کوچنگ سینٹر کلچر

October 06, 2019
 

کچھ روز پہلے کی بات ہے ، ہم دفتر سے گھر پہنچے، تو ہماری ماسی، حمیدہ اپنے بچّے کے ساتھ گھر آئی ہوئی تھی۔ دونوں کو شام کے وقت دیکھ کر کافی حیرانی ہوئی کہ حمیدہ تو دن ہی میں سارا کام نمٹا کر چلی جاتی ہےاور ذیشان (اس کا بیٹا) بھی دن میں اسکول اور شام میں کسی ورک شاپ پر کام سیکھنے جاتا ہے۔خیر، امّی نے بتایاکہ ’’ آج حمیدہ اور ذیشان خاص طور پر تمہارے پاس آئے ہیں۔‘‘ ہم نےقدرے حیرانی سے وجہ پوچھی تو ذیشان نے جھجکتے ہوئے مٹھائی کا ڈبّا ہماری طرف بڑھادیا’’باجی! آج میرا میٹرک کا رزلٹ آیا ہے۔

مَیں نے اسّی فی صد نمبرز حاصل کیے ہیں۔ اسی خوشی میں آپ کے لیے مٹھائی لایا ہوں کہ آپ نے قدم قدم پر میری رہنمائی کی ، حوصلہ بڑھایا ہے، تواس ناتے آپ بھی میری استاد ہیں۔ ‘‘ ’’کیا …؟؟ اسّی فی صد نمبرز! ماشا ء اللہ، ماشاء اللہ ! واہ بھئی ذیشان تم نے تو کمال ہی کر دیا۔ دیکھا حمیدہ میں کہتی تھی ناں تمہارا بیٹا بہت ذہین ہے، اسےخُوب پڑھاؤ لکھاؤ۔ ‘‘ ہماری خوشی دیدنی تھی۔’’جی باجی!آپ ٹھیک کہتی تھیں۔مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا کہ میرے ذیشان نے میٹرک پاس کرلیا ہے۔

ہمارے تو پورے خاندان میں کوئی اتنا پڑھا لکھا نہیں ۔ مَیں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ سرکاری اسکول میں پڑھ کے ، کسی ٹیوشن، کوچنگ سینٹر کے بغیر میرا بچّہ اتنے اچھے نمبروں سے کام یاب ہوجائے گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے حمیدہ نے اپنے پلّو سے آنسو پونچھے اور بیٹے کا ماتھا چوم لیا۔

چند ہی روز بعد ابّو کے ایک دوست کے گھر دعوت میں جانے کا اتفاق ہوا، جس کی وجہ میٹرک میں اُن کے بیٹے ، وقاص کی اے وَن گریڈ سے کام یابی تھی۔ دعوت کے آغاز سے اختتام تک انکل ایک ہی بات دُہرائے جا ر ہے تھے کہ اُنہوں نے وقاص کو شہر کے ٹاپ کوچنگ سینٹر سے پڑھایا اوراس کے بہترین گریڈز کے پیچھے اُس کوچنگ سینٹر والوں کے نام ہی کا کمال ہے، جو فیس کی مَد میں ہزاروں روپے تو وصول کرتے ہیں ، لیکن ان کی زیرِ نگرانی، نالائق سے نالائق اورکُند ذہن طلبہ بھی اے وَن گریڈز ہی حاصل کرتے ہیں۔اوریہ سوچ کسی ایک والد یا والدین کی نہیں،عمومی طور پر پورے معاشرے کی عکّاس ہے۔

یہ دونوں واقعات یہاں بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہماری ہی طرح آپ بھی سوچیں، کچھ غور و فکر کریں کہ ہم، ہمارا تعلیمی نظام اور ہمارے رویّےکس سمت جارہے ہیں۔ ذیشان اور وقاص جیسے ہزاروں ،لاکھوں بچّے ہمارے اپنے گھروں، گلی، محلّوں میں گھوم رہے ہیں۔ یعنی آج بھی ایسے بچّوں کی کمی نہیں ، جو نا مساعد حالات، انتہائی محدود وسائل اور ’’پیلے اسکولز‘‘ میں تعلیم حاصل کرنے کے با وجود صرف اور صرف اپنی محنت، لگن اور ذہانت کی بہ دولت اُن بچّوں سے کسی طور پیچھے نہیں، جنہیں تعلیمی میدان میں تمام تر سہولتیں، آسائشیں اور آسانیاں میّسر ہیں۔

اس سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ منہگے اسکولز، کوچنگ سینٹرز وغیرہ اچھے گریڈز کے ضامن نہیں ۔مگر پھر بھی نہ جانے کیوں پچھلی ایک دَہائی سے ہمارے معاشرے میں ’’کوچنگ سینٹر کلچر‘‘ جس تیزی سے پروان چڑھا ہے، تعلیم ، تعلیم نہیں بلکہ کاروبار لگنے لگی ہے۔ ایک منافع بخش کاروبار!یقیناً یہ جملے کڑوے ضرور ہیں، مگر غلط نہیں۔

خود جائزہ لیں ، شاید ہی کوئی گلی ، محلّہ ایسا ہو ،جہاں کسی کوچنگ سینٹر کا بورڈ نظر نہ آئے۔جب والدین پیٹ پر پتھر باندھ کر بچّوں کو منہگے سے منہگےاسکولز میں تعلیم دلواتے ہیں، تو پھر کوچنگ سینٹر جانے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ ویسے تو آج کل ہر کوئی تنگ دستی، منہگائی کا رونا روتا نظر آتا ہے، لیکن بچّوں کو شہر کے نامی گرامی کوچنگ سینٹرز میں بھیجنا بھی اُتنا ہی ضروری تصوّر کیا جانے لگا ہے، جتنا اسکول، کالج بھیجنا۔

اب تو حال یہ ہے کہ شہرت یافتہ کوچنگ سینٹرز میں جانا یا نامی گرامی اساتذہ سے پرائیویٹ ٹیوشن لینا بھی اسٹیٹس سِمبل بن چُکا ہے۔ ہر کوئی یہ تو کہتا نظر آتا ہے کہ مُلک کاتعلیمی نظام دن بہ دن خراب ہوتا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کےذمّے دار صرف حکومت یا متعلقہ ادارے ہی نہیں، ہم اور آپ بھی ہیں۔ایک زمانہ تھا ،جب ٹیوشن پڑھنا یا کوچنگ لینا شرمندگی کی بات سمجھی جاتی تھی کہ کم زور یا کم ذہین طلبہ ہی ایکسٹرا کلاسز یا ٹیوشن وغیرہ لیتے تھے ، ورنہ سرکاری اسکولز میں پڑھنے کے با وجود اُس دَور کے طلبہ کی ذہانت و فطانت کا معیارآج کی ’’ اسمارٹ جنریشن ‘‘ سے کہیں بلند تھا۔

انہیں کسی مضمون میں مدد کی ضرورت پڑتی تو بڑے بہن بھائیوں سے مدد لے لیتے ۔ ریاضی ، انگریزی وغیرہ ابّو پڑھا دیتے،لیکن دَورِ حاضر میں تو اُلٹی ہی گنگا بہہ رہی ہے۔ والدین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے ، انگریزی میڈیم اسکولز میں بچّوں کو پڑھانے کے با وجود کوچنگ سینٹر ضرور بھیجتے ہیں۔دوسری جانب کئی سرکاری اسکولز، کالجز کے اساتذہ اپنے اداروں میں کلاسز لینے کی بہ جائے کوچنگ سینٹرز میں پڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور دل چسپ بات تو یہ ہے کہ کئی نجی اسکولز، جن کی فیسز پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ، خود کوچنگ سینٹرز چلارہے ہیں بلکہ طلبہ کو تاکید بھی کی جاتی ہے کہ اُن ہی کوچنگ سینٹر زمیں داخلہ لینا ہے۔

کوئی اُن سے پوچھے کہ اگر ہمیں اپنے بچّوں کو کوچنگ سینٹر ہی میں پڑھوانا ہوتا،تو آپ کے اسکول میں داخلہ کیوں دلواتے؟ اتنی بھاری فیسز کیوں ادا کرتے؟ اس سےتو یہی بہتر ہے کہ بچّوں کو سرکاری اسکول میں داخلہ دلواکر کسی کوچنگ سینٹرہی میں پڑھنے بھیج دیں۔ لیکن یہ سوال کون اور کیوں کر کرےکہ آنکھوں پر اسٹیٹس کی پٹّی باندھے والدین تو خود یہی چاہتے ہیں کہ بس بچّے ہر وقت اسکول/کالج سے کوچنگ سینٹر زکی طرف ہی دوڑ لگاتے رہیں، فیملی میں ان کی ناک اونچی رہے، چاہے اس ناک کے چکّر میں اُن کی جیب اور بچّے کا مستقبل دونوں ہی کیوں نہ تباہ ہوجائیں۔

تعلیم …تعلیم کیا ،کاروبار ہی کہیے ، آج جس نہج تک پہنچ چُکی ہے، اس کے ذمّے دار ہم سب ہی ہیں۔ ہم نے تو یہاں تک سُنا ہے کہ آج کل کچھ کوچنگ سینٹرز مالکان سرکاری اسکول/ کالج انتظامیہ سے رابطہ کرکے اُنہیں طلبہ کواپنے کوچنگ سینٹر ز ریفر کرنے کو کہتے ہیں ، جس کا با قاعدہ کمیشن مقرر ہے۔

پریکٹیکلز کے دنوں میں کچھ سرکاری کالجز کے اساتذہ طلبہ کو اپنے کوچنگ سینٹر ہی میں تیّاری کا مشورہ دیتے ہیں ، با الفاظِ دیگر’’اگر پریکٹیکلز میں پورے نمبر حاصل کرنےہیں توہمارے کوچنگ سینٹر ہی میں تیّاری کرو۔‘‘ میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز میں داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کے لیے کئی کئی ہزار روپے فیس وصولی بلکہ بٹوری جاتی ہے اوراولاد کے روشن مستقبل کے خواہاں والدین یہ فیسز بھرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان کے مروجّہ تعلیمی نظام میں سارا زور نوٹس رٹنے پر دیا جاتا ہے،اسباق سمجھانے کی طرف کم ہی توجّہ ہوتی ہے۔ اور ان کوچنگ سینٹرز میں بھی ریڈی میڈ نوٹس ہی کُل اثاثہ تصوّر کرکے طلبہ کو ازبر کروائے جاتے ہیں۔

جس شخص کا دل چاہے وہ کہیں بھی کوچنگ سینٹر کھولنے، یہاں تک کہ پڑھانے کے لیے بھی آزاد ہے۔ اس معاملے میں کوئی سرکاری ادارہ کوئی ریگولیٹری باڈی موجودہی نہیں ،جو خود رَو پودوں کی طرح ہر گلی ، محلّے میں اُگتے ان سینٹرز پر نظر رکھے۔اسکول و کالج تو محض، تعلیمی بورڈ کے ساتھ منسلک ہونے اور امتحانات دینے کا ذریعہ بن کررہ گئے ہیں۔

لیکن اس بات سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ ہر سکّے کے دو رُخ ہوتے ہیں،تو کوچنگ سینٹرز کے حوالے سے بھی کچھ بُری تو کچھ اچھی مثالیں موجود ہیں، جیسے پڑھائی میں کم زور طلبہ کے لیے ایکسٹرا ٹیوشن کسی نعمت سے کم نہیں، گروپ ٹیوشن کے ذریعے ساتھی طلبہ سے بھی مدد مل جاتی ہےوغیرہ۔ اور یہ کوچنگ سینٹرز تعلیمی نظام کی بہتری میں مزید معاون ثابت ہو سکتے ہیں،اگر یہ اسکول کالج کی روایتی تعلیم سے ہٹ کر بچّوں کو رٹّے تک محدود رکھنے کی بہ جائے سوچنے، سمجھنے اور سیکھنے کے راستے پرمائل کریں۔

معاشرے میں کوچنگ سینٹرز کے تیزی سے پنپتے کلچر کےحوالے سے ہمارے ذہن میں کئی سوال گردش کر رہے تھے ،جیسے ’’اسکول /کالج جانے کے با وجود طلبہ کو ایکسٹرا کوچنگ یا ٹیوشن کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے،ایک تاثر کے مطابق معروف کوچنگ سینٹرز کے بورڈز میں روابط ہوتے ہیں، کچھ کوچنگ سینٹرز معروف اساتذہ کا نام بھی استعمال کرکے زیادہ سے زیادہ طلبہ کو متوجّہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ٹیچرز ’’برائے فروخت‘‘ ہوگئے ہیں وغیرہ… ‘‘ تو یہ اور ان جیسے دیگر سوالات کے جواب ڈھونڈنے کے لیے ہم نے کراچی کے مشہور و معروف، طلبہ ، والدین میں بے حد مقبول اتالیقی مرکز، ’’پریکٹیکل سینٹر ‘‘کے چیئر مین ، پروفیسراعجاز احمد فاروقی سےرابطہ کیا۔

بات کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’آج کل مقابلہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ ہر بچّہ دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتا ہے۔ بچّے اور والدین یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر وہ ایکسٹرا پڑھائی کریں، کسی ایکسپرٹ ٹیچرز کی زیرِ نگرانی امتحان کی تیاری کریں تو زیادہ سے زیادہ نمبرز حاصل کر سکیں گے۔ ویسے اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے۔

ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ کوچنگ سینٹرز میں بچّوں کوتعلیم و تربیت، ذہنی سکون فراہم کرنے کے ساتھ پھلنے پھولنے کے لیےبہترین و ساز گار ماحول بھی مہیّا کریں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے زمانے میں تو ٹیوشن پڑھنے کا رواج نہیں تھا، تو پہلے اور آج کے رزلٹس کا فرق بھی سب کے سامنے ہے۔

پہلے زمانے میں فرسٹ ڈویژن سے میٹرک یا انٹر پاس کرلینا بہت بڑی بات تصوّرکی جاتی تھی، لیکن آج کے بچّے بآسانی اسّی ، نوّے فی صد نمبرزحاصل کررہے ہیں،کیوں کہ وہ اسکولز/ کالجز کے علاوہ بھی ٹیوشن وغیرہ لیتے ہیں۔ ویسے میں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ کسی بھی بچّے کی ذہانت گریڈز کے ذریعے ہر گز نہیں ناپنی چاہیے۔

مَیں ایک جگہ بی ایس سی کے طلبہ کو پڑھاتا تھا،پہلی کلاس میں اُن بچّوں کے چہروں سے مایوس عیاں ہوتی کہ انجینئرنگ یا میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں مل سکا۔ پر مَیں انہیں سمجھاتا کہ آپ پریشان کیوں ہیں؟ ایسا کریں مُلک یا شہر کی 10بڑی کمپنیز کی ایک فہرست بنائیں اور ان میں ٹاپ پوزیشنز پر کام کرنے والوں کی تعلیم دیکھیں، زیادہ تر نان ڈاکٹرز یا نان انجینئرز ہوں گے۔ جن بچّوں کو انجینئرنگ یا میڈیکل یونی وَرسٹیز میں داخلہ نہیں ملتا، ان کے لیے اَن گنت نئی راہیں کُھل جاتی ہیں، متعدد مواقع ہوتے ہیں اور وہ دُگنے جوش و جذبے سے آگے بڑھتے اور کام یاب ہوتے ہیں۔

جہاں تک بات ہے، ٹیچرز کے بورڈز میں روابط کی، تو کم از کم ہم نے اپنے ادارے میں یہ قانون بنارکھا ہے، جس پر سختی سے عمل بھی کرتے ہیں کہ اگر ایک ٹیچر ہمارے ہاں کلاسز لینے کے ساتھ بورڈ میں بھی کام کررہاہےیا کاپیز چیک کرتا ہے، تو اگلے سیشن میں ایسے اساتذہ کوکلاسز نہیں لینے دی جاتیں۔

پوزیشنز لینے والے طلبہ کی فائل خود بولتی ہے۔ ہمارے ہاں ہفتہ وار ٹیسٹس لیے جاتے ہیں، جن کی رپورٹس والدین کو باقاعدگی سے دی جاتی ہیں۔ پھر جو بچّے پڑھائی میں کم زور ہوتے ہیں، ان کی ایکسٹرا کلاسز لی جاتی ہیں، تو جب اتنے سب مراحل سے ایک بچّہ گزرے گا، تو اچھا رزلٹ یقینی بات ہے۔ ‘‘ ’’اتالیقی مراکز ایک ایک بچّے سےفیس کی مَد میں کئی کئی ہزار روپے وصول کرتے ہیں، تو کیا ٹیکسز وغیرہ بھی دیتے ہیں اور یہ کسی ادارے سے رجسٹرڈ ہیں؟‘‘ ’’جی بالکل ٹیکس دیتے ہیں۔ آج کل تو ویسے بھی اتنی سختی ہےکہ چھوٹے سے چھوٹے کاروبار پر بھی ٹیکس دینا ہوتا ہے، تو کوچنگ سینٹرز والے کیسے بچ سکتے ہیں۔

