Advertisement

یومِ سیاہ کی ریلیاں: کشمیروں کو بھارتی مظالم سے نجات دلانے کا عہد

October 31, 2019
 

پانچ اگست2019ء کے بھارتی اقدامات کے بعد مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو کے نفاذ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی کی جانب سے اس اہم مسئلہ کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لئے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں جب بھارتی فوج کی جانب سے کنٹرول لائن پر سول آبادی کو فائرنگ کا نشانہ نہ بنایا جاتا ہو۔ گزشتہ ہفتے بھارتی فوج کے چیف نے یہ بیان دیا کہ آزاد کشمیر میں قائم دہشت گردوں کے کیمپ کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

حالانکہ یہ صریحاً جھوٹ تھا بلکہ کنٹرول لائن پر بھارتی فوج نے جو فائرنگ کی تھی اس میں ایک آرمی جوان تین شہری شہید ہو گئے تھے۔ اس کے مقابلے میں پاکستانی فوج نے جوابی حملہ کرکے ہندوستان کی فوج کو ایسا سبق سکھایا کہ وہ آئندہ ایسی غیرقانونی کام کرنے سے پہلے کئی بار سوچیں گے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس واقع کی فوری بعد اسلام آباد مقیم متعدد بیرون ممالک کے سفارتکاروں کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کرایا تاکہ وہ خود اپنی آنکھوں سے ساری صورتحال دیکھ سکیں اور بھارتی فوج کی جانب سے بے بنیاد پروپیگنڈے کی حقیقت سامنے آسکے۔

بیرون ممالک کے سفارتکاروں نے موقع پر جاکر خود جائزہ لیا جس سے بھارتی فوج کے چیف کے بیان کی حقیقت سامنے آگئی۔ ادھر آزادکشمیر کے مختلف سیاسی وسماجی تنظیموں کی جانب سے بھارت کے خلاف سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ آئے دن مختلف جماعتوں اور گروپوں کی جانب سے کنٹرول لائن کراس کرنے کے اعلانات اور کنٹرول لائن تک احتجاجی ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔ قبل ازیں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر ایڈووکیٹ کی جانب سے راولاکوٹ اور کوٹلی سے احتجاجی ریلی تتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر گئی تھی اس کے بعد جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر توقیر گیلانی کی قیادت میں سارے آزاد کشمیر سے آئے ہوئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے مظفرآباد کے قریب چکوٹھی کنٹرول لائن پر بھرپور احتجاج کیا تقریباً دس دن ان کا یہ احتجاجی دھرنا جاری رہا بالآخر اقوام متحدہ کے نمائندوں سے مذاکرات اور وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے اس یقین دہانی پر کہ وہ وقت دور نہیں کہ جب سارے کشمیری مل کر کنٹرول لائن کو پائوں تلے روند کر مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوکر اپنے بھائیوں کو بھارتی ظلم وستم سے نجات دلائیں گے۔

قوم پرست جماعتوں تنظیموں اور گروپوں پر مشتمل پیپلز نیشنل الائنس (پی این اے) کے زیراہتمام قافلے آزاد کشمیر سے روانہ ہوئے۔ جس میں تمام قوم پرست جماعتوں کے سرکردہ زعماء قیادت کررہے تھے۔ اس میں مین کردار این ایس ایف کا تھا۔ ان کا پروگرام کالج گرائونڈ سے قانون ساز اسمبلی تک پرامن احتجاجی مارچ کرکے قانون ساز اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنا دینا تھا۔

تاکہ آزاد کشمیر میں چوبیس اکتوبر1947ء کی انقلابی حکومت کو بحال کیا جائے اور اس کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی تحریک چلائی جائے۔ کالج گیٹ سے نکلتے ہی انتظامیہ نے مظاہرین پر بلاوجہ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل پھینکنے شروع کر دیئے جس سے امن وامان کی صورتحال خاصی خراب ہوگئی متعدد افراد جن میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ تھی زخمی ہوئے ایک راہ گیر آنسو گیس کا شیل لگنے سے بے ہوش ہو گیا اور موقع پر دم توڑ گیا۔

بعدازاں پی این اے کے رہنمائوں نے سنٹرل پریس کلب مظفرآباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرکے آئندہ کا لائحہ عمل دینا تھا سرکردہ زعماء جب سنٹرل پریس کلب پہنچے اور اپنی بات شروع کی تھی کہ پولیس کے مسلح دستوں نے پریس کلب کی عمارت میں داخل ہوکر پریس کانفرنس کرنے ولالوں اور صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ پریس کلب کی عمارت کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا فرنیچر اور شیشے توڑ دیئے گئے صحافیوں سے کیمرے اور موبائل فون چھین لئے گئے صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس پر صحافیوں نے بھرپور احتجاج کیا جب شہریوں نے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھائی ان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔

اس پر دوسرے دن آزاد کشمیر بھر کے صحافیوں نے اپنے اپنے مقامات پر بھرپور احتجاجی مظاہرے کئے انتظامیہ اور حکومت کے اقدام کی بھرپور مذمت کی اور اس واقع کی غیرجانبدارانہ جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا۔ صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور پریس کلب کو نقصان پہنچانے پولیس اہلکاران کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا۔ دوسرے روز پی این اے، تمام سیاسی وسماجی جماعتوں اور وکلاء برادری نے اس سانحہ کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔

جن کے ذریعے سانحہ مظفرآباد کی عدالتی تحقیقات کروانے عوام پر تشدد کرنے اور معصوم شہری کو قتل کرنے والے پولیس اہلکاران کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر معاملے کی سنگینی کا اساس کرتے ہوئے فوری طور پر سنٹر پریس کلب مظفرآباد پہنچے اور واقع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے صحافیوں سے معذرت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اس سارے معاملے کی غیرجانبدانہ عدالتی انکوائری کرکے ذمہ داران کو قانون کے کہٹرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ ادھر آزاد کشمیر میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے گہری تشویش پائی جارہی ہے۔

آزادکشمیر کے عوام کنٹرل لائن عبور کرکے مقبوضہ کشمیر جاکر اپنے بھائیوں کو بھارتی کے ظلم وستم سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ اس میں حکمران رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ جس باعث عوام کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں