Advertisement

مطالعے کی عادت عمر میں اضافہ کرتی ہے

August 18, 2019
 

معروف امریکی مصنف جارج ریمنڈ رچرڈ مارٹن کہتے ہیں،’’کتابیں پڑھنے والا شخص مرنے سے پہلے ہزاروں زندگیاں جیتا ہے، جبکہ کتابیں نہ پڑھنے والا شخص صرف ایک زندگی جیتا ہے‘‘۔

اگر آپ کتابی کیڑے ہیں تو یہ جان کر آپ کو انتہائی خوشی ہوگی کہ سوشل سائنس اینڈ میڈیسن نامی بین الاقوامی جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹمیں کہا گیا ہے کہ کتابیں پڑھنے والے لوگ ان افراد کے مقابلے میں لمبی زندگی پاتے ہیں، جو کتابیں نہیںپڑھتے۔ یہ تحقیقی رپورٹ ییل یونیورسٹی کی جانب سے جاری کی گئی ہے، جس میں 50سال سے زائد عمر کے 3,635افراد سے ان کی کتابیں پڑھنے کی عادات سے متعلق پوچھا گیا تھا۔ تحقیق میں رضاکارانہ طور پرشامل ہونے والے افراد کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا:کتابیں نہ پڑھنے والے لوگ، ایسے لوگ جو ہفتے میں ساڑھے تین گھٹنے سے کم وقت کتابیں پڑھتے ہیں اور وہ لوگ جو ہفتے میں ساڑھے تین گھنٹے سے زیادہ وقت کتابیں پڑھتے ہیں۔ محققین نے ان افراد سے 12سال تک فالواَپ بھی کیا۔ 12سال کی مسلسل تحقیق سے ہر بار ایک ہی بات ثابت ہوئی، وہ یہ کہ کتابیں پڑھنے والے لوگ زیادہ جیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، کتابیں پڑھنے والے افراد میں بھی تین طرح کے لوگ زیادہ کتابیں پڑھتے ہیں: وہ جن کی آمدنی زیادہ ہوتی ہے یعنی’’ہائی انکم‘‘ گروپ سے تعلق رکھنے والےافراد، وہ لوگ جنھوں نے کالج تک تعلیم حاصل کی ہوئی ہو اور خواتین۔

ایک باب روزانہ، زندگی میں مہینوں کا اضافہ

تحقیق میں شامل ساڑھے تین ہزار سے زائد افراد کو ایک سوال نامہ دیا گیا تھا، جس میں دیگر سوالات کے ساتھ ایک سوال ان کی کتابیں پڑھنے کی عادتوںسے متعلق بھی تھا۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق، وہ لوگ جو کتابیں پڑھتے ہیں، ان لوگوں کے مقابلے میں دو سال زیادہ جیتے ہیں، جو کتابیں نہیںپڑھتے۔ جو لوگ روزانہ ساڑھے تین گھنٹے تک کتابیں پڑھتے ہیں، دو دہائیوں کی تحقیق کے دوران ایسے افراد میں اموات کی شرح 17فی صد کم دیکھی گئی ہے، جبکہ وہ لوگ جو کتابیں پڑھنے کو روزانہ ساڑھے تین گھنٹے سے زیادہ وقت دیتے ہیں، ان میں اموات کی شرح 23فی صد کم ریکارڈکی گئی ہے۔ ان اعدادوشمار سے ایک دلچسپ حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ تحقیق کے نتائج کا ان افراد کی صحت، روزگار، جنس یا ازدواجی حیثیت سے کوئی تعلق نہیں۔

مطالعے کی عادت اور لمبی عمر

مطالعے کے دوران کوئی بھی شخص ایک جگہ بیٹھے رہتا ہے، جس کی بنا پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس سے نا تو انسان کا میٹابولزم متحرک ہوتا ہے اور نا ہی یہ جسمانی طور پر فٹ رہنے کا کوئی نسخہ ہے۔ تاہم، کتابیں پڑھنے کے نفسیاتی اثرا ت انتہائی گہرے ہوتے ہیں اور دماغی صلاحیتوں پر اس کے مثبت اثرات پڑتے ہیں۔ دماغ کے کچھ حصے زیادہ متحرک ہوجاتے ہیں اور عصبی نظام بہتر کام کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک اچھا ناول پڑھنے کو دماغی مساج سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔

یہ سمجھنے کے لیے کہ کتابیں پڑھنے والے افراد متوقع طور پر لمبی زندگی کیوں پاتے ہیں؟ یہاں یونیورسٹی آف سسیکس کی 2009ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دینا سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔ اس رپورٹمیںیونیورسٹی آف سسیکس کے محققین اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ کتابیں پڑھنے کی سرگرمی کم از کم 68فی صد افراد کے دباؤ (اسٹریس) میں کمی کا باعثبنتی ہے۔ اس رپورٹمیں کہا گیا تھا کہ صرف 6منٹتک مسلسل کتاب پڑھنے سے بلڈ پریشر اور ہارٹ ریٹمیں کمی آنا شروع ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس موسیقی سُننے اور واک کرنے کو سب سے کم مؤثر سرگرمی قرار دیا گیا تھا۔

یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب ہم کوئی دلچسپ کتاب پڑھتے ہیں تو ہماری پوری توجہ اس کتاب پر مرکوز ہوجاتی ہے اور ہم اپنی دنیاوی پریشانیاں بھول جاتے ہیں۔ اس لیے کتاب پڑھنا، ذہنی دباؤ سے آزادی حاصل کرنے کا سب سے بہترین نسخہ ہے اور غالباً یہی وہ وجہ ہے جس کے باعثییل یونیورسٹی کی تحقیق بتاتی ہے کہ کتابیں پڑھنے والے افراد ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ زندگی پاتے ہیں، جو کتابیں نہیں پڑھتے۔

کتابیں پڑھنے کا عمل اور سائنس

کتابوں سے پیار کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ اس میں 2ادراکی (Cognitive)عمل متحرک ہوتے ہیں:گہری پڑھائی اور جذباتی ربط۔ کتاب کو گہرائی کے ساتھ پڑھنا ایک ایسا عمل ہوتا ہے، جہاں قاری سست روی کے ساتھ پڑھتے ہوئے کتاب میں گم ہوجاتا ہے اور اسے کتاب کے سیاق و سباق کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا کی نظر سے بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ جذباتی ربط اس وقت پیدا ہوتا ہے ، جب قاری میں کتاب کے کرداروں کے ساتھ ہمدردی پیدا ہونے لگتی ہے۔ جذباتی ربط کا تعلق بنیادی طور پر سماجی تصور اور جذباتی ذہانت کے ساتھ ہوتا ہے۔

یہ تحقیق ایسے افراد پر کی گئی ہے، جو فزیکل (جِلدی) کتابیں پڑھتے ہیں اور اس میں الیکٹرانک کتابوں (ای بُکس) کو شامل نہیں کیا گیا۔ تاہم اس بات سے قطع نظر کہ آپ کتابیں کس فارمیٹ میں پڑھتے ہیں، ییل یونیورسٹی کی تحقیق کتابیں پڑھنے والوں کو ایک نیا مقصد دینے اور زیادہ کتابیں پڑھنے کے لیے جوش اور ولولہ پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔


مکمل خبر پڑھیں