Advertisement

آہ ……

September 10, 2019
 

حُسین ابنِ علی کی داستاں آہ

ہم اُن کے غم کریں کیسے بیاں آہ

نہیں جو ہر کس و ناکس کے بس میں

اُنھیں درپیش تھا وہ امتحاں آہ

ہمیں ہو کربلا کا ذکر مقصود

تو بس فریاد کرتی ہے زباں آہ

ہُوا دسویں محّرم کو زمیں پر

غضب کا ظلم زیرِ آسماں آہ

پیمبرؐ کے نواسے اور پیاسے!

وہاں گو ایک دریا تھا رواں آہ

کَٹے عبّاس کے بازو، چھدی مَشک

سکینہ کے لئے پانی کہاں آہ

بچے اصغر نہ اکبر ظالموں سے

گئے کیا نونہال و نوجواں آہ

نہ کیوں عون و محمد کے لئے روئیں

کہ زینب بھی تھیں آخر ایک ماں آہ

جو ہیں پروردۂ خاتونِ جنت

اُٹھائیں دُکھ پہ دُکھ وہ بی بیاں آہ

شعورؔ اُف قصّۂ شامِ غریباں

وہ خیمے، آگ اور اٹھتا دھواں آہ


مکمل خبر پڑھیں