Advertisement

گوگل لینس، ترجمہ سازی میں ایک انقلابی پیش رفت

September 01, 2019
 

اگر آپ تاریخ کے طالب علم یا سیروسیاحت کے شوقین ہیں اور ملکوں ملکوں گھوم کر غیر ملکی زبانوںمیںوہاں کے کلچر اورآثار قدیمہ کی چھان بین کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے اس مشن میں عموماً ایک بڑی رکاوٹ غیر ملکی زبان سے ناواقفیت ہوتی ہے، جس کیلئے آپ کوئی ترجمان (انٹرپریٹر) یا گائیڈ کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ لیکن اب چونکہ زمانہ ترقی کرگیاہے تو ایسے میںآپ کا موبائل فون اور اس میںموجود گوگل لینس فیچر آپ کی بہت مدد کرسکتا ہے۔ آپ نے بس کسی بھی غیر ملکی زبان پر گوگل لینس کو فوکس کرنا ہے، وہ جھٹ سے اس کا ترجمہ کرکے آپ کے سامنے لے آئےگا، اس طرح زبان سے واقف نہ ہونے کا مسئلہ چٹکی بجاتے حل ہو جائے گا۔

2006ء میں گوگل نے ’’ گوگل ٹرانسلیٹ ‘‘ نامی ایک ایپ متعارف کروائی تھی، جو آن لائن مشین ٹرانسلیشن کے طور پر واحد ایپ تھی اور بہت مقبول بھی ہوئی۔ مگر جوں جوںموبائل فون اسمارٹ سے اسمارٹ تر ہوتا گیا، گوگل کی ایپلی کیشن نے متن (Text) اور تصویروں کے ذریعے غیر زبان کو آپ کی اپنی زبان میںڈھالنے کا کام آسان بنا دیا۔

ترجمہ سازی کی دنیا میں گوگل لینس بھی مقبول عام ہے اور اس کے ذریعے کسی بھی زبان کا ترجمہ کرنا انتہائی آسان ہو جاتاہے، اس کیلئے آپ کو ٹیکسٹ ٹائپ کرنے یا کاپی پیسٹ کرنے کی ضرورت بھی نہیںہوتی ۔ بس آ پ نے اپنے موبائل فون کے کیمرے کو کسی بھی جرمن، چینی یا جاپانی زبان پر فوکس کرنا ہوتاہے اور گوگل لینس اس زبان کو آپ کی زبان میںترجمہ کردے گا۔ گوگل نے اس فیچرکا اعلان رواںبرس سالانہ آئی او ڈویلپرز کانفرنس کے دوران کیا تھا، جس میںلینس فیچر پر کافی زیادہ توجہ مرکوز رکھی گئی تھی۔ گوگل کے اس نئے ویژول سرچ ٹو ل یعنی گوگل لینس کے فیچر کا فائدہ آپ کو بالخصوص کسی بھی غیر ملکی ریستوران میں خوب ہوگا ، یعنی جب آپ کسی بھی ریستوران جائیں گے تو گوگل لینس اس کے مینو کو آگمینٹڈ ریئلٹی (AR) کے ذریعے ہائی لائٹ کردے گا۔

گوگل لینس میں اینٹری لیول کی ایک اور سرچ ایپ بھی ہے، جس سے صارفین کیمرے کی مدد سے کسی بھی اشارے کا تحریری ترجمہ حاصل کرنے کے قابل ہو سکیںگے۔ یہ ٹول کسی بھی زبان کی تحریر کو گوگل لینس کے ذریعے آپ کی پسند یدہ یا مادری زبان میں تبدیل کرتا ہے، اس فیچر میں 100مختلف زبانوںکو شامل کیا گیا ہے۔

آپ کو یہ بات جان کر خوشی ہوگی کہ کچھ عرصہ پہلے گوگل اردو ٹائپنگ کا فیچر بھی متعارف کرواچکا ہے، یعنی آپ کے اردو میںبولے گئے جملوں کو بھی گوگل سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آپ گوگل کی مدد سے اپنے اینڈرائڈ فون پر موجود گوگل کروم کو اردومیںہدایات دے سکتے ہیں اور بول کر ٹائپ بھی کرواسکتے ہیں، جبکہ انگریزی زبان میں بول کر اسمارٹ فون یا کمپیوٹر کو ہدایات دینے یا ٹائپ کرانے کی صلاحیت برسوں سے موجود ہے۔

کمپنی نے اس فیچر کے حوالے سے اپنی بلاگ پوسٹ میں اسے Type Less, Talk Moreکا نام دیا تھا اور کمپنی نے 119 زبانوں میںوائس ٹائپنگ کی سہولت دینے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس فیچر سے دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ ٹائپنگ کے بجائے صرف بول کر اپنا وقت بچا سکیں گے۔ چونکہ اس فیچر کے لئے آپ کی آواز کا صاف اور شفاف ہونا ضروری ہوتا ہے ، اس لئے شور اور رش کی وجہ سے آپ کو چیخ کر بھی بولنا پڑتا ہے ،بعض اوقات اس کی وجہ سے آپ کو شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔

اگر آپ گوگل پر اردو وائس ٹائپنگ کی سہولت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو پلے اسٹور سے گوگل بورڈ (Gboard)انسٹال کرنا ہوگا ، اس کے بعد اس کی سیٹنگ میںجاکر اردو زبان منتخب کرنی ہوگی۔ ایسا کرنے کے بعد جب چاہیں، جہاں چاہیں کِی بورڈ پر نظر آنے والے مائیک کے آئیکون پر ٹیپ (Tap) کریںاور اردو میںبولیں، آپ کے بولے گئے جملے گوگل اپنے آپ ٹائپ کردے گا۔

شاید ہی کوئی ایسا صارف ہو جس نے گوگل ٹرانسلیٹ ایپلی کشن استعمال نہ کی ہو، اگر آپ اپنے سابقہ تجربے کی بنا پر اس ایپلی کشن کی صلاحیت سے نالاںہیںتو گوگل نے اپنی اس ایپلی کیشن کو پہلے سے بہتر کرلیا ہے اور اس میں بہت سی زبانوںکی سپورٹ بھی شامل کی جاچکی ہے۔ اس کے ڈویلپرز کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود نصف سے زائد صفحات انگریزی زبان میں ہیںجبکہ دنیا بھر میں انگریزی زبان سمجھنے والے افراد کی تعداد صرف 15 فی صد ہے۔ گوگل کے مطابق کروم پر ایک ٹیپ سے 150ملین ویب پیج ٹرانسلیٹ ہو جاتے ہیں۔ گوگل ٹرانسلیٹ نے اپنی تازہ ترین اَپڈیٹ میں9مزید زبانوں کو بہتر کیا ہے۔ اس کی نیورل مشین ٹرانسلیشن میں چھوٹے چھوٹے جملوں کے بجائے مکمل فقروںکا ترجمہ کیا جاتا ہے۔

وکی پیڈیا کے کونٹینٹ ٹرانسلیشن کی بات کی جائےتو اس کا ٹول کسی بھی مضمون کا ابتدائی مشینی ترجمہ کرتا ہے، پھر ایڈیٹر اس ترجمہ کا جائزہ لیتے ہیں اور امیںمزید بہتری لاتے ہیں۔ 2015ءکے اختتام تک اس ٹول سے30ہزار صفحات بنائے گئے تھے اور آ ج ان کی تعداد4 لاکھ سے زائد ہوچکی ہے۔ وکی پیڈیا کے انگریزی زبان کے علاوہ 300مختلف زبانوں میں الگ الگ ورژن بھی موجود ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں