Advertisement

’’عبداللہ III‘‘ (تیرہویں قسط)

October 06, 2019
 

مرید پور بھی باقی سیکڑوں دیہات جیسا عام گائوں تھا، ویسے ہی محنتی، جفاکش، سیدھے سادے لوگ، وہی صبح و شام کے ایک جیسے معمولات، دُکھ، سُکھ، غم، خوشیاں۔ کبھی کبھی مجھے لگتا تھا، جیسے ہم نے اِس دنیا میں تمام عُمر ایک ہی دائرے میں سفر کرنے کے لیے جنم لیا ہے۔ ہر جانب ایک ہی جیسے تو انسان بستے ہیں، جو ایک ہی طرح کی عمارتیں بنا کر اُن میں یک ساں رہن سہن سے جیتے ہیں۔ ہاں، بس جدید اور قدیم کا تھوڑا سا فرق ہے، مگر یہ جدّت یا قدامت بھی انسان سے انسان ہونے کی جبلّت یا خصلت نہیں چھین سکتی، اندر سے ہم سب ایک سے ہی ہیں۔ کبھی خوش باش، کبھی دُکھی، کچھ مطمئن، زیادہ بے چین۔ بالے کے گائوں کے لوگ بھی ویسے ہی تھے۔ اپنے آپ میں الجھے، اندرہی اندر اپنی پریشانیوں سے لڑ کر باہر والوں سے خندہ پیشانی سے ملنے والے لوگ۔ مَیں اور بخت خان دو الگ بیل گاڑیوں پر سوار وہاں پہنچے، تو آس پاس کے سادہ دیہاتیوں نے حسبِ معمول ہمارا جوگیوں والا حلیہ دیکھ کر ہمیں کُھلے دل سے خوش آمدید کہا۔ نکڑ والے ہوٹل پر ابلتی گرم چائے کی سوندھی خوشبو پھیلی ہوئی تھی اور چند کسان بڑے مزے سے دھوپ میں بچھے لکڑی کے بینچوں پر بیٹھے، گرم چائے پِرچوں میں ڈالے، تیز آواز کے ساتھ سُڑک رہے تھے۔ انہیں یوں چائے پیتے دیکھ کر مجھے جوگی یاد آگیا۔ وہ بھی جیل میں صبح سویرے اپنی بیرک میں لنگر کی بدمزہ چائے یونہی زوردار سُڑکی لگا کر ایک ہی گھونٹ میں پی جایا کرتا تھا اور پھر شرارت سے میری طرف دیکھ کر کہتا ’’چائے کا اصل مزہ تو پِرچ میں ڈال کر سُڑکیاں لینے ہی میں ہے۔ ہونٹوں سے کپ لگا کر دھیرے دھیرے چسکیاں لینا تو لڑکیوں کا طریقہ ہے۔‘‘ جوگی کی یاد آتے ہی مجھے سب کی فکر ستانے لگی۔ جانے ظہیر اور کندن اس وقت کہاں ہوں گے۔ بگھا سنگھ تو گرفتار ہوگیا تھا، پولیس نے اُس سےہمارا راز اگلوانے کے لیے اس پر بہت تشدّد کیا ہوگا، مگر وہ بگھے کی زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکلواسکی ہوگی۔

مَیں اپنی فکروں کے بھنور میں الجھا کچھ سوچ رہا تھا کہ سامنے والے ہوٹل کے مالک نے آواز لگائی۔ ’’چائے پیو گے سائیں جی… لگتا ہے بڑی دُور سے آئے ہو۔‘‘ ہم دونوں ہی کو چائے کی طلب ہو رہی تھی، مگر میں وہاں یوں کُھلے میں بیٹھنا نہیں چاہتا تھا۔ ’’نہیں، تمہارا شکریہ، ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں بھائی۔‘‘مَیں نےجان چھڑا کر آگےبڑھنے کی کوشش کی، حالاںکہ اُس وقت میری اور بخت خاں کی اندرونی جیبیں ظہیر کی دی ہوئی رقم سے بھری پڑی تھیں، مگر ہم دونوں ابھی تک اُن بڑے نوٹوں کو کہیں بُھنا نہیں پائے تھے۔ یوں بھی ان چھوٹے دیہات، قصبوں کے سڑک کنارے ہوٹلوں پر اتنے بڑے نوٹ نکالنا بھی کسی کو ہمارے بارے میں شک میں مبتلا کرسکتا تھا۔ فقیروں کی گدڑیوں سے پرانے جھنجھناتے سکّے برآمد ہونے چاہئیں، نہ کہ سِیل بند نوٹوں کی گڈّیاں۔ امارت کا بھی تو اپنا ایک چلن ہوتا ہے اور ہم دو مفلوک الحال مٹّی سے اٹے فقیر اس چلن پر پورے نہیں اُترتے تھے، لیکن میری بات چھوٹے ہوٹل کے بڑے دل والے مالک کو جیسے کوئی تازیانہ بن کر لگی۔ وہ دوڑا ہوا کائونٹر چھوڑ کر باہر آیا اور پھر ہمارے پیچھے لپکا، ’’پیسے کس کمینے نے مانگے ہیں سائیں جی… میرے دل کی خوشی کی خاطر دو گھڑی بیٹھ جائو، چائے تو بس ایک بہانہ ہے۔‘‘ مَیں نے مجبور نظروں سے بخت خان کو دیکھا۔ اب ہمارے پاس آگے بڑھنےکا کوئی بہانہ نہیں تھا۔ وہ ہمیں چھپّر اور ٹین کی چھت والے ہوٹل کے اندر لے آیا۔ میں نے نسبتاً ایک تاریک گوشہ بیٹھنے کے لیے چُنا، کائونٹر پر پڑے پرانے ریڈیو سے نورجہاں کی آواز فضا میں سُر بکھیر رہی تھی ’’سیّونی میرا ماہی میرے بھاگ جگاون آگیا…‘‘ یہ گیت، نغمے بھی ہمارے اندر کے جانے کیسے کیسے گوشے ٹٹول کر ان سُروں کو ہمارے حسبِ حال بنا دیتے ہیں۔ ہوٹل کا مالک کہہ رہا تھا کہ’’آج تو اس کے بھاگ جاگ اُٹھے ہیں، کیوں کہ گزشتہ تین دن سے وہ خواب میں یہی دیکھ رہا تھا کہ وہ کسی فقیر کو نذر نیاز دے رہا ہے اور اس کے کاروبار میں برکت ہورہی ہے۔‘‘ اگر اُسے پتا چل جاتا کہ مَیں اور بخت جیل توڑ کر بھاگے ہوئےسزائے موت کے دو قیدی ہیں اور بخت خان کے نیفے میں اِس وقت بھی حکیم یعقوب کا دیا ہوا ریوالور، چھے گولیوں سے بھرا ہوا ہے، تو کیا تب بھی وہ ہمیں اپنےکسی ایسے بابرکت خواب کی تعمیر سمجھ کر یوں ہماری خدمت کررہا ہوتا؟ اور اگر کل کلاں کسی وجہ سے یا اتفاقاً اُس کے کاروبار میں واقعی اضافہ ہوگیا، تو وہ تو تمام عُمراِسے ہم دونوں کےقدموں کا فیض ہی سمجھتا رہے گا۔ اچانک مجھےایک عجیب ساخیال آیا، ہماری حقیقت چاہے جو بھی تھی، بشیر ہوٹل والے بشیرے کے لیے تو ہم ہی اُس کے خواب کی اصل تعبیر تھے، کون جانے قدرت نے ہمیں صرف اُس کی خاطر ہی بالے کے گائوں میں ٹھیک اُس کے ہوٹل کے سامنے اتاراہو، جب کہ مقدّر نےاس کارزق بڑھانے کا فیصلہ پہلےسےکررکھا ہوا۔ ہمارا آنا صرف ایک بہانہ، اتمامِ حجت بھی تو ہوسکتا تھا۔ گویا ساری بحث کا حاصل صرف اتنا سا تھا کہ قدرت کے اپنے اصول، اپنے قاعدے ہوتے ہیں۔ اب چاہے کسی کو نوازنا ہو یا پھر کچھ کمی کرنی ہو، وہ سبب بنانے کے لیے ہم جیسے بہروپیے بھی کسی کے دَر پر بھیج سکتی ہے۔

