Advertisement

ماضی کی خوشگوار یادیں اور حال کا رونا

October 31, 2019
 

محمد خلیل الرحمٰن​

​صدر کی مرکزی شاہراہ پر ماموں جان کی کتابوں کی دکان ’’ٹامس اینڈ ٹامس ‘‘ تھی ۔دکان آج بھی موجود ہے لیکن اسے الیکٹرانکس کی دکانوں اور خوانچہ فروشوں نے یوں گھیر لیا ہے کہ اب دکان تک پہنچنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ وہاں سے وکٹوریہ روڈ کے چوراہے کو عبور کرتے ہوئے بائیں ہاتھ مڑ کر الفی پر ٹہل لگاتے، حمید کاشمیری کے بک اسٹال سے آگے بڑھتے تو پاک امریکن کتب فروش کی عالیشان دکان آجاتی ۔

ایک دن ہمارے ماموں ہمیں فلم دکھانے کے لیے ریکس سنیما لے گئے۔ ان دنوں وہاں ایک مزاحیہ انگریزی فلم ’’ دیکھتا چلا گیا‘‘ لگی ہوئی تھی۔ فلیٹ سے نیچے اترے تو سامنے بندر روڈ پر سب سے انوکھی سواری یعنی ٹرام دوڑی جارہی تھی ۔

ٹرام ہمارے گھر کے سامنے سے ایک طرف تو ایمپریس مارکیٹ اور کینٹ اسٹیشن تک جاتی تھی اور دوسری جانب سولجر بازار سے بولٹن مارکیٹ اور کیماڑی تک ۔ محمد علی ٹراموے کمپنی کا مرکزی ڈپو گھر کے قریب ہی پلازہ سنیما اور موجودہ گل پلازا کے بالکل سامنے واقع تھا۔

ماموں نے اپنے لندن پلٹ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے جب قریب سے گزرتی ہوئی آٹو رکشا کو ’’ ٹیکسی ‘‘ کہہ کر بلایا تو ہماری تو ہنسی چھوٹ گئی۔ رکشا کو ٹیکسی کون کہتا ہے بھلا، لیکن یہ امرِ واقعہ ہے کہ ان دنوں ہر آٹو رکشا کے پیچھے جلی حروف میں ’’ٹیکسی ‘‘ لکھا ہوا ہوتا تھا۔ ہم تینوں بچے ماموں کے ساتھ رکشا میں بیٹھے تو ڈرائیور نے جھٹ سے میٹر ڈاؤن کیا اور پیچھے مڑکر پوچھا’’ کہاں چلنا ہے؟‘‘​

​ریکس سنیما پہنچے تو ایک اور خوبصورت نظارہ ہماری دلچسپی بڑھانے کے لیے وہاں موجود تھا۔ میوزیکل فوارہ تو ہمیں یاد نہیں البتہ سنیما گھر کے سامنے والے چھجے پر ایک سالم موٹر کار چڑھادی گئی تھی جس پر موجودہ فلم کا پوسٹر لگایا گیا تھا۔ فلم کی مناسبت سے اس پوسٹر پر اداکاروں کے کارٹون ایک سیڑھی پر چڑھ رہے تھے جسے، اس موٹر کار میں نصب کیا گیا تھا۔ فلم بہت مزاحیہ اور بہت مزیدار تھی لیکن اب اس کا کوئی منظر یاد نہیں۔

فلم دیکھ کر نکلے تو پیدل ہی کلفٹن کی جانب چل دئیے۔ کلفٹن کا خوبصورت پتھر کا پل پیدل چل کر عبور کیا اور پھر ایک رکشا لے کر کلفٹن میں جہانگیر کوٹھاری پریڈ کے سامنے اترے۔ پریڈ کی ان گنت سیڑھیوں کو پار کرتے ہوئے ساحل تک پہنچے جہاں خوانچہ فروشوں کی بھرمار تھی۔ ان سے آگے سمندر تھا۔​​آنکھیں بند کیے گزرے ہوئے کل کی یادوں کے سائے میں کبھی کبھی تو ہم اس قدر کھوجاتےہیں ، جیسے سارے مناظر فلم کی طرح چل رہے ہوں۔

جب انگریز نے کراچی میں ترقیاتی کام شروع کیا تو شہر کے درمیان کئی نالے بنائے تھے۔ ان نالوں کا مقصد گندے پانی کی سمندر تک نکاسی تھا لیکن ایک ترکیب یہ لڑائی گئی کہ رات کو جب سمندر چڑھتا ، وہ ان نالوں میں در آتا اور تمام گندگی اپنے ساتھ بہا لے جاتا۔

ان نالوں کو جو ہم نے برنس روڈ تک دیکھےتھے، انہیں یا تو پاٹ دیا گیا اور ان پر ناجائز تجاوزات قائم کردئیے گئے، یا انھیں کچرے سے بھر دیا گیا ، کہ نہ رہے کا بانس ، نہ بجے گی بانسری، نہ نومن تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔​

