Advertisement

جدید اُردو مرثیے کا ارتقاء

September 19, 2018
 

ڈاکٹرہلال نقوی

ڈاکٹر ہلال نقوی کا شمار ،موجودہ عہد کے نہایت معتبر قلم کاروں میں ہوتا ہے،وہ بنیادی طور پر شاعر ہیں،مرثیہ نگاری اُن کی پہچان ہے،لیکن ایک نثر نگار کی حیثیت سے بھی اُنہوں نے خود کو منوایا ہے۔ہم اُن کا ایک مضمون ’’جدید مرثیہ 1947 کے بعد ‘‘شایع کررہے ہیں،جو 1989میںایک ادبی میگزین میں شایع ہوا تھا ۔اس مضمون کو نظریہء ضرورت کے تحت مختصر کیا گیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردو مرثیے کی تاریخ میں میر انیسؔ کا سب سے بڑا کمال میرے خیال میں یہ تھا کہ انہوں نے مرثیے کو مذہب کی چیز ہوتے ہوئے بھی ادب کی چیز بنادیا۔ جب مرثیہ، ادب کی صورت میں سامنے آیا تو تنقید وجود میں آئی، اردو کی پہلی تنقیدی کتاب ’’مقدمہء شعر و شاعری‘‘ میں حالیؔ کا نقطہء نظریہ رہا کہ غزل، قصیدہ اور مثنوی سب انحطاط کا شکار ہوچکے ہیں، ہاں اگرکسی صنفِ سخن نے ترقی کی ہے تو وہ مرثیہ ہے، یعنی اردو تنقید کا آغاز مرثیے کی تعریف سے ہوا، پھر ہم یوں ہی سوچیں کہ شبلی، جنہوں نے موزانہَ انیسؔ ودبیر‘‘ جیسی اہم کتاب لکھی، کیا ان کی نظریں میر تقی میر، میر دردؔ، غالبؔ اور نظیرؔ کو نہیں دیکھ رہی تھیں، انہیں اپنی تنقید کا موضوع بناتے، لیکن ایسا نہیں ہوا، بلکہ ’’موازنہَ انیسؔ و دبیر‘‘ کے شروع میں ہی یہ وضاحت کردی کہ ’’مدت سے میرا ارادہ تھا کہ کسی ممتاز شاعر کے کلام پر تقریظ و تنقید لکھی جائے، جس سے یہ اندازہ ہوسکے کہ اردوشاعری باوجود کم مائیگیِ زبان، کیا پایہ رکھتی ہے۔ اس غرض کے لیے میر انیسؔ سے زیادہ کوئی شخص انتخاب کے لیے موزوں نہیں ہوسکتا تھا۔‘‘ اس سے ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ انیسویں صدی کے آخری ربع میں اور بیسویں صدی کے ابتدائی ربع میں میر انیسؔ کی عظمت کو کس قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔‘‘

انیسؔ ،مرثیے کی جس بلندی پر پہنچ گئے تھے، اس کے بعد مرثیے میں تھوڑی بھی ترقی کرنا، آنے والے مرثیہ نگاروں کے لیے مرحلہَ جاں کنی سے بھی زیادہ سخت تھا، چنانچہ ایک طرح سے اجتماعی طور پر مرثیے کو زوال کے حالات سے دوچار ہونا پڑا۔ اُس دور میں میر انیسؔ کے بعد اردو مرثیہ کسی بڑی تبدیلی سے روشناس نہیں ہوا ،یہ دور ایک اعتبار سے انیسؔ کی تقلید، بلکہ یوں کہا جائے تو زیادہ جامع ہوگا کہ بے جان اور کم زور تقلید میں گزر گیا ’’ساقی نامے‘‘ کا اضافہ ضرور ہوا، لیکن نئے مضامین کو کسی ادبی صنف میں داخل کر دینا ہی اس کے ارتقاء کا ضامن نہیں ہے، جب تک زندگی کے کسی پہلو کو اجاگر نہ کیا جائے اور حیاتِ نو کی روشنی سے استفادہ نہ کیا جائے، بات نہیں بنتی۔ ادب بھی انسان کی طرح ہے، جسے اپنی صحتِ کامل کے لیے انفاسِ تازہ کو ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔ انیسؔ کے بعد مرثیے کو اسی حادثے کا سامنا کرنا پڑا۔ میر عارفؔ کی یہ آواز اُس دور کے بیشتر مرثیہ نگاروں کی آواز بن گئی۔