ہم دونوں خاموشی سےچائےکےگھونٹ لیتے رہے اور بشیرا نیازمندی سے ہم سے کسی اورخدمت کا پوچھتا رہا۔ تبھی نہ چاہتے ہوئے بھی میری زبان پر مطلب کی بات آگئی، البتہ اندازمحتاط ہی رہا۔ ’’اپنے علاقے کے کسی نیک بزرگ سے دعا کروائو، سارے گائوں کے لیے… سُنا ہے اب اس علاقے میں بھی ذرا ذرا سی بات پر قتل ہونے لگے ہیں۔ جس مٹی پر ناحق خون گرتا ہے، وہ بنجر ہوجاتی ہے، تو پھر بے برکتی کیوں نہ ہو گھر اور کاروبار میں…‘‘ میری بات سُن کر بشیرے کو ایک جھٹکا سا لگا۔ اُس نے جذب کے عالم میں میرے ہاتھ پکڑ کر اپنی آنکھوں سے لگالیے۔ ’’دیکھا، میرا دل کہتا تھا کہ آپ دونوں کی کہیں اوپر لَو لگی ہوئی ہے، بالکل سچ کہا آپ نے جناب، جس دن سے اِس منحوس بالے کے سینے میں پٹواری کے بیٹے نےچھےگولیاں اتاری ہیں اور بالے نے تڑپ تڑپ کر یہیں میرے ہوٹل کے سامنے جان دی ہے، ٹھیک اُسی دن سے میرا کاروبار مندا پڑنا شروع ہوگیا ہے۔ ٹھیک کہتے ہو آپ، جس زمین پرخون گرے، پھر بد اثرات تو ہوتے ہی ہیں۔ بس، آپ دُعا کرو میرے لیے کہ…‘‘ بشیرا جانے کیا کچھ کہہ رہا تھا، جب کہ میرے دل و دماغ میں طوفانی جھکّڑ سے چل رہے تھے۔ قدرت نے ہمیں ٹھیک اُسی مقام پر پہنچایاتھا، جہاں مہرو کامجرم مارا گیا تھا۔ بشیرے نے بتایا کہ اُس روز بالا اور اُس کے دو ساتھی یہیں اُس کے ہوٹل کے باہر بیٹھے چائے پی رہے تھے، جب پٹواری نذیر کا بیٹا اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ قہر بن کر بالے پرٹوٹ پڑا۔اس نےبالےاوراس کے دوستوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا اور پلک جھپکتے اپنے پستول سے گولیاں چلا کر بالے کو یہیں ڈھیر کر دیا۔بالےکے دوسرے ساتھی بھی پٹواری کے دوستوں کی فائرنگ سے معمولی زخمی ہوئے اور اُن میں سے ایک شوکت عرف شوکا زخمی حالت میں فرار ہونے میں کام یاب بھی ہوگیا۔ مارنے والوں کی دشمنی صرف بالےسےتھی،تو انہوں نے بھی شوکے کا پیچھا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مَیں نے اپنی آواز کو معمول پر رکھنے کی کوشش کی۔ ’’تو اب کہاں ہوتا ہے یہ شوکت…میرا مطلب ہے شوکا…‘‘ بشیرے نے بُرا سا منہ بنایا۔ ’’ہونا کہاں ہے جی اس نے، یہیں کہیں بھٹک رہا ہوگا اپنے ڈیرے کے اردگرد، شروع کے دو چار مہینے تو وہ بالکل ہی غائب ہوگیا تھا، پھر پولیس نے رحمان پورے سے پکڑلیا۔ سال بھر کی قید ہوئی تھی جی اُسے، ابھی کچھ ہفتے پہلے ہی باہر آیا ہے۔ کہتا ہےکہ اُس نے پرانے سارے دھندے چھوڑ دیئے ہیں، مگر سائیں جی میرا دل نہیں مانتا، وہ کہتے ہیں ناں، چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ پر مَیں نے تو سختی سے اپنے سارے نوکروں کو منع کردیا ہے کہ اُن لوفروں کو دوبارہ اس طرف پھٹکنے نہ دیں۔ اُن کا سرغنہ بالا تو مارا گیا۔ اب جانے کہاں لفنٹری کرتے پِھرتے ہوں گے سارے لوفر…‘‘ مَیں نے چائے ختم کرکے بخت خان کو اشارہ کیا اور ہم وہاں سے اُٹھ آئے۔

