخلیق ٹھہری ہوں

مجھے اس منصبِ تخلیق پہ معمور رہنے دو

مجھے مستور رہنے دو

نہیں محتاج میری ذات مصنوعی سہاروں کی

حیا کی پاس داری سے، مثالِ حور رہنے دو

مجھے مستور رہنے دو

مِرے سَر پر جو چادر ہے،مِرے ایماں کاسایہ

اسی سائے کی ٹھنڈک سے ہر اِک غم دُور رہنے دو

مجھے مستور رہنے دو

مَیں اپنے دیں پہ شیدا ہوں،یہ میرا تاج ہے گویا

مِرے اس دیں کی کرنوں کو مِرا منشور رہنے دو

مجھے مستور رہنے دو

دُعا ہے نازؔ کی آقا کہ اس اُمّت کو غیرت دے

مَیں اس اُمّت کا مرکز ہوں، مجھے غیّور رہنے دو

مجھے مستور رہنے دو


مکمل خبر پڑھیں