جدو آبا کا چلن چھٹنے نہ پائے مجھ سے

طرزِ مرغوبِ کہن ،چھٹنےنہ پائےمجھ سے

اُس دور کے بیشتر مرثیہ نگاروں کا سفر ’’طرزِ مرغوبِ کہن‘‘ کی اُس پٹری پر جاری رہا، جو زمینِ شعر پر پہلے سے بچھا دی گئی ہو۔ جس میں رفتار، فاصلہ، موڑ، طول، عرض کا پہلے سے تعین کردیا ہو ،آنے والی گاڑی کے پہیے اُسی پٹری کی رہ نمائی میں اپنا سفر جاری رکھتے ہیں، اس دور میں تقلیدی عمل زیادہ رہا ہے اور فکری آنچ کم رہی اور سب سے اہم بات یہ کہ مقصدِ مرثیہ میں کوئی تبدیلی نہیں آسکی۔

بیسویں صدی جب مطلع ِکائنات پر طلوع ہوئی تو پوری دنیا سیاسی، اجتماعی، اقتصادی، فکری، معاشی، عمرانی اور ادبی طور پر ایک کروٹ لے رہی تھی، ادب میں سرسید کی تحریک نے ایک تزلزل پیدا کردیا تھا ’’مسدسِ حالیؔ‘‘ نے جدید نظم کی پوری عمارت، زمینِ شعر پر لاکر کھڑی کردی تھی، جس کے سائے سے بچنا ممکن نہیں تھا۔ اُس زمانے میں جو شعرا کسی نئے زوایئے سے سوچنے کی صلاحیت رکھتے تھے، ان کے فن میں تبدیلی کی جھلک آئی۔ مرثیہ نگاروں میں شادؔ عظیم آبادی اور مرزا اوجؔ نے پہلی مرتبہ مرثیے کو فکر کا نیا روپ دیا ؎

’’کسے غرض ہے، پرانے خیال کون سنے‘‘

مرزا اوجؔ کا یہ مصرع مرثیے کے سامع کو چونکانے کے لیے کافی تھا شادؔ نے تو بڑے عجیب رخ کے ساتھ مرثیے میں تبدیلی لانے کی گفتگو کی، انہوں نے تو پورے پورے مرثیے، انیسؔ اور دبیرؔ کی ڈگر سے ہٹ کر لکھے۔ اوج کا انتقال 1918ء میں اور شادؔ کا 1927ء میں۔ 1927ء سے پہلے ہی مرثیے کی دنیا میں بعض نئے لوگ سامنے آئے جوشؔ کا مرثیہ ’’آوازِ حق‘‘، دلورام کوثریؔ کا مرثیہ ’’قرآن و حسینؓ‘‘، نسیمؔ امروہوی کا مرثیہ ’’گل ِخوش رنگ‘‘ اور عزیزؔ لکھنوی کا ’’درسِ وفا‘‘ قابلِ ذکر ہیں، ان مرثیوں کو جدید مرثیوں کا نام دیا گیا۔

جدید مرثیہ کیا ہے؟ یہ سوال گزشتہ نصف صدی سے اٹھا۔ اس پر مختلف پہلوئوں سے غور کیا جاتا رہا اور اس کی نت نئی توجیہات پیش کی جاتی رہیں۔ ایک بحث یہ بھی چھڑ گئی کہ آیا جدید مرثیے کی اصلاح بھی کوئی چیز ہے یا نہیں؟ پھر یہ بھی کہا گیا کہ مرثیوں میں جدید کا پیوند کیوں لگایا جائے۔ مرثیہ بذات ِخود ایک مکمل اصطلاح ہے تو پھر جدید کیوں؟ اس کے بہت سے جوابات دیئے جاسکتے ہیں، ہم اس تاریخی عمل کو بھول جاتے ہیں کہ کوئی بھی صنفِ سخن جب گزرتے ہوئے لمحوں کی پشت پر کسی نئے عہد یا نئی صدی میں قدم رکھتی ہے تو وہ اس عہد کے فکری تقاضوں کے پیشِ نظر اپنا رنگ و روپ بدل لیتی ہے۔ یہ نیا رنگ و روپ اُس کی پہچان کے لیے نئے زاویے قائم کرتا ہے، جدید غزل کی اصطلاح، اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ جدید مرثیے کی اصطلاح کو قبول نہ کرنا ادب کی رفتار کا ساتھ نہ دینے کے مترادف ہے، ہمیں جدید مرثیے کو کسی ہچکچاہٹ کے بغیر قبول کرلینا چاہیے، یہ فکر و نظر کی دیانت داری ہے۔ قدیم اور جدید مرثیے کے درمیان فرق کو ہم زمانے کے نقطہء نظر سے نہیں دیکھیں گے۔ یہ فرق فکر و نظر، طرز، احساس، اسلوب، اظہار اور روحِ عصر کے پیمانوں سے ناپا جائے گا۔

جب قطع کی مسافتِ شب فتاآفتاب نے (انیسؔ)

جب ہوئی طالع زمانے میں تمدن کی سحر (جوش)

میر انیسؔ اور جوشؔ کے مرثیوں کے ان مطلعوں کے درمیان پوری ایک صدی کھڑی ہوئی ہے۔فکرِ انسانی جس سطح پر پہنچ گئی ہے اور جس انداز سے انسان سوچ رہا ہے، جوشؔ کا مصرع اس فکر کی عکاسی کرتا ہے۔ 1918ء میں جوشؔ نے اپنے پہلے مرثیے ’’آوازِ حق‘‘ کے ذریعے پہلی بار ہمیں یہ پیغام دیا کہ ؎

مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو

لازم ہے کہ ہر فرد، حسینؓ ابنِ علیؓ ہو

مرثیے کی دنیا میں یہ بالکل نئی آواز تھی۔ جوشؔ سے پہلے امام حسینؓ کو سبط ِرسولؐ، جانِ زہراؓ اور شہنشاہِ مدینہ کے نام سے مرثیہ نگاروں نے یاد کیا، لیکن جوشؔ نے حسینؓ کو جانِ سیاست، ناشرِ اخلاقیات، عزتِ نوعٍ انساں، تاریخ کا غرور، سلطان شکار اور راکبِ عصرِ دوراں جیسے خطابات سے یاد کر کے سوچ کے زاویے بدل دیئے۔ جوشؔ صاحب کے متعلق یہ بحث کہ آیا وہ مرثیہ گو کہلائے جانے کے مستحق ہیں بھی یا نہیں، اتنی زیادہ اہم نہیں جتنی زیادہ اہم مرثیے کےمتعلق ان کا کام ہے، میں نے خود ایک بار جوشؔ صاحب سے یہ سوال کیا تھا کہ کیا آپ اپنی ان تخلیقات کو مرثیے کا نام دیں گے؟ تو انہوں نے بڑا اچھا جواب دیا کہ ’’مجھے اس سے سروکار نہیں ہے کہ انہیں آپ مرثیے کا نام دیں یا نہ دیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ میرے پیشِ نظر اس قسم کے مسدس لکھتے وقت مرثیے کا ہی تصور رہتا ہے۔ جوشؔ کے بعد جدید مرثیے کی دنیا میں دو بڑے نام ہمارے سامنے آئے نسیمؔ امروہوی اور سید آلِ رضاؔ ان دونوں شاعروں نے بیسویں صدی کے دوسرے اور تیسرے ربع میں مرثیے کی دنیا بدل کر رکھ دی۔