گائوں کی آبادی کے راستے میں پولیس تھانہ بھی پڑتا تھا، جس کےسامنےسے گزرتے ہوئے میرے قدموں میں اینٹھن سی ہونے لگی۔ شاید تھانے کی دیوار پر اندر ہم دونوں کی تصویریں بھی کسی اشتہاری مجرم کے خانے میں لگی ہوں۔ شوکے کا ٹھکانہ ڈھونڈنے میں ہمیں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔ وہ واقعی اس علاقے میں کافی بدنام تھا اور بدنامی کی شہرت بڑی تیزی سے پھیلتی ہے۔ اُس کا گھر تو گائوں کے مرکزی محلّے میں تھا، مگر پتا یہ چلا کہ وہ رات گئے تک گائوں سے باہر اپنے ڈیرے پر اپنی زمینوں کاحساب کتاب دیکھتا ہےاور رات دیر ہوجانے پر عموماً وہاں رُک بھی جاتا ہے۔ ہم دونوں نے شوکے کے محلے والی پرچون کی دُکان سے باتوں باتوں میں یہ بھی پتا چلا لیا کہ شوکت نہ صرف شادی شدہ ہےبلکہ اُس کی ایک چھوٹی بیٹی رانی اور بیٹا ٹیپو بھی ہے۔ دونوں بچّے گائوں کے اسکول میں پڑھتے تھے۔ شام ڈھلنے تک مَیں اور بخت خان گائوں کی چھوٹی سی جامع مسجد ہی میں ٹِکے رہے۔ نماز تو ہم دونوں جیل میں بھی پڑھتے تھے، مگر وہاں نماز پڑھتے مجھے کبھی اتنی شرمندگی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ عشاء کی نماز کے بعد مولوی صاحب نے ہماری طرف دیکھا۔ ’’اگر آپ لوگ کہیں آرام کرنا چاہیں، تو مَیں مسجد کا حجرہ کھلوادیتا ہوں، دراصل مسجد رات کو بند ہوجاتی ہے۔‘‘ بخت خان کے منہ سے بے خیالی میں نکل گیا۔ ’’اللہ کا گھر بھی کبھی بند ہوتا ہے مُلّا صیب؟‘‘ مولوی صاحب مُسکرا دیئے۔ ’’ہاں خان صاحب! یہ وقت دیکھنا بھی لکھا تھا اپنی قسمت میں، جب مسجدیں رات کو بند ہونے لگیں، تو میکدے سرشام کُھلنے لگتے ہیں، پر کیا کریں، سرکاری مسجد ہے اور رات کو دروازےپرتالا ڈالنےکاحُکم ہے۔ بڑی شرمندگی سے بتانا پڑ رہا ہے کہ کُھلی مسجد میں کئی بار چوری ہو چکی ہے، کبھی دریاں تو کبھی چٹائی، کبھی مٹکے تو کبھی لوٹے، جو ہاتھ لگے نیک بختوں کے، وہ اٹھا لے جاتے ہیں، لیکن آپ دونوں مسافر لگتے ہیں، میں شب بسری کا انتظام کروا دیتا ہوں حُجرے میں۔‘‘ مَیں نے اُن کا شکریہ ادا کیا ’’نہیں مولوی صاحب! ہمیں تو رات ہی کو اپنے سفر پر نکلنا ہے، آپ کوئی زحمت نہ کریں۔‘‘ بخت خان نے خاموشی سےمسجد کےچندے والے ڈبّے میں چند نوٹ ڈالےاور ہم مسجد سے باہر نکل آئے۔ رات پوری طرح بھیگ چُکی تھی۔دُورکھیتوں سےجھینگراور ٹڈیوں کے ٹرّانے کی آوازیں ایک مخصوص ردھم کے ساتھ سنّاٹے میں گونج رہی تھیں۔ مَیں بچپن میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ یہ حشرات، پرندے اور جانور وغیرہ اپنی بولی میں نہ جانے کیا بولتے ہوں گے۔ شاید رات کا کوئی گیت گاتے ہوں اپنی اپنی زبان میں، ورنہ اتنا تسلسل اور ردھم کیسے ہوسکتا ہے اِن کی بولی میں۔ بخت خان مجھ سے آگے دُھند میں لپٹے اندھیرے میں بڑے بڑے قدم اٹھاتا چل رہا تھااور حسبِ معمول خاموش تھا۔ خاموش لوگوں کی خاموشی کتنا بولتی ہے۔ یہ مجھے بخت خان سے مل کر ہی معلوم ہوا۔