ہاں، کوچنگ سینٹرز کی رجسٹریشن کا کوئی ادارہ نہیں ہے، مگر جو رجسٹرڈ ادارے ہیں، وہ کون سا بہت اعلیٰ کام کر رہے ہیں، جو ان کی رجسٹریشن کروائی جائے۔ ‘‘28 سال سے در س و تدریس سے وابستہ ، شہر کے ایک اور معروف کوچنگ سینٹر ، ایپ ٹی ٹیوڈ ٹیسٹ کی تیاری کے حوالے سےشہرت رکھنے والے مرکز،’’ فہیم عبّاسیز اسٹوڈنٹس کارنر‘‘کے روحِ رواں فہیم عبّاسی نے کہا ’’اسکولز/ کالجز کی اہمیت کم نہیں، تقریباً ختم ہی ہوگئی ہے،کیوں کہ گلی محلّوں میں کُھلنے والے اسکولز میں جو اساتذہ پڑھا رہے ہیں وہ در حقیقت ’’نان ٹیچرز‘‘ ہیں۔

یعنی جسے کوئی کام نہیں ملتا،وہ ٹیچر بن جاتا ہے۔ ٹیچنگ کوئی پیشہ نہیں ایک کارِ خیر ہے،مگر بد قسمتی سےاب کاروبار بن گیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچّے اسکول/کالج پڑھنے نہیں ، صرف ٹائم پاس کرنے جاتے ہیں۔ پر، انہیں امتحان بھی پاس کرنا ہے، تو در حقیقت ان کی پڑھائی کا وقت دوپہرڈھائی بجے کے بعد کوچنگ سینٹرز میں شروع ہوتا ہے۔

جہاں اپنے اپنے مضامین کےماہر اساتذہ ان کی تیّاری کرواتے ہیں۔ کوچنگ سینٹرز میں پڑھانے والےکچھ ایسے ٹیچرز بھی ہوتے ہیں، جو بورڈز کے پیپرز بھی بناتے ہیں، تو تیاری کے دوران طلبہ کو بِنا بتائے وہ اُن تمام سوالات کی اچھی طرح مشق کروادیتے ہیں، جو امتحان میں آنے والےہوتے ہیں۔

ظاہر ہے ،جو سوالات بچّوں کی فنگر ٹِپس پرہیں، امتحانی پرچے میں وہی سامنے آجائیں ،تو انہوں نے سو فی صد اسکور ہی کرنا ہے۔ حالاں کہ مَیں ذاتی طور پر کوچنگ سینٹر کلچر کے خلاف ہوں، پڑھائی کا وقت صبح سویرے اور جگہ اسکولز، کالجز ہی ہونے چاہئیں۔

ویسے آج کل ایک نیا ٹرینڈ بھی سامنے آرہا ہے، جو زیادہ تر او / اے لیولز میں مشہور ہو رہا ہے۔ وہ یہ کہ ان کی تیاری کروانے والے کوچنگ سینٹرز اپنی رجسٹریشن کروالیتے ہیں اور بچّوں سے کہتے ہیں کہ اب آپ کو کسی اور اسکول میں داخلہ لینے کی ضرورت نہیں۔ یعنی ایک فیس میں صبح جو ٹیچر اسکول میں پڑھاتا ہے، وہی شام میں ٹیوشن بھی دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج کل جگہ جگہ او/ اے لیول اسکولز ، کالجز نظر آنے لگے ہیں۔

مَیں قارئین کی معلومات کے لیے یہ بھی بتا دوں کہ بین الاقوامی سطح پر او لیولز کلیئر کرنے کے لیے صرف پانچ اور اے لیولز کے لیے دو کورسز کلیئر کرنےکی ضرورت ہوتی ہے، مگر ہمارے ہاں کچھ اسکولز محض زیادہ فیس کی لالچ میں زیادہ مضامین پڑھاتے ہیں۔‘‘ ’’انٹر میں نوّے فی صد اسکور کرنے کے با وجود بچّوں کو ٹا پ یونی وَرسٹیز، بالخصوص میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے کوچنگ کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ جو بچّہ اے ون گریڈ سے انٹر کر سکتا ہے، اس میں اتنی خود اعتمادی کیوں نہیں ہوتی کہ وہ خود تیاری کرکے ایپ ٹی ٹیوڈ ٹیسٹ بھی کلیئر کر سکے؟‘‘اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ’’ بات خود اعتمادی کی نہیں تیکنیک کی ہے۔

جیسے ہر کام کے ماہرین ہوتے ہیں، اسی طرح ایپ ٹی ٹیوڈ ٹیسٹ کی تیاری کے بھی ماہرین ہیں، جو آج سے نہیں عرصۂ دراز سے یہ کام کر رہے ہیں۔ ان کی تحقیق ، تجربے اور مہارت کا ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ اساتذہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کس یونی ورسٹی میں کس طرح کے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔

محدود وقت میں ٹیسٹ مکمل کرنے کی مشق کروائی جاتی ہے۔ انٹر میں بچّےایک یا دو گھنٹے میں ٹیسٹ مکمل کرنا نہیں سیکھتے، یہ ایپ ٹی ٹیوڈ ٹیسٹ کی تیاری کے دوران سکھایا جاتا ہے۔

اُنہیں مختلف تیکنیکس بتائی جاتی ہیں۔‘‘ کوچنگ سینٹر کلچر کے حوالے سے ہم نے چیئر مین ،آئی بی سی سی (انٹر بورڈکمیٹی آف چیئر مین ) اورمیٹرک بورڈ ، پروفیسر ڈاکٹر سعید الدّین سے بھی بات چیت کی ۔ ’’ اسکولز، کالجز کا تو کوئی نعم البدل ہو ہی نہیں سکتا۔

اصل میں آج کل ہر بچّہ کم پڑھ کر زیادہ نمبرز لینا چاہتا ہے ، اس لیے وہ اسکول یا کالج جانے کی بہ جائے کوچنگ سینٹرز کا رُخ کرتا ہے کہ وہاں مخصوص ابواب ہی پڑھائے جاتے ہیں۔ وہ پیپر پیٹرن کے تحت تیاری کرواکر بری الذّمہ ہوجاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مَیں نے آتے ہی سوالات کے ٹرینڈز میں تبدیلی کی، یعنی جو سوال نہیں آتے تھے ،انہیں شامل کیا، جن کے بارے میں تفصیلی جواب مانگا جاتا تھا، ان کا مختصر جواب مانگا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مکمل طورپر تو نہیں لیکن مَیں آہستہ آہستہ پنج /دس سالہ پیپر ٹرینڈ کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

اس بار فزکس کے پیپر میں کچھ سوالات میں تبدیلی کی گئی تھی،سارے سوال نصاب ہی سے لیے گئے تھے، مگر پوچھنے کا انداز مختلف تھا، اسی وجہ سے اس بار کئی بچّے فزکس میں فیل ہوئے کہ وہ تو پاسٹ پیپرز سے تیاری کرکے آئے تھے اور سوال نامہ اس سے ہٹ کر آگیا۔

پچھلی مرتبہ جو رزلٹ 71 فی صد تھا، وہ اس بار 68 فی صد رہا۔ کوچنگ سینٹر کلچر ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسکولز اور کالجز میں باقاعدگی سے پڑھائی ہو اور پڑھائی کا مطلب صرف رٹّے لگانا نہیں بلکہ سمجھ کے پڑھنا ہے۔ ‘‘

یقیناً ہمارے رجسٹرڈ تعلیمی ادارے درست طریقے سے کام نہیں کر رہے، جب ہی طلبہ کو اپنی تشنگی دور کرنےکے لیے ٹیوشن یا کوچنگ سینٹرز کا رُخ کرنا پڑتا ہے۔

ورنہ کون سے والدین اس منہگائی کے دَور میں ہزاروں روپے فیس بھرنا چاہیں گے؟ اس حوالے سے حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی ’’سب اچھا ہے‘‘ کی عینک اُتار کے سوچنا چاہیے کہ جب مغربی ممالک کی طرز پر ٹیکس لیے جارہے ہیں، توکم از کم ان کی طرز پرتعلیم تو فراہم کی جائے، جہاں سرکاری تعلیمی ادارے اتنے معیاری اور جدید سہولتوں سے لیس ہیں کہ غریب ، امیر ہر کسی کے بچّے ایک ہی جگہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

غربت مٹانا، گھر بنانا، کچرا اُٹھانا، بے روزگاری کا خاتمہ کرنا تو ایک طرف، اگردنیا کی نامی گرامی یو نی ورسٹیز کے اعلیٰ تعلیم یافتہ حکمرانوں کےدَور میں بھی ہمارا نظامِ تعلیم نہیں سُدھرتا، طبقاتی نظامِ تعلیم کا قلع قمع نہیں ہوتا تو پھر یہ واقعی لمحۂ فکریہ ہے…