سید آلِ رضاؔ اور نسیمؔ امروہوی کے دوش بدوش جمیلؔ مظہری، راجہ صاحب محمود آباد، زائر سیتا پوری، مولانا حافظ یوسف عزیزؔ، موجدؔ سرسوی، اولاد حسین شاعرؔ، جعفر علی خاں اثرؔ اور حکیم آشفتہ وغیرہ نے جدید طرز کے مرثیے لکھے۔ تقسیم سے پہلے جدید مرثیے کے سفر میں نجمؔ آفندی کا جو کردار ہے، وہ کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

تقسیمِ برصغیر کے بعد مرثیے کے سارے اہم شعراء، سوائے جمیلؔ مظہری، پاکستان آگئے، کراچی ان شاعروں کا مرکز بنا اور جدید مرثیے کے احیا کی تاریخ کا سنہری باب اس سرزمین پر لکھا گیا۔ کراچی میں سب سے پہلے سید آلِ رضاؔ نے جدید طرز کے مرثیے، مجالس میں سنائے، نسیمؔ امروہوی، جو لکھنو سے خیر پور منتقل ہوگئے تھے، جب کراچی آئے تو مرثیے کی زندگی نے یہاں نئی کروٹ لی۔ 1951ء میں سید اختر حسن نقوی نے، 1954ء میں ڈاکٹر یاور عباس نے اور 1964ء میں نسیمؔ امروہوی نے مرثیے کے مراکز قائم کیے۔ ان مراکز نے کراچی میں جدید مرثیے کے ارتقائی سفر میں بڑا اہم رول ادا کیا۔ خصوصاً ڈاکٹر یاورؔ عباس کی خدمات تاریخ ساز حیثیت رکھتی ہیں۔ پاکستان میں کراچی کے حوالے سے کئی نام سامنے آئے زیباؔ روولوی، بادشاہ مرزا ثمرؔ ، ڈاکٹر یاورؔ عباس، کوکبؔ شادانی، ضیا الحسن موسوی، صباؔ اکبر آبادی، منظرؔ عظیمی، محسنؔ اعظم گڑھی، مقبول حسین نیئرؔ، ڈاکٹر منظور مہدیؔ اور بعض دوسرے شعرا نے جدید مرثیے کو آب و تاب کے ساتھ لکھا۔

ہندوستان میں تقسیم کے فوراً بعد جدید مرثیے نگاروں میں صرف ایک وہی نام آتا تھا، جو تقسیم سے پہلے بھی موجود تھا، یعنی جمیلؔ مظہری۔ ایک عام تصور اب تک یہ قائم کیا گیا کہ ہندوستان میں تقسیم کے بعد جدید مرثیے کو پنپنے کا موقع نہیں ملا۔ جولائی، 1980ء میں، میں نے جدید مرثیے سے متعلق اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے پہلوئوں کی تکمیل کے سلسلے میں ہندوستان کے بعض مقامات خصوصاً لکھنو، دہلی، امروہہ اور مراد آباد وغیرہ کا سفر کیاتھا، اس سفر میں ہندوستان کے بعض نقادوں سے ان پہلوئوں پر خاص گفتگو ہوئی، جو تقسیم کے بعد وہاں کی جدید مرثیہ نگاری کے فروغ نہ پانے کا سبب ہوسکتے تھے۔ مرزا دبیرؔ کے پڑ پوتے مرزا صادق، مہذبؔ لکھنوی، ڈاکٹر نیئرؔ مسعود، علی جواد زیدی، سید محمد رشید، مہدیؔ نظمی، عظیمؔ امروہوی اور ذہینؔ نقوی سے اس موضوع پر ادب کی عام رفتار کو پیش نظر رکھتے ہوئے گفتگو ہوئی، جس کی تفصیل میں نے امروہہ کے جدید مرثیہ گوعظیمؔ امروہوی کے مرثیے ’’مرثیہ ِعظیم‘‘ کے مقدمے میں لکھی ہے۔ تقسیم کے بعد ہندوستان میں جدید مرثیے کے ارتقا میں جو رکاوٹ پیش آئی اس سلسلے میں ہندوستان کے مندرجہ بالا نقادوں نے جو وجوہات بیان کیں، اُن میں تین مشترک تھیں۔ نئی نسل میں اردو کے بجائے ہندی کا فروغ۔ مرثیے کی مجالس کے بجائے، عام طور پر ذاکری کا فروغ اور جدید مرثیے کے بڑے شعرا جو پاکستان میں ہیں ان کے فن سے ہندوستانی مرثیہ نگاروں کی عدم واقفیت۔