شوکےکاڈیرہ ڈھونڈنےمیں ہمیں کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوئی۔ وہ ایک بڑا سا احاطہ تھا، جس میں دیوارں کے ساتھ گائے، بھینسیں باندھنےکےلیے آدھی لمبائی کی دیوار والے کمرے بنے ہوئے تھے۔ احاطے کے وسط میں ایک لکڑی کے پول کے ساتھ کم زور سا پیلا بلب جل رہا تھا۔ اندر سے کسی کے باتیں کرنے کی آواز آرہی تھی۔ احاطے کا دروازہ بند تھا، مگر دیواریں نصف بلند تھیں، جس سے چار دیواری کے اندر کا منظر نظر آرہا تھا۔ دُور بنے ایک برآمدے میں تین کمرے ایک قطار میں بنے ہوئے تھے، باتوں کی آواز انہی میں سے ایک کمرے سے آرہی تھی۔ بخت خان نے زور سے دروازے کھٹکھٹایا۔ تیسری دستک پر اندر سے کسی نے جھڑک کر کہا ’’آرہا ہوں…آرہا ہوں…چُھری تلے دَم تو لو…‘‘ اور پھر کسی نے دھڑ سے لکڑی کے بڑےدروازے کا پٹ کھول کر ہمیں گھور کر سر سے پیر تک غور سے دیکھا، ’’ہاں، بولو…؟‘‘ ’’ہمیں شوکت سے ملنا ہے، وہ یہیں ہے ناں…شوکا…‘‘ ’’ہاں استاد اندر ہے۔ پر تم لوگ کون ہو؟ اس وقت استاد اپنی ترنگ میں ہوتا ہے جوگیو۔ وہ کسی سے نہیں ملتا، تم صبح آنا۔ آٹا، راشن دلوادوں گا تمہیں۔‘‘ آنے والا شاید شوکے کا کوئی ملازم یا احاطے کا چوکیدار تھا، جو حسبِ معمول ہمارے حلیے، بڑھی ہوئی داڑھی اور الجھی لَٹیں دیکھ کر باقی سب کی طرح ہمیں کوئی فقیر، ملنگ ہی سمجھ رہا تھا۔ اس دنیا میں فقیر بننا کتنا آسان ہے اور بادشاہ بننا کتنا مشکل۔ مَیں نے دھیرے سے رازدارانہ لہجے میں کہا۔ ’’صبح تک تو شاید ہم یہاں سے کُوچ کر جائیں چوہدری صاحب۔ اگر ملوا سکتے ہو، تو ابھی ملوا دو، دُعادیں گے۔‘‘ میری زبان سے اپنے لیے اتنی تکریم سن کر اُس کا لہجہ بھی نرم پڑگیا۔ ’’اچھا، تم رُکو، مَیں کوشش کرتا ہوں۔‘‘ اور چند لمحے بعد اس نے وہیں دُور برآمدے سے آواز لگائی ’’اندر آئو جوگیو، شوکے استاد نے بلایا ہے۔‘‘ مَیں اور بخت خان اندر داخل ہوگئے۔ بخت خان کی تیز نظر آس پاس کا جائزہ لے رہی تھی، مگر ہمیں وہاں کوئی تیسرا شخص دکھائی نہیں دیا۔ مزارعے نے ہمیں کمرے میں داخل ہونے کا اشارہ کیا اور خود ہمارے پیچھے اندر آگیا۔ کمرے میں دھویں کی تیز بُو تھی، جیسے کوئی بُوٹی جلائی گئی ہو، وسط میں ایک بان کی چارپائی پر لیٹا مضبوط بدن اور بڑی مونچھوں والا شوکا اپنی سُرخ آنکھیں لیے، ہاتھ میں بھرا ہوا سگریٹ سُلگائے ہمیں کچھ دیر غور سے دیکھتا رہا۔ اس کا مضبوط بدن اور چہرے پر چاقو کے گھائو کا پرانا نشان بتا رہا تھا کہ وہ کس قماش کا بندہ رہا ہوگا، پھر اس نے بے زاری سے آنکھیں بند کرلیں۔ اور ڈانٹ کر اپنے کارندے سے بولا۔ ’’اوئے مِیدے حرام خور! یہ کن فقیر جوگیوں کو اٹھا لایا ہے، اب کیا یہ آدھی رات کو مجھے سانپ کا تماشا دکھائیں گے یہاں…جا، لے جا انہیں کوئی روٹی ٹُکّر کِھلا اور گودام میں سے چاول اور گُڑ دے کر چلتا کر۔ میرا نشہ نہ توڑ اِس وقت…‘‘ مِیدے نے ہمیں ہانکا، ’’چلو جی! تم دونوں کو روٹی کھلاتا ہوں۔‘‘ مَیں نے غور سے آنکھیں بند کیے شوکے کی طرف دیکھا۔ ’’شاید ہمارے پاس کوئی بڑھیا نشہ ہو تمہارے لیے، بات سُن لو ہماری۔‘‘ شوکے نے جھٹ آنکھیں کھول دیں اور حیرت سے ہماری طرف دیکھا۔ پھر جانے کیا سوچ کر زور سے ہنس پڑا، ’’اچھا یہ بات ہے، تو پہلے بتانا تھا ناں… دکھائو، کیا لائے ہو، پر بوٹی کھری ہونی چاہیے ورنہ ایک ٹکہ نہیں دوں گا۔‘‘ میں نے مِیدے کے طرف دیکھا۔ شوکے نے جلدی سے مِیدے کو چلتا کیا ’’چل میدے! تب تک تُو ذرا ایک کڑک سی دودھ پتّی تو بنالا ہمارے لیے، اور دروازہ بند کرتا جائیں۔‘‘ مِیدا اشارہ سمجھ کر کمرے سے کِھسک گیا۔ مَیں نے بخت خان کو اشارہ کیا، وہ شوکے کی طرف بڑھا، شوکے نے شوق سے پوچھا۔ ’’لگتا ہے کوئی نایاب شے لائے ہو جوگی جی…‘‘ ’’ہاں، بہت نایاب ہے، لیکن پہلے تم یہ بتائو، بالے کی موت سے ایک رات قبل ساتھ والے گائوں سے جو لڑکی اُٹھائی تھی، وہ کہاں ہے…؟‘‘ میری بات سُن کر شوکے کو جیسے بجلی کا جھٹکا سا لگا، تڑپ کر اُٹھ بیٹھا، اُس نے اپنے تکیے کے نیچے ہاتھ ڈال کر اپنا پستول نکالنے کی کوشش کی، لیکن تب تک بخت خان اس کے سر پر پہنچ چُکا تھا۔ اس نے شوکے کی کلائی پر ہاتھ ڈالا اور دوسرے ہاتھ سےاپنےنیفے سے ریوالور نکال لیا۔ شوکے میں بڑی جان تھی، اس نے زور لگا کر اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی اور بخت خان کے دوسرے ہاتھ سے ریوالور چھیننے کے لیے اُس کی کلائی پر پورا وزن ڈال دیا، بخت خان کی جگہ اگر کوئی اور ہوتا، تو ضرور اس حملے کی تکلیف سے گھبرا کر اپنا ہاتھ تڑوا بیٹھتا، مگر وہ بخت خان تھا، جو جیل میں آٹھ دس قیدیوں کی مشقّت کا بوجھ اکیلے اُٹھا لیتا تھا۔ اُس نے ایک ہاتھ سے شوکے کو سنبھالا اور دوسرے ہاتھ میں پکڑے فولادی ریوالور کی ایک زوردار ضرب شوکے کی کن پٹی پر لگائی۔ شوکے کی چیخ نکل گئی اور خون کی ایک پتلی لکیر اُس کے کان کے پیچھے سے بہہ نکلی۔ اُسے احساس ہوگیا تھا کہ اس کاپالا کسی عام شخص سے نہیں پڑا، وہ تکلیف سے کراہا۔ ’’کون ہو تم لوگ…؟ مَیں نے پرانے سارے دھندے چھوڑ دیئے ہیں، میری بات مان لو۔‘‘ اتنے میں شوکے کی چیخ کی آواز سُن کر گھبرایا ہوا مِیدا دوڑتے ہوئے اندر آگیا۔ بخت خان کو شوکے کے سر پر پستول تانے دیکھ کر اُس کے تو ہوش اُڑ گئے۔ بخت خان نے اُسے وہیں دروازے کے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ مِیدا شوکے کی حالت دیکھ کر وہیں دُبک کر بیٹھ گیا۔

