Advertisement

حلال ذبیحہ جانور کے مکروہ اجزا کا حدیث سے ثبوت

September 06, 2019
 

تفہیم المسائل

سوال: حلال جانور کے سات اعضاء مکروہ تحریمی ہیں، کیا کسی حدیث میں اس کا حوالہ موجود ہے، آپ سے استدعا ہے کہ متذکرہ مسئلے کا حل حدیث پاک کی روشنی میں بیان فرمائیں، اس کے علاوہ کن اعضاء کے استعمال میں کراہت پائی جاتی ہے ؟(حافظ فقیراللہ ،صادق آباد )

جواب: حدیث پاک میں ہے :ترجمہ:’’ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ذبیحہ جانور کے سات اعضاء کو مکروہ فرماتے تھے ،وہ سات یہ ہیں: مُرارہ (پِتّہ) ،مثانہ،حیاء (شرم گاہ )،ذَکَر(عضوتناسل)،خُصیے ،غدود اور ذبح کے وقت بہنے والاخون اور آپ ﷺ کو بکری کے ذبیحہ کااگلا حصہ (یعنی دستی اور گردن) پسند تھا ‘‘۔(سُنن الکبریٰ للبیہقی:19702،بیروت)

حلال جانور کے جسم کے سات اعضاء کو حرام بتایا گیا ہے ،جن کی تفصیل درج ذیل ہے: (۱) دمِ مسفوح یعنی ذبح کے وقت بہتا ہوا خون (۲،۳) نرومادہ کی شرمگاہ (۴) خصیتین (کپورے) (۵) پیشاب کا مثانہ (۶) پِتَّہ (۷) غدود ،اس سے مراد حلال جانور کی جلد اور گوشت کے درمیان ابھرا ہوا سخت گوشت جو کسی بیماری کے سبب گلٹی کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔علامہ نظام الدین رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’حلال جانور کے ان اجزاء کا بیان جن کا کھانا حرام ہے ،وہ سات ہیں: (ذبح کے وقت )بہنے والا خون، ذکر ، خُصیے، شرمگاہ ،غدود ،مثانہ اور پِتَّہ ،’’بدائع الصنائع‘‘ میں بھی اسی طرح ہے (فتاویٰ عالمگیری ،جلد5،ص:290)‘‘۔ان میں سے ’’دمِ مسفوح‘‘ حرامِ قطعی ہے کیونکہ یہ نصِّ قرآنی سے ثابت ہے اور باقی چیزیں مکروہِ تحریمی ہیں۔امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز سے سوال ہواکہ ’’ ماکول اللحم‘‘ یعنی جس جانور کو ذبح کرکے گوشت کھانا شرعاً حلال ہے ،اس میںکیا کیاچیزیں مکروہ ہیں‘‘ ؟ آپ نے جواب میں مذکورہ حدیث کے حوالے سے لکھا : ’’سات چیزیں تو حدیثوں میں شمار فرمائی گئیں :(۱) مرارہ یعنی پِتَّہ (۲)مثانہ یعنی پھنکنا (۳) حیایعنی فرج (۴) ذکر(۵)انثیین (۶) غُدّہ (۷) دَم مسفوح ( ذبح کے وقت بہنے والا خون) ۔اس کے بعد آپ نے ’’المعجم الاوسط لِلطِّبرانی‘‘کی حدیث نمبر9484کا حوالہ دیا ،جو عبداللہ بن عمرو ؓاور ابن عدی ؓسے روایت ہے اور ’’سننِ بیہقی‘‘ کی مذکورہ بالا حدیث کا حوالہ دیا‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد20،ص:234)

(…جاری ہے…)


مکمل خبر پڑھیں