ہندوستان میں تقسیم کے بعد جو مرثیہ سامنے آرہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ بات اب تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ ہندوستان میں مرثیے کو 1947ء کے بعد زوال سے دوچار ہونا پڑا ہے، بلکہ وہاں بھی جدید مرثیے نے قدم جمائے ہیں، ہماری تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ہندوستان میں اس وقت جدید مرثیہ گو شعرا کی کمی نہیں اور ان کا فن بھی کچھ کم حیثیت نہیں رکھتا۔ تقسیم کے بعد ہندوستان میں گزشتہ 45برس میں جدید مرثیہ نگاری کے سلسلے میں چھوٹے بڑے بہت سے نام سامنے آئے اس وقت جو نام مجھے یاد آتے جارہے ہیں وہ یہ ہیں۔

ڈاکٹر وحید اخترؔ، باقرؔ امانت خانی، مہدیؔ نظمی، عظیم امروہوی، قائمؔ شبیر، شہیدؔ صفی پوری، سید افسرؔ نواب، وفاؔ ملک پوری، قیصر امروہوی، سید احمدؔ مہدی (راجہ پیر پور) سید بادشاہ حسین رمزؔ (راجہ پیر پور) پیامؔ اعظمی، غلامؔ امام، معجزؔ سنبھلی، صریرؔ سنبھلی جرارؔ چھولسی، تابشؔ دہلوی، ریاضت علی شائقؔ، شہیدؔ لکھنوی، قیصرؔ جونپوری، علیؔ مہدی بلرام پوری،شائق حسین کلیم،محسن حسان جونپوری،حسین مہدی رضوی، مہدیؔ جوراسی، ڈاکٹر نتھی لال وحشیؔ، مضطرؔ جونپوری، محمد حیدرؔ، گوہرؔ لکھنوی، کالی داس گپتا رضاؔ، سکندر حسین فہیمؔ، خنداںؔ لکھنوی، زاہدؔ جلال پوری، شجاع علی شجیعؔ، میر ہاشم حسین حزیںؔ، علامہ اخترؔ زیدی، اعظم رضوی، باقرؔ منظور، گوپی ناتھ امنؔ، اثرؔ جائسی، زارؔ عظیم آبادی، حمیدؔ الیاس، ریاضؔ جرولی، اختر حسین سروشؔ، منتقم سنبھلی، احسنؔ طباطبائی، ثمرؔ ہلوری، فردوسیؔ عظیم آبادی، ہوشؔ عظیم آبادی، اقبالؔ غازی پوری، فاضلؔ امروہوی، ناشرؔ نقوی، سید مرتضیٰ رضوی اظہرؔ، ساغرؔ لکھنوی، احسنؔ صفی پوری، شمیمؔ فیض آبادی، گرچرن داس شہیدؔ، اثرؔ جونپوری، رضاؔ امروہوی، علی اکبر کاظمیؔ، راجہ قاسم علی خاں شمیمؔ (راجہ پنڈراول) عارفؔ کشٹوائی، افسر علی بقاؔ، مسز مستحسنؔ زبیری، بدرؔ عظیم آبادی، مہدی حسین ہمدردؔ، حکیم عسکری حسن رضوی، انور نواب انورؔ، ریحانؔ امروہوی اور بعض دوسرے شعرا۔

لکھنو میں اس وقت تعشقؔ کی یادگار حضرت مہذبؔ لکھنوی ہیں۔ مجھے ان سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا ہے مہذبؔ صاحب کی ذات اب بھی سرمایہء علم و فن ہے، لکھنو کے ایک مرثیہ گو شاعر محمد عسکری جدیدؔ نے مرثیے کے ایک مصرعے میں بالکل صحیح فرمایا ہے کہ ؎