بخت خان نے میری طرف دیکھا۔ ’’دروازہ اندر سے بند کردو عبداللہ خاناں… اِن دونوں کا قبر ہم ادھری بنائے گا۔‘‘ مَیں نے آگے بڑھ کر دروازے کی کنڈی لگادی۔ شوکے کا سارا نشہ ہرن ہوچکا تھا۔ ’’مجھے مارکر کچھ نہیں ملے گا تمہیں، کوئی سودا کرنا ہے تو بولو۔‘‘ مَیں نے شوکے کی طرف دیکھا۔ ’’سودا تو ہم نے کرلیا ہے، میرے دو ساتھی تمہارے گھر کے باہر ہیں اِس وقت۔‘‘ شوکا چلّایا ’’نہیں، میرے گھر والوں کو اگر کسی نے ہاتھ لگایا تو…‘‘ شوکے نے اُٹھنے کی کوشش کی، بخت خان نے دوسرا کرارا ہاتھ اسے رسید کیا۔ مجھے شوکے کے شانے کی ہڈی چٹخنے کی آواز آئی۔ وہ کراہ کر دوبارہ بیٹھ گیا۔ بخت خان غصّے سے بولا۔ ’’تمہارا بھی تو ایک لڑکی ہے ناں، دوسروں کا لڑکی اُٹھاتے وقت اس کا خیال نہیں آیا تھا تم کو خدائی خوار۔ ابھی اگر تمہارا رانی کو ہمارا ساتھی اٹھا کر لے جائے تو… تم کیا کرے گا۔‘‘ شوکا ہمارے بھرم میں آگیا تھا۔ اُس نے واقعی یہ سمجھ لیا تھا کہ ہمارے گروہ کے کچھ دوسرے لوگ اِس وقت اُس کے گھر کے باہرکھڑے ہمارے اشارے کے منتظر ہیں۔ ’’کیا چاہتے ہو تم لوگ، پیسا، زیور، گہنے، زمین، سب کچھ نام کرتا ہوں ابھی، بولو…‘‘ مَیں بخت خان کو ایک طرف ہٹا کر شوکے کے سامنے پڑے مونڈھے پر بیٹھ گیا۔ ’’یہ سب کچھ میں تمہیں دے دوں گا۔ یہ کچرا میں نے بھی بہت جمع کررکھا تھا کبھی، مگر اب میرے کسی کام کا نہیں۔ تم بس یہ بتا دو کہ تمہارے جگری دوست بالے نے مرنے سے ایک رات قبل جو لڑکی اُٹھائی تھی، وہ اِس وقت کہاں ہے؟ ہم اُسے لینے آئے ہیں۔ لے کر واپس چلے جائیں گے اور یہ بھی وعدہ ہے کہ تمہارا نام اس معاملے میں نہیں آئے گا۔ اگر تم نے واقعی بُرے کاموں سے توبہ کرلی ہے، تو تمہارے لیے کفّارے کا یہ آخری موقع ہے۔ ویسے بھی تمہارے پاس وقت بہت کم ہے۔ تمہارے گھر کے باہر کھڑے ہمارے ساتھی زیادہ انتظار نہیں کریں گے۔‘‘ ہم نے شوکے سے جو جھوٹ بولا تھا۔ اُس پر مجھے شرمندگی ہورہی تھی، مگر کبھی کبھی سچ اگلوانے کےلیے کچھ جھوٹ ناگزیر ہوجاتے ہیں۔ شوکے جیسا بندہ کبھی اتنی آسانی سے ہمارے سامنے ہتھیار نہ ڈالتا، اگر اُسے اپنے گھر والوں کو نقصان پہنچنے کا خوف نہ ہوتا۔ انسان اپنی چوٹ برداشت کرلیتا ہے، اپنوں کی نہیں۔ ’’مَیں سچ کہہ رہا ہوں، مَیںنےسارے پُرانے دھندے چھوڑ دیئے ہیں۔‘‘ بخت خان نے ریوالور کی لبلبی پر انگلی کا دبائو بڑھا کر آخری بار پوچھا۔ ’’وہ لڑکی کدھر ہے خانہ خراب! ہم صرف تین تک گِنے گا، پھر نہیں پوچھے گا کوئی سوال… ایک…دو… تین۔‘‘ شوکا چلّایا۔ ٹھہرو…وہ لڑکی…‘‘ اِسی وقت ساتھ والے کمرے میں آہٹ ہوئی، ہم سب نےگھبراکراُس جانب دیکھا۔ (جاری ہے)


مکمل خبر پڑھیں