Advertisement

پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ: حکومت مہنگائی کے طوفان پر قابو پاسکے گی؟

May 09, 2019
 

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد عوام تو مجموعی طورپر پریشان ہیں مگر اپوزیشن احتجاج کرکے حکومت کو ناکام قرار دینے میں مصروف ہے۔ آئی ایم ایف کے مصر میں سابق عہدیدار پاکستانی شہر ی باقر رضا نے گورنر سٹیٹ بنک کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے نت نئے تجربات کررہے ہیں۔ معاشی تجزیہ نگاروں کا دعویٰ ہے کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا طوفان اٹھے گا جو پاکستان کے آدھے عوام کو دو وقت کی روٹی سے بھی محروم کرد ے گا۔سینئر پارلیمنٹرین اور سابق وفاقی وزیر چودھری نثار علی خان کاکہنا ہے کہ اکتوبر میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ عدالت عظمیٰ سے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کو چھ ہفتے کی رہائی کے بعدمزید ریلیف نہ ملنے پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے پبلک اکاونٹس کمیٹی اور پارلیمانی لیڈر کا عہدہ چھوڑ دیا۔ رانا تنویر کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چیئرمین جبکہ خواجہ محمد آصف کو مسلم لیگ (ن) کا پارلیمانی لیڈر مقرر کردیاگیا ہے۔ یہ افواہیں زوروں پرہیں کہ شہباز شریف اب لندن سے واپس نہیں آئیں گے۔ نیب شہباز شریف فیملی کیخلاف بھی چھبیس ملین ڈالر کے جعلی اکاونٹس کا سراغ لگا چکی ہے اس لئے اپوزیشن لیڈر علاج کے بہانے لندن میں ہی ٹکے رہیں گے ادھر مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ ایک توجہ طلب معاملہ ہے شہباز شریف پارٹی مصروفیات اور نیب مقدمات کی وجہ سے بھرپور توجہ نہیں دے سکتے اس لئے اس عہدے پر رانا تنویر کو نامزد کردیا گیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر اور پارٹی سربراہ کی حیثیت سے شہباز شریف فرائض ادا کرتے رہیں گے دو ہفتے میں وطن واپس لوٹ آئیں گے۔ شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) جنرل کونسل کی طرف سے دئیے گئے مینڈیٹ کے تحت مسلم لیگ (ن) کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کاا علان کردیا ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو پارٹی کا سینئر نائب صدر مقرر کردیاگیا ہے جبکہ سولہ نائب صدور کی فہرست میں سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کے نام بھی شامل ہیں۔ پنجاب کی صوبائی قیادت رانا ثناء اللہ کو د ے دی گئی ہے۔سردار اویس لغاری صوبائی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے فرائض انجام دیں گے۔ سندھ اورکراچی کے عہدیداروں کی بھی نامزدگی کردی گئی ہے۔ حالیہ تنظیم سازی میں کے پی کے، بلوچستان ،آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی تنظیموں کو نہیں چھیڑا گیا۔ عدالت عظمیٰ سے نواز شریف کو ریلیف نہیں ملا جس کی وجہ سے فی الوقت وہ تمام افواہیں دم توڑ گئی ہیں کہ نوا ز شریف کو لندن بھیجنے کیلئے معاملات طے پاگئے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان تو کہتے ہیں کہ این آر او لینے اور دینے والے پر لعنت، مگر حکومتی حلقے آج بھی دعویدار ہیں کہ معاملہ ادائیگی کا ہے۔ نواز شریف کو ریلیف تب ہی ملے گا جب ادائیگی ہوگی، بعض تجزیہ نگاروں کاکہنا ہے کہ مقتدر حلقے بھی اب نواز شریف فیملی کو پلی بارگین دینے کے حق میں ہیں تاکہ عمران خان کی حکومت مہنگائی اور بے روزگاری کا حل نکالنے میں کامیاب ہوسکے ،ادھر (ن) لیگ کا الزام ہے کہ ملک نئی ایسٹ انڈیا کمپنی کے حوالے کردیا گیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے موجودہ معاشی بحران کا واحد حل شفاف و آزادانہ انتخابات کو قرار دے دیا ہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ جتنا جلد کرلیا جائے گا معیشت اتنی جلدی سنبھالی جاسکتی ہے۔ پاکستا ن مسلم لیگ (ن) کا بیانیہ آج بھی وہی ہے کہ ملک آئین و قانون کے مطابق چلناچاہیے۔ تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر ملک کی ترقی اورعوام کی خدمت کریں ۔شاہد خاقان عباسی نے سیاسی فلسفہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سیاستدان کا مستقبل نہ آمر طے کرسکتا ہے نہ کوئی قانونی عدالتی فیصلوں سے ہوتا ہے وہ عوام کے دل کی آواز ہے ،نواز شریف عوام کے دلوں میں رہتے ہیں اور آج بھی ملکی سیاست کا محور ہیں، لیڈر آف اپوزیشن بھی وہی ہیں اور پارٹی کے روح رواں بھی وہی ہیں، ووٹر بھی انہیں ہی دیکھتا ہے۔ پاکستا ن مسلم لیگ (ن) کے سنیئر نائب صدر کی طرف سے نئے انتخابات کی بات سے مولانا فضل الرحمن کے موقف کو تقویت ملی ہے اور اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بھی اس موقف پر آن ملے، تمام اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہوگئی ہیں کہ حکمران جماعت عوامی مینڈیٹ سے نہیں بلکہ سلیکشن سے لائی گئی ہے۔ اپوزیشن کے بعض رہنما یہ خدشات بھی ظاہر کررہے ہیں کہ مستقبل قریب میں ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کو نیب کی طرف سے ایک اور جھٹکا دئیے جانے کا امکان ہے۔ شہباز شریف ،حمزہ شہباز اور شاہد خاقان عباسی کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو بھی پابند سلاسل کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی حلقے کہتے ہیں رمضان المبارک میں افطاریوں پر سیاسی سٹیج لگتے رہیں گے مگر رمضان المبارک کے بعد شاید بات سڑکوں پر پہنچ جائے۔ ایک طرف مولانا فضل الرحمن عوام رابطہ مہم میں مصروف ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی چاروں صوبوں میں متحرک ہیں جبکہ جماعت اسلامی پاکستان رمضان المبارک کے بعد ملک گیر عوام رابطہ مہم کا عندیہ دئیے بیٹھی ہے۔صرف مولانا فضل الرحمن ہی نہیں وزیراعظم کے قریبی دوست چودھری نثار علی خان ملکی حالات پر پریشان ہیں اور صورتحال کو 1971 سے بھی زیادہ خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ چودھری نثار علی خان پنجاب اسمبلی کا حلف صرف اس لئے نہیں اٹھارہے کہ ان کا یہ اقدام وزیراعظم عمران کو ملنے والے مینڈیٹ کی تصدیق کے مترادف ہوگا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کاکہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کو کرپشن کے الزام میں جیلوں میں ٹھوسنے کے خواہاں ہیں جبکہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں پانچ برسوں کیلئے مینڈیٹ ملا ہے، تحریک انصاف کو حکومت کرنے دی جائے۔ معاشی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے قرضوں کے باوجود گزارہ کسی حد تک بیرون ملک آباد پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر سے چلتا رہا ہے ۔ دوہزار اٹھارہ ، انیس مالی سال کے پہلے نو ماہ میں سمندر پار پاکستانی وطن عزیز میں سولہ ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلات زر بھیج چکے ہیں۔ چین سے ملنے والی حالیہ رعایتوں کے نتیجہ میں ٹریڈ خسارہ کم ہونے کا امکان ہے جس سے جکڑی ہوئی معیشت کوکھل کر کھیلنے کا موقع ملے گا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کاکہنا ہے کہ معیشت کوکھل کر کھیلنے کا موقع اسی وقت ہی ملتا ہے جب ملک میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہو۔ راولپنڈی میں رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد پشاور سے کراچی تک دو رویہ ریلوے ٹریک کے منصوبے پر پاک چین معاہدے پر بہت خوش ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ دو رویہ ریلوے ٹریک اور نالہ لئی کے دونوں طرف سگنل فری ایکسپریس وے ان کی زندگی کی آخری خواہش ہے۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ شیخ رشید احمد کی لال حویلی پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس عباد الرحمن لودہی کے حکم کے باوجود راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت راولپنڈی سڑکوں پر تجاوزات ختم نہ کراسکی۔


مکمل خبر پڑھیں