Advertisement

پاکستان میں ہر سال 2 لاکھ افراد دل کے امراض سے ہلاک ہوجاتے ہیں،میرخلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی کا سیمینار

October 09, 2019
 

لاہور (رپورٹ : وردہ طارق) پاکستان میں دل کے امراض بہت تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال 2 لاکھ افراد دل کے امراض سے ہلاک ہوجاتے ہیں، ناقص غذا، غیرصحتمندانہ طرز زندگی، ورزش سے دوری دل کے امراض کا باعث ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے میرخلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی جنگ گروپ آپ نیوز پیپرز اور فیروزسنز لیبارٹریز لمیٹڈ کے زیراہتمام ہونے والے خصوصی دل کے امراض سے متعلق پبلک ہیلتھ آگاہی سیمینار میں کیا۔ ماہرین پینل میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پی آئی سی پروفیسر ڈاکٹر ثاقب شفیع، سابق سربراہ پی آئی سی، سابق صدر پاکستان کارڈیک سوسائٹی پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیات ملک، ہیڈ آف کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ شیخ زاید ہسپتال لاہور پروفیسر ڈاکٹر امیرملک، جیو پروگرام خبرناک کے علی میر، شاعرہ رخشندہ نوید، سابق ہیڈ آف کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ پی آئی سی پروفیسر ڈاکٹر شاہد امین، الیکٹرویالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر اشرف ڈار شامل تھے۔ حرف آغاز سی ای او فیروز سنز لیبارٹریز عثمان خالد وحید نے پیش کیا۔ میزبانی کے فرائض چیئرمین میرخلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی واصف ناگی نے سرانجام دیئے۔ عثمان خالد وحید نے کہاکہ پاکستان میں پبلک ہیلتھ ایک اہم ایشو ہے۔ سال بھر میں ہونے والی اموات میں بیس سے چالیس فیصد اموات دل کےامراض کے باعث ہوتی ہیں۔ اگر ہم احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تو امراض سے بچائو ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ صحتمند غذا کا استعمال، روزانہ ورزش، تمباکونوشی سے پرہیز نارمل بلڈپریشر یہ ایسی ہدایات ہیں جن پر عمل کرکے ہم خود کو بیماریوں سے محفوظ کرسکتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیات ملک نے کہاپوری دنیا میں تقریباً پونے دو کروڑ افراد کارڈیو ویسکولر بیماری کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ بلڈ پریشر اور شوگر بھی دل کے امراض کا باعث ہیں۔ کولیسٹرول لیول کا نارمل ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ جب دل کی شریانیں ایک بار تنگ ہو جائیں تو پھر مکمل صحت یابی ممکن نہیں ہوتی ہے۔ واصف ناگی نے کہا دل کا مرض پاکستان میں تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے نوجوان بھی اس مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ثاقب شفیع نے کہا خوراک اور ورزش کے اپنے اپنے فوائد ہیں ہمارے ہاں بچوں میں جسمانی سرگرمیوں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں