Advertisement

تبدیلی کے وعدے پورے نہ ہونے پر پختونخوا کے نوجوان مایوسی کا شکار

October 31, 2019
 

حکومت کی طرف سے اسلام آباد جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی اور اسلام آباد جانے والے قافلوں کو فری ہینڈ دینے کے فیصلہ سے اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں کا جوش و خروش بڑھتا جا رہا ہے جبکہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، قومی وطن پارٹی کے قائد آفتاب احمد خان شیرپائو، اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، پاکستان مسلم لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور پختونوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی ہدایت پر صوبے بھر میں لاکھوں افراد کے اسلام آباد مسلم لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف کی رہائی کے فیصلے سے مسلم لیگ کے کارکنوں کا مورال بلند ہو گیا ہے۔

حکمرانوں کے آمرانہ ہتھکنڈوں، غیر جمہوری اقدامات، انتقامی کارروائیوں اور سیاستدانوں کو گالیاں دینے سے اپوزیشن میں اشتعال بڑھتا جا رہا ہے۔وزیراعظم کا استعفیٰ اور نئے انتخابات کا مطالبہ قومی مطالبہ بن چکا ہے حکمرانوں کے خلاف عوامی نفرت بڑھ رہی ہے۔ عوام حکمرانوں سے بے زار اورنوجوان مایوس ہو چکے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والے 80فیصد لوگ پچھتا رہے ہیں۔حکمرانوں کی طر ف سے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے قائدین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے خلاف بھی انتقامی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما کئی بار رکن قومی اسمبلی، سینٹ و صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزیر رہنے والے حافظ حمد اللہ جان کو غیر ملکی قرار دیتے ہوئے ان کی شہریت ختم کر کے ان کا شناختی کارڈ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے سابق چیئرمین اور جے یو آئی کے مرکزی رہنما حاجی غلام علی کی طرف سے جے یو آئی کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ جان کو غیر ملکی شہری قرار دینے اور ان کے شناختی کارڈ کی منسوخی کو حکمرانوں کی بھونڈی حرکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام دشمن پالیسیوں سے حکمرانوں کے خلاف دبائو بڑھتا جا رہا ہے حکمران مولانا فضل الرحمان فوبیا کے شکار ہو گئے ہیں۔ حکمران رات کوڈرائونے خواب دیکھ کر بوکھلاہٹ میں آمرانہ ہتھکنڈوں اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیتے ہیں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کا بڑھتا ہوا احتجاج تاجروں کی ملک گیر ہڑتال پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ اور میاں محمد نواز شریف کی رہائی حکمرانوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بن گئی ہے خیبر پختونخوا میں نواز شریف حکومت میں ملک کے چاروں صوبوں اور قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کا خاتمہ اور دہشت گردوں کے مراکز و تربیتی مراکز کا خاتمہ کر کے عوام کو محفوظ بنا دیا گیا تھا اور ملک میں امن لوٹ آیا تھا دہشت گردوں کی طرف سے ماضی میں قومی وطن پارٹی کے قائد آفتاب احمد خان شیرپائو اور صوبائی صدر و سابق صوبائی سینئر وزیر سکندر حیات خان شیرپائو پر چار بار خود کش حملے کئے گئے خود کش حملوں سے آفتاب احمد خان شیرپائو معجزانہ طور پر بچ گئے جبکہ درجنوں افراد شہید و زخمی ہوئے۔

اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان پر خود کش حملہ ہوا جس میں اسفندیار ولی خان خود تو بچ گئے جبکہ کئی افراد شہید و زخمی ہوئے اے این پی کے بزرگ سیاستدان و سابق وفاقی وزیر الحاج غلام احمد بلور پر کئی بار حملے ہوئے لیکن وہ محفوظ رہے جبکہ خود کش حملوں میں اے این پی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور، اے این پی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات بیرسٹر ہارون احمد بلور اور اے این پی کے صوبائی اسمبلی کے رکن اورنگزیب خان شہید ہوئے پاکستان مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر انجینئر امیر مقام پر کئی بار حملے ہوئے جبکہ پشاور میں ان کی رہائش گاہ پر ہونے والے خود کش حملہ میں ان کے چچازاد بھائی و سابق صوبائی وزیر پیر محمد خان شہید ہو گئے۔ اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل و سابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے اکلوتے صاحبزادے میاں راشد حسین کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جبکہ بعد میں میاں افتخار حسین کی رہائش گاہ کے قریب خود کش حملہ بھی ہوا تاہم دہشت گردوں کا صفایا کرنے اور خیبر پختونخوا میں امن لوٹ آنے کے بعد دہشت گرد ایک بار پھر منظم ہونے لگے ہیں۔ دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافے پشاور میں اے این پی کے رہنما سرتاج خان اور باجوڑ میں پیپلز پارٹی کے رہنما کی ٹارگٹ پشاور میں پیپلز پارٹی کے رہنما پر دستی بموں سے حملے جبکہ دہشت گردوں کی طرف سے افغانستان سے موبائل فون پر رابطے کر کے اور پرچیاں بھیج کر صنعت کاروں تاجروں اور کاروباری لوگوں سے جنگی اخراجات کے لئے کروڑوں روپے کا بھتہ طلب کرنے اور بھتہ کی ادائیگی نہ کرنے والے صنعت کاروں تاجروں و کاروباری افراد کے مکانات و کاروباری مراکز پر دستی بموں سے حملوں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و صوبائی پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک اور دوسرے سیاسی رہنمائوں کو دہشت گردوں کی طرف سے ملنے والی دھمکیوں سے خیبر پختونخوا کے لوگوں میں خوف و ہراس بڑھتا جا رہا ہے اور عوام خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں