’حضرت شاہ عبد الکریم بُلڑی‘ ان کی شاعری میں ابیات کی صنف زیادہ ہے

October 01, 2019
 

حضرت سید عبد الکریم شاہ المعروف شاہ کریم بُلڑی وارو کو سندھ کے اولیاء کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت اور مقام حاصل ہے۔ وہ ارغونوں اور ترخانوں کے دورِ حکومت میں سندھی زبان کے نامور کلاسیکی شاعر تھے اور سندھ کے مشہور صوفی شاعر شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے پَردادا تھے۔

شاہ عبد الکریم سندھ کے ممتاز خاندان ساداتِ علوی کے چشم و چراغ تھے۔ شاہ عبد الکریم 20 شعبان 944ء بمطابق 22 جنوری 1538ء کو سندھ کے شہر مٹیاری میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید لعل محمدشاہ تھا۔

ان کی کم سنی میں ہی والد کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد پرورش کا فریضہ ان کے بڑے بھائی سید جلال شاہ اوروالدہ ماجدہ نے انجام دیا۔ انہوں نے مختلف صوفی بزرگوں اور علماء سےبا طنی و روحانی تعلیم حاصل کی۔ وہ سید میراں یوسف بکھری، مخدوم نوح ہالائی اور مخدوم آدم سمیجو ساکن موضوع کلاں اور دیگر جلیل القدر مشائخین کی خدمت میں رہے اور ان سے فیض حاصل کیا، لیکن سب سے زیادہ عارفِ وقت اور قطب مخدوم نوح ہالائی کی کیمیا اثر صحبت و تربیت سےان کا جوہرِ قابل نکھرا اورانہوں نے مخدوم نوح ہی سے بیعت بھی کی۔

مرشد مخدوم نوح ہالائی کے حکم کے مطابق شاہ عبد الکریم نے ضلع ٹنڈو محمد خان کے قریب واقع قصبے بلڑی میں قیام کیا۔ اسی قصبے کی نسبت سے وہ بلڑی وارو (بلڑی والے) مشہور ہوئے۔ بلڑی میں سکونت کے بعدوہ خلقِ خدا کے ظاہری و باطنی اخلاق کو آراستہ کرنے میں مشغول ہو گئے۔ رُشد و ہدایت ان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد تھا۔

لوگ جوق در جوق ان کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوتے اور ان سے مذہبی و روحانی تعلیمات حاصل کرتے تھے۔ تصوف و عرفان کے اعلیٰ مدارج طے کرنے کے باوجود شاہ عبدالکریم کی ساری زندگی پابندیِ شریعت اور اتباعِ سنت میں گزری۔

تہجد کی نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو پہلی ہی رکعت میں ان پر اس قدر رقت و گریہ طاری ہوتا اور بے خودی کی کیفیت پیدا ہو جاتی کہ پہلی رکعت پوری کر نہیں پاتے تھے کہ صبح ہو جاتی اور دوسری رکعت کا پڑھنا مشکل ہو جاتا تھا، تعجب کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ خدا جانے لوگ تہجد کی نماز کو کس طرح پورا کرتے ہیں میں تو ایک رکعت بھی مشکل سے ادا کر پاتا ہوں۔

وہ سندھی زبان کے اہم کلاسیکی شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ سندھی شاعری کی کلاسیکی صنف بیت آپ کی پسندیدہ صنف تھی، آپ بیت میں طبع آزمائی کرنے والے ابتدائی شعرا میں سے ایک تھے۔ ان کی شاعری میں معرفت اور وحدانیت کا عنصر نمایاں ہے۔ آپ کے کل ابیات کی تعداد 94 ہے جن میں سے 3 ہندی میں اور باقی سندھی زبان میں ہیں۔

ان کی شاعری کی تقلید شاہ عبد اللطیف بھٹائی، سچل سرمست، میر عبد الحسین سانگی سمیت دیگر شعرا نے بھی کی۔ ان کے کلام کا مجموعہ بعنوان ’’رسالو شاہ عبد الکریم‘‘ میر محمد نظامانی نے مرتب کر کے 1961ء میں حیدرآباد سے شائع کرایا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر عمر بن محمد داؤدپوتہ اور میمن عبد المجید سندھی نے بھی شاہ کریم کے کلام کو ترتیب دیا ہے۔

ان کے کلام کا منظوم اردو ترجمہ ابیات شاہ کریم کے عنوان سے سندھ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے سابق سربراہ ڈاکٹر نجم الاسلام نے کیا ہے جسے انسٹیٹیوٹ آف سندھالوجی جامشورو نے 1987ء میں شائع کیا۔اسی طرح انگریزی ترجمہ Shah Abdul Karim-A Mysalic Poet of Sindh کے عنوان سے ڈاکٹر موتی لعل جوتوانی نے کیا جو 1986ء میں شائع ہو چکا ہے۔

شاہ کریم کے ملفوظات پر مبنی فارسی زبان میں کتاب بیان العارفین آپ کے مرید محمد رضا بن عبد الواسع عرف میر دریائی بن داروغہ گھر ٹھٹوی نے آپ کی وفات کے6 سال بعد 1038ھ میں مرتب کی جس کاسندھی ترجمہ 2007ء میں سندھی ادبی بورڈ جامشورو نے شائع کیا ۔ اس کے علاوہ مرزا قلیچ بیگ نے رسالہ کریم کے نام سے ان کی سوانح مرتب کی جو 1904ء میں شائع ہوئی تھی۔

وہ بروز ہفتہ 7 ذو القعد 1032ھ بمطابق 2 ستمبر 1623ء کواس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے۔وصیت کے مطابق ان کی تدفین بلڑی میں ہوئی جہاں ان کا مزار مرجعِ خلائق ہے۔