لکھنواب بھی مہذب کی بنا ہے جاگیر

لیکن مرثیے کے میدان میں لکھنو کی جس ادبی جاگیر کے وہ محافظ ہیں اس کا تعلق قدیم طرزِ مرثیہ گوئی سے ہے۔ ان کے مرثیوں میں جدید طرزِ احساس کی بہت مدھم سی روشنی نظر آتی ہے۔

تقسیم کے بعد ہندوستان میں اگر کسی نے جدید مرثیے کو سہارا دیا ہے تو وہ عظیمؔ امروہوی ہیں۔ عظیم صرف مرثیہ نگار ہی نہیں، مرثیے کے ایک باصلاحیت محقق اور نقاد بھی ہیں۔ اگرچہ وہ ہندوستان میں رہتے ہیں لیکن پاکستان میں مرثیے کے شائقین ان کے مرثیے کے فن سے بخوبی واقف ہیں۔

گزشتہ ادوار میں پاکستان میں جدید مرثیے کی تاریخ میں کئی ناموں کا اضافہ ہوا۔ کراچی کے مرثیہ گویوں میں رئیس امروہوی، شوکتؔ تھانوی، امیر امام حُرؔ، مصطفےٰ زیدی، کرارؔ نوری، بنیادؔ تیموری، شاہدؔ نقوی، راغبؔ مراد آبادی، کرارؔ جونپوری، سردارؔ نقوی، عزمؔ جونپوری، ظریفؔ جبل پوری، ظفر جونپوری شاداںؔ دہلوی، حسینؔ اعظمی، تابشؔ دہلوی، امیدؔ فاضلی، اطہرؔ جعفری، رعناؔ اکبر آبادی، فیضؔ بھرت پوری، بدر الہ آبادی، یاورؔ اعظمی، رحمنؔ کیانی، حکیم محمد اشرفؔ، سالکؔ لکھنوی، عباسؔ مشہدی، ساحرؔ لکھنوی، علامہ طالبؔ جوہری، فضلؔ فتح پوری، کوثرؔ الہ آبادی، نظرؔ جعفری، تاثیرؔ نقوی، نصیرؔ بنارسی، وقارؔ سبز واری، حکیم ندیمؔ، سید شاکرؔ علی جعفری، بیدارؔ نجفی، میر رضی میرؔ، سبطینؔ نقوی، خمارؔ فاروقی، قسیمؔ ابن نسیم، ذہینؔ جعفری، نعیمؔ تقوی کے نام سامنے آتے ہیں۔ لاہور کو جدید مرثیے کی فضا سے روشناس کرانے میں قیصرؔ باہروی سرفہرست ہیں۔ لاہور کے دوسرے مرثیہ گو شعرا میں قابل ذکر نام یہ ہیں ڈاکٹر صفدر حسین صفدرؔ، وحید الحسن ہاشمیؔ سہیلؔ بنارسی، ڈاکٹر مسعود رضا خاکیؔ، ضیاء اللہ ضیاءؔ، سیفؔ زلفی، ظفرؔ شارب، اثرؔ ترابی، ظہورؔ جارچوی اور قائم علی فانی۔ پاکستان کے دوسرے شہروں کے وہ مرثیہ گو جن کا کلام میری نظروں سے گزرا ہے ،ان میں بہاول پور کے آغا سکندر مہدیؔ، بھکر کے خلش پیرا صحابی، کوئٹہ کے اثرؔ جلیلی ، سرگودھا کے تاجَ دار دہلوی، جھنگ کے ظہیر الدین حیدرؔ، خیرپور کے سید حسن احمد زبیری حسن،ؔ لاڑکانہ کے جوہر نظامی اور راول پنڈی کے پروفیسر فیضی، صفی حیدر دانش اور نشاطؔ مقبول قابل ذکر ہیں۔

اردو مرثیہ جس نے ذکر کی منزل سے اپنا سفر شروع کیا تھا وہ فکر کی منزل میں ایک ایسے منصب پر فائز ہوگیا، جسے دوسری اصنافِ سخن کے درمیان با آسانی پہچانا جاسکے گا، جدید مرثیہ نگار نے عصرِ حاضر کے معاشرتی، معاشی اقتصادی، عمرانی اور سیاسی معاملات سمجھ کر مرثیہ لکھا ہے آج کے مرثیے پر Stagnation کا الزام نہیں لگایا جاسکتا۔ آج کے مرثیے میں زندگی کا وہ تمام شعور نظر آتا ہے، جس سے ہم گزر رہے ہیں، آج کے مرثیے میں عزم و عمل پر جس قدر زور دیا گیا، وہ اس سے پہلے نظر نہیں آتا۔ قدیم مرثیہ نگار نے یزید اور اس کے خامیوں کی بدکرداری اور بداعمالی سے نقاب اٹھائی، لیکن جدید مرثیہ نگار نے ہمیں یہ حوصلہ دیا ہے کہ ہم خود اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھ سکیں تاکہ اسلام، رسولؐ اور حسینؓ کے ماننے والوں کو اپنی خامیوں کا بھی اندازہ ہو۔

مرثیہ نگاری کی تاریخ کاایک اہم واقعہ فیض احمد فیض کا میدان ِمرثیہ گوئی میں قدم رکھنا ہے۔فیضؔ کا مرثیہ اتنا ہی اہم نہیں، جتنا کہ خود فیضؔ کا مرثیہ گوئی کے میدان میں آنے کا واقعہ اہم ہے، ان کے مرثیے میں کلاسکیت کا رچائو خوب خوب ملتا ہے اور ان کے مخصوص لہجے کی آواز صاف سنائی دیتی ہے ؎

اک گوشے میں اُن سوختہ سامانوں کے سالار

ان خاک بسر، خانماں ویرانوں کے سردار

تشنہ لب و درماندہ و مجبور و دل افگار

اس شان سے بیٹھے تھے شہِ لشکرِ احرار

مسند تھی ،نہ خلعت تھی، نہ خدام کھڑے تھے

ہاں تن پہ جدھر دیکھئے، سوزخم سجے تھے

جدید مرثیہ نگار شعرا کے کاں کربلا کے تاریخی پس منظر پر بہت زور دیا گیا۔ واقعہ کربلا کے ظہور پذیر ہونے کے اسباب پر استدلال، فکری اور سیاسی جائزہ لے کر جدید مرثیہ گو نے ہمیں فکر کے ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ہم اقدام حسینؓ کے برحق ہونے کے عمل کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں کربلا کے اس پس منظر کے متعلق راقم الحروف کے مختصر جدید مرثیے ’’قندیل‘‘ کاایک بندملاحظہ فرمایئے ،جس میں عصرِ نو کا چہرہ بھی جھانکتا ہوا نظر آتا ہے۔

راہ تاریک ہوئی ،موت نے پائوں چومے

درِ امراض پہ شل ہو کے ،گرے سر گھومے

فکر، تہذیب کو کھانے لگی دیمک کی طرح

ظلمتِ جہل کے سرطان زدہ جرثومے

دے کے پیغامِ قضا ،موجِ لہو آنے لگی

دہنِ وقت سے، بارود کی بو آنے لگی

اس منزل پر ہندوستان و پاکستان کے بعض جدید مرثیہ گو شعراء کے بندوں کے حوالے بھی دیئے جاتے ہیں، اس سے اندازہ ہوسکے گا کہ آج کا مرثیہ گو ،کربلا فہمی، حسین ؓشناسی، انقلاب دوستی، صبر پسندی کی جدید شعوری رو کو کس طرح اپنے مرثیے کے رگ و پے میں دوڑا رہا ہے۔

شاہد نقوی

کربلا ہے آج بھی معیارِ فکرِ معتبر

کربلا تک جا کے رک جاتا ہے ہرتارِ نظر

کربلا ہے آج بھی اہلِ وفا کی راہ پر

کربلا والے کھڑے ہیں زیست کے ہر موڑ پر

کربلا ہر تیرگی میں مطلعِ انوار ہے

ساری دنیا سورہی ہے، کربلا بیدار ہے

سردار نقوی

پھر میکدے میں عام ہے ،تخصیصِ خاص و عام

پھر زندگی کے لطف سے محروم ہیں عوام

پھر رُوبہ انحطاط ہوا، عدل کا نظام

پھر زندگی ہے زیست کی، محرومیوں کا نام

بکتا ہے علم، پھر سرِ بازار ان دنوں!