​یادش بخیر شہر میں سڑکوں کے سنگم پر جگہ جگہ خوبصورت چورنگیاں ہو ا کرتی تھیں، بڑھتے ہوئے بے ہنگم ٹریفک کی روک تھام اور انھیں کھلا راستہ دینے کی خاطر ،جہاں سڑکوں کو کشادہ کیا گیا وہیں ان خوبصورت چورنگیوں کو ختم کرکے ان کی جگہ سڑکوں کو دے دی گئی اور بجلی کے اشارے لگوادیئے گئے۔ ساتھ ساتھ ہی یہ عظیم کام بھی کیا گیا کہ جن بڑی شاہراہوں کے ساتھ ذیلی سڑکیں بھی تھیں، ان ذیلی سڑکوں کو فضول سمجھ کر مرکزی سڑک کے ساتھ ضم کردیا گیا۔​

​کئی ایک چوراہوں پر بجلی کے اشارے آج بھی موجود ہیں لیکن عرصہ ہوا کام چھوڑ چکے۔ مثال کے طور پر برنس روڈ کا چوراہا، الفی اور شاہراہِ عراق کے سنگم پر واقع ، آرام باغ والا چوراہا، وغیرہ وغیرہ۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں ،جہاں پر ٹریفک سگنلز یاد گار کے طور پر نصب ہیں لیکن عرصہ ہوا اپنا کام ترک کرچکے۔​

کراچی میں امریکن سینٹر، برٹش کونسل، روسی ایوانِ دوستی اور نیشنل سینٹر کی بہترین لائبریریاں موجود تھیں، جہاں سے مفت کتابیں گھر لے جاکر پڑھنے کے لیے دستیاب تھیں۔ اس کے علاوہ ہر علاقے میں کے ایم سی کی لائبریریاں بھی اپنا کردار ادا کررہی تھیں۔​

سڑکوں پر ٹریفک کا حال اس قدر بُرا نہیں تھا۔ کراچی شہر میں بگھی جیسی خوبصورت سواری بھی کرائے پر دستیاب تھی، جس پر ہم سب بچے لد جاتے اور سارا راستہ مزے مزے کے گیت گاتے ہوئے، گھوڑے کے سنگ سنگ، کوچوان کے برابر بیٹھے لطف اُٹھایا کرتے۔​· سڑکوں کا حال بھی اتنا بُرا نہیں تھا۔​

· لوڈ شیڈنگ کا تصور بھی مفقود تھا۔· فضائی آلودگی اور شور نے اس قدر بھیانک عفریت کی شکل اختیار نہیں کی تھی ۔ جیسے کہ اب ہے۔ پلاسٹک کے شاپنگ بیگ ابھی ایجاد نہیں ہوئے تھے، جو آج قومی پرچم کی مانند ہر درخت اور ہر پودے اور ہر عمارت پر چپکے ہوئے ہیں۔ اور ہر گٹر، ہر کچرا کنڈی کی زینت ہیں۔​

فارم کی مرغی جسے گند کھلا کر بڑا کیا جاتا ہے ، ابھی ایجاد نہیں ہوئی تھی، لوگ دیسی مرغی کھایا کرتے تھے۔​· پانی بھرا گوشت نہ ہونے کے باعث لوگ سوکھا گوشت خرید کر کھایا کرتے، چائے، کُٹے ہوئے مرچ مسالے وغیرہ بغیر ملاوٹ کے دستیاب تھے۔۔ کیمیکل سے صاف کی ہوئی سفید چینی کے علاوہ گڑ اور گڑ کی چینی بھی دستیاب تھی۔​

مصنوعی زہریلی کھاد کے استعمال سے پھلوں کے حجم ابھی بڑے نہیں کیے گئے تھے۔ درختوں پر فطری انداز میں بڑھنے اور پکنے والے پھل ہی دستیاب ہوتے تھے۔ کولڈ اسٹوریج کا رواج نہ ہونے کے باعث مقامی پھل ہی دستیاب ہوتےتھے۔ پپیتا صرف کراچی میں ملتا تھا، لوکاٹ صرف پشاور میں ملتے تھے۔ اور اس طرح دیگر نازک پھلوں کا ذائقہ چکھنے کے لیے اس شہر کا رُخ کرنا پڑتا تھا۔​

​گھروں سے کچرا جمع کرکے دور میدان تک پہنچانا اور اسے ٹھکانے لگانا پہلے میونسپلٹی ہی کا کام تھااور وہ اسے بحسن و خوبی سر انجام دیتی تھی۔ اب یہ سہولت ہی مفقود ہے۔ کچرا گلی محلوں اور چھوٹی بڑی شاہراہوں پر جمع ہوتا جارہا ہے۔​

​ترقی یافتہ ممالک میں ایک خاص عمل جسے Urbanization اربنائیزیشن یعنی شہر کاری یا شہری رنگ پیدا ہونے کا عمل کہتے ہیں، پایا جاتا ہے۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ ان کے شہر تو جدید سہولیات سے آراستہ ہیں ہی، دیہی علا قوں میں بھی جدید سہولیات کی فراہمی کے باعث شہری رنگ آتا جارہا ہے۔​

​ہم اپنے شہروں میں اس کے برعکس Ruralisation رورلائیزیشن یعنی دیہاتی بنادینے کا عمل اختیار کرچکے ہیں اور تیزی کے ساتھ رو بہ تنزل ہونے کی وجہ سے کوئی دن جاتا ہے کہ یہ طرزِ عمل ہمیں پتھر کے زمانے میں پہنچادے ، جب شہر مفقود اور شہری زندگی ناپید تھی۔​


مکمل خبر پڑھیں