Advertisement

کے پی کے میں پولیس بہتر،قانون سازی جاری، بہتری نظر آئیگی، شہباز گل

September 10, 2019
 

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے مارننگ شو ’’جیو پاکستان‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب شہباگل نےکہا ہے کہ کے پی کے میں پولیس بہتر ہوئی ہے ،قانون سازی جاری ہے ،بہتری نظر آئے گی،ماہر تعلیم سید عابدی نے کہا کہ طلبہ کو کینیڈا کی جانب سے تین چار ہفتوں میں ویزا جاری کردیا جائیگا ۔کینیڈاکے اس اقدام سے پاکستانی طلبہ بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں ،پولیس کانسٹیبل فائزہ نوازنے کہا کہ پولیس والے وکلا کے دباوٴمیں آکر خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں ،تجزیہ کارکامران بخاری نےکہا کہ طالبان کے حوصلے بلند ہیں وہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ حملے بھی کررہے ہیں ۔ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب شہباگل نے کہا کہ کے پی کے میں ڈھائی سال میں پولیس بہتر ہوئی ۔ قانون سازی کی جارہی ہے انشااللہ جلد بہتری نظر آئیگی ۔ وزیراعلیٰ پنجاب وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق شب وروز کام کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود ایک دو ماہ میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہوگا ۔نظام اتنا خراب ہے کہ اس میں بہتری وقت کے ساتھ ساتھ ہی متوقع ہے ۔ناصر درانی صاحب نے کے پی کے میں بہت اچھا کام کیا لیکن ضروری نہیں کہ ہر شخص ہر صوبے میں کارکردگی کا مظاہرہ کرسکے ۔افراد اداروں سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ماہر تعلیم سید عابدی نے کہا کہ طلبہ کو کینیڈا کی جانب سے تین چار ہفتوں میں ویزا جاری کردیا جائیگا ۔کینیڈاکے اس اقدام سے پاکستانی طلبہ بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ہائی کمشنر آف کینیڈا وینڈی گلمور بین الاقوامی طلبہ کا کینیڈا آنا ہمارے لئے بھی فائدے مند ہے کیوں کہ اس سے ہمارے تعلیمی اداروں کی آمدن میں اضافہ ہوگا ۔پاکستان میں مختلف شعبوں کی بڑی شخصیات نے کینیڈا سے تعلیم حاصل کی ہے ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے طلبہ وہاں آئیں اور تعلیم حاصل کریں۔اسٹوڈنٹ ڈائریکٹ اسٹریم کے ذریعے ویزہ افسر کو درخواستیں جلد نمٹانے میں مدد ملے گی ۔ طلبہ کے پاس تعلیمی اخراجات کیلئے مناسب رقم ہونا ضروری ہے ۔پولیس کانسٹیبل فائزہ نوازنے کہا کہ اپنے فرائض انجام دے رہی تھی جیسے ہی وکیل احمد مختار آئے انہوں نے گاڑی پارک کی جس سے ملازم نے درخواست کی کہ اپنی گاڑی پیچھے کرلیں ہمیں تلاشی میں مسئلہ ہوگا جس پر احمد مختار نے جھگڑا شروع کردیا جس کے بعد ملازم کودھکے دیے اور گالیاں دیں ۔وکیل احمد مختار کو میں نے بدتمیزی کرتے ہوئے دیکھا تو انہیں سمجھانے کی کوشش کی جس پر انہوں نے کہا کہ تمہاری کیاحیثیت ہے یہاں تک کہ انہوں نے مجھ پر ہاتھ اٹھا یا ۔واقعے کے گواہ بھی موجود ہیں ۔میں ڈی ایس پی کے سامنے سارا معاملہ پیش کیا پھر ڈی ایس پی نے واقعے کی تصدیق کے بعد ملزم کو حراست میں لے لیا ۔پولیس والے وکلا کے دباوٴمیں آکر خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں ۔ملزم کی ضمانت ہوچکی ہے ۔میرا محکمہ میرے ساتھ ہے لیکن وکلا کے دباوٴ کی وجہ سے خاموش ہے ۔اپنا بھرپور کیس لڑوں گی ۔تجزیہ کارکامران بخاری نےکہا کہ طالبان کے حوصلے بلند ہیں وہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ حملے بھی کررہے ہیں ۔امریکا کا مطالبہ ہے کہ طالبان خود کو جہادی گروپوں سے علیحدہ کرلیں ۔طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات وقتی طور پر منسوخ ہوسکتے ہیں لیکن طالبان مسلسل حملوں کے ذریعے زیادہ فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ کوئی ملک طالبان اور امریکا میں ثالثی نہیں کراسکتا البتہ پاکستان کسی حد تک مذاکرات میں کردارنبھا سکتاہے۔ بیوروچیف لاہوررئیس انصاری نے بتا یا کہ پولیس کلچر تبدیل کرنے کی باتیں 25برسوں سے ہورہی ہیں لیکن کوئی تبدیلی نہ آسکی ۔صوبائی حکومت کی ذمے داریاں ہوتی ہیں لیکن پولیس کارویہ اعلیٰ افسران ہی تبدیل کرسکتے ہیں۔موجودہ آئی جی عارف نوازاچھے افسر ہیں کل فیصلہ ہوا ہے کہ اگر صلاح الدین جیسے واقعات ہوئے تو ڈی پی او جو شہر کا انچارج ہوتا ہے اس پر بھی مقدمہ درج ہوگا ۔پولیس اصلاحات میں ڈی پی او کے کردار پر نظر رکھنا ہوگی ۔تھانوں میں رشوت کا کلچر کم ہوا ہے ،پہلے سے بہت بہتری آئی ہے ۔وزیراعلیٰ پنجاب کے کردار کو وفاقی حکومت اچھی نظر سے دیکھتی ہے انہیں تبدیل کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ مشیر وزیراعلیٰ کے پی کے اجمل وزیر نے کہا کہ پشاور بی آر ٹی میں تاخیر کی وجہ الیکشن تھے کیوں کہ نگران حکومت آچکی تھی ۔وزیراعلیٰ کے پی کے ہر ہفتے پشاور بی آر ٹی پر میٹنگ کرتے ہیں جس میں متعلقہ افراد موجود ہوتے ہیں ۔کام میں تاخیر پر ڈی جی پی ڈے اور،سیکریٹری ٹرانسپورٹ کو عہدے سے ہٹایا گیا ۔ پشاور بی آرٹی سے لوگوں کو وقتی طور پر تکلیف ہوئی ہے لیکن جب یہ مکمل ہوجائیگی تو لوگ اس سے استفادہ کریں گے ۔ ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی نے کہا کہ گوادر سی پیک کا دل ہے ۔یہاں عوام عرصے تک مسائل کا شکار رہے لیکن اب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ۔گوادر میں پانی کامسئلہ چل رہا تھا لیکن اب وہاں مزید پانی فراہم کیا جارہا ہے ۔پسنی میں نیا ڈیم بنایا جارہا ہے جبکہ گوادر میں اسپتال بن رہا ہے ۔ ماہر نفسیات نادیہ خان کا کہنا تھا کہ ہمارے رویوں پرمعاشرے کا گہرا اثر پڑتا ہے ۔معاشرے میں عورت کو کمزور بنا کر پیش کیا جا تا ہے جس کے باعث مرد خود کو طاقتور سمجھنے لگتا ہے ۔ہمارے یہاں دماغی صحت کو کوئی بیماری نہیں سمجھا جاتا حکومتیں بھی اس پر بجٹ مختص نہیں کرتیں ۔زبانی تشدد بھی خواتین کی ذہنی صلاحیت کم کردیتا ہے وہ مشورہ دینے اور بات چیت کرنے کے قابل بھی نہیں رہتیں۔گھر والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ عورتیں تشددکے باوجود اپنا گھر خراب نہ کریں ۔ ڈائر یکٹر ہیومن رائٹس واچ سروپ اعجاز نے کہاکہ پاکستان میں گھریلوتشدد کے واقعات جتنے ہوتے ہیں اتنے رکارڈ نہیں کئے جاتے ۔ خواتین کے لئے تھانے جانا مشکل کام ہے لیکن وقت کے ساتھ ایسے واقعات میں کمی کے بجائے اضافہ ہورہا ہے ۔ ہماراقانونی نظام اور معاشرہ گھریلوتشدد کو نجی مسئلہ تصور کرتی ہے ۔حکومت کو قانونی نظام میں بہتری لانا ہوگی۔گھریلوتشدد کے معاملات میں خاتون کیلئے آسان نہیں ہوتا کہ وہ تھانوں میں جا کر مرد کو پوری صورتحال سے آگاہ کرے اگر ایسے کیسز میں خواتین اہلکار ذمے داریاں اداکریں تو کیسز نمٹانا آسان ہوگا ۔سربراہ جے پی ایم سی ڈاکٹر سیمی جمالی نے کہا کہ ڈینگی مچھر صاف پانی میں پا یا جاتا ہے اس کی بڑی وجہ جگہ جگہ بارش کا پانی ہے ۔یہ اکثر پودوں میں بھی رہتے ہیں ۔ڈینگی کے مریضوں کو صحت کی سہولتیں دینے کا طریقہ تو موجود ہے لیکن افسوس ہے کہ شہر میں ڈینگی کے خاتمے کیلئے کوئی طریقہ موجودنہیں ہے اگر پورے شہر میں دوبار اسپرے کیا جائے تو یہ مچھر پیدا نہیں ہوں گے۔اگر ڈینگی مچھردو یا تین بار کاٹ لے تو پھر یہ موت کا باعث بن سکتا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں