Advertisement

مضر صحت گوشت کی فروخت پولیس و انتظامیہ کی چشم پوشی

September 22, 2019
 

جھڈو میں سرکاری مذبح گھر موجود ہے لیکن پولیس اور شہری انتظامیہ کی چسم پوشی کے باعث قصابوں نے شہر کی سڑکوں اور گلیوںکو مذبح خانوں میں تبدیل کردیا ہے۔شہریوں کو بیمار جانوروں کا مضر صحت گوشت فروخت کیا جارہا ہے لیکن محکمہ صحت اس پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے، جس کی وجہ سے شہر میں موذی قسم کے امراض پھیل رہے ہیں۔ اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ پیر کے روز مویشی منڈی میں ہی مویشیوں کے گلے پر چھری پھیر دی جاتی ہے۔ قصابوں کی اس حرکت سے گلی محلوں میں آلائشوں کی گندگی اور غلاظت پھیلتی ہے ، تعفن زدہ ماحول کی وجہ سے ان کے گردونواح میں رہنے والے افراد اور راہ گیروں کومشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک جانب انہیں آلائشوں اور سڑکوں اور گلیوں میں پھیلنے والے خون پر گزرنا پڑتا ہے جب کہ بدبو کی وجہ سے انہیں سانس لینا بھی مشکل ہوتی ہے ۔ اکثر قصاب بیمار، نیم مردہ اور بوڑھے جانور نصف قیمت پر یا اس سے بھی کم پیسوں میں خرید لیتے ہیں، جن میں سے بہت سے جانوروں کی حالت اس قدر خراب ہوتی ہے کہ اانہیں مذبح خانے تک لے جانا بھی گھاٹے کا سودا بن جاتا ہے۔، اس وجہ سے ان جانوروں سڑکوں اور گلیوں یا مویشی منڈیوں میں ہی ذبح ر دیا جاتا ہے۔ ان کے گوشت کے بڑے بڑے پارچے تھیلوں میں ڈال کر بازار میں موجود دوکانوں پر پہنچا دیا جاتا ہے ۔

اس قسم کے قریب المرگ جانوروں کو قصابوں کی زبان میں شکار کہا جاتا ہے۔ بیمار اور جاں بہ لب قسم کے جانور انتہائی سستی قیمت میں خریدے جاتے ہیں۔ ان کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئےڈیڑھ دو لاکھ روپے والی بھینس 20 سے 25 ہزار میں اور 20سے 30 ہزار قیمت کا چھوٹا جانور (بکری بکرا) صرف چار سے چھ ہزار روپے تک میں خرید لیا جاتا ہے اور صحت مند جانور کے نرخ میں بیچا جاتا ہے۔ ایک بار ایسا منظر بھی دیکھا گیا کہ قریب المرگ بکری کی قیمت پربکری کے ملاک اور خریدار کے درمیان بحث و تمحیصخاصی طول پکڑ گئی لیکن سودا پھر بھی بارہ سو روپے سے اوپر نہیں گیا، اس دوران بیمار بکری ہی مر گئی۔ ۔ جھڈو میں بکرے کا گوشت 700 روپے فی کلو اور بڑا گوشت 350 روپے فی کلوگرام فروخت کیا جاتا ہے، لیکن عوام کے ساتھ ظلم یہ ہے کہ اکثر قصاب "شکار" کا گوشت بھی صحت مند جانور کے نرخ پر بیچتے ہیں۔ نرخ کے معاملے میں مزید ایک چیز وضاحت طلب ہے وہ یہ کہ بکرے کے گوشت صارفین کے نزدیک چھوٹا گوشت سمجھا جاتا ہے، تاہم تقریبآ سب ہی قصاب بکریوں, پٹھوں اور بھیڑوں کو ذبح کرکے ان کا گوشت بھی بکرے کا گوشت ظاہر کرکے مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔

مضر صحت گوشت کھانے سے ٹی بی، ہیپاٹائٹس، سانس اور پھیپھڑوں کے امراض، جلد ، جگر ، معدے اور گردوں کے امراض پیدا ہو رہے ہیں اور ناقص گوشت کھانے سے پیچش کی شکایت عام ہے۔ جھڈو میں مضر صحت گوشت بیچنے پر انتظامیہ کوئی نوٹس نہیں لے رہی ہے، جو نااہلی اور بے حسی کا ثبوت ہے۔ سول سوسائٹی اور سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر میرپورخاص، اسسٹنٹ کمشنر، مختیارکار جھڈو کو مضر صحت گوشت کی فروخت پر فوری نوٹس لینا چاہیے۔​


مکمل خبر پڑھیں