ہیں رہنِ تشنگی، ترے میخوار ان دنوں!

امید فاضلی

وہ حسینؓ ابنِ علیؓ، حق کی وہ روشن قندیل

راکبِ دوشِ نبیؐ، سروقدِ باغِ خلیلؑ

دیکھ کر اُس کی طرف، جھوم اٹھے اسمعیلؑ

اس کا ہر قطرئہ خوں، عظمتِ انساں کی دلیل

آدمیت، اسی کردار سے تابندہ ہے

اے اجل، دیکھ حسینؓ ابن علیؓ زندہ ہے

وحید الحسن ہاشمی

یہ رات آبروئے وفا، حریت کی لاج

یہ رات ہے زمیں پہ، مگر آسماں مزاج

تہذیبِ آشتی نے، اسی کو دیا خراج

سجدے ہوئے اسی میں بہ عنوانِ احتجاج

تاروزِ حشر، غالبِ ماضی و حال ہے

اس رات کی جبیں میں حسینیؓ جمال ہے

قسیم امروہوی

ظلمت میں ہے گھرا ہوا، انسان اک طرف

آپس میں پنجہ کش ہیں، مسلمان اک طرف

رکھا ہوا ہے طاق پہ، قرآن اک طرف

بکتا ہے کھوٹے داموں پہ، ایمان اک طرف

ملت میں یہ عجیب سیاست کا دور ہے

بوجہل بھی کہے کہ جہالت کا دور ہے

خمار فاروقی

عرفان و آگہی کی پزیرائی ہے، حسینؓ

بیمار زندگی کی مسیحائی ہے، حسینؓ

ظالم کے حق میں تیغِ شیکبائی ہے، حسینؓ

اللہ کے جلال کی رعنائی ہے، حسینؓ

مالا کسی کو ظلم کا جپنے نہیں دیا

باطل کو اُس نے پھر سے پنپنے نہیں دیا

بیسویں صدی کے شروع میں جدید مرثیے نے جس سفر کا آغاز کیا تھا، اس کی رفتار میں جاہ و جلال کے جتنے پہلو نمایاں ہوئے، اس کے بیشتر رنگ اس تاریخ نے تقسیم کے بعد مرثیہ گوئی سے لیے ہندوستان پاکستان دونوں جگہ کے مرثیہ نگاروں نے بڑی فکر کے ساتھ اس نئے مرثیہ کو سہارا دیا ،آج کے دور میں زندگی نت نئے رنگوں میں ہمارے سامنے آئی ہے آج کا مرثیہ نگار قدیم مرثیہ نگار سے بہت مختلف ہے، وہ معاشی مسائل کا بھی شکار ہے ،اپنے عہد کی سیاست بھی اس کے پیش نظر ہے ،بڑھتی اور پھیلتی ہوئی دنیا کے سماجی پیچ و خم سے وہ باخبر ہے ،جدید مرثیہ ابھی ہم سے بہت سے تقاضے کررہا ہے، آج کا مذاقِ شعری اور مذاقِ فکری بہت بلند ہے، جس کے لیے جدید مرثیہ گو شاعروں کو اپنی نظر میں وہ بلندی پیدا کرنی پڑے گی جو کوہساروں کو بھی شرما سکے۔ بقول حضرت جوشؔ ملیح آبادی؎

بہت بلند ہے، سطحِ مذاقِ فکرِ جدید

نظر میں اوجِ سرِ کوہسار پیدا کر


مکمل خبر پڑھیں