ٹورنٹو میں بے گھر لوگ

December 08, 2019
 

تحریر:ڈاکٹر محمود ندیم۔۔۔ کینیڈا
ٹورانٹو آسمان سے باتیں کرتی فلگ بوس عمارتوں کا شہر ہے جس نے ہمیشہ پروفیشنل ورکرز، کاروباری طبقے، مزدوروں اور ایک بڑی تعداد میں مہاجرین کو اپنے دامن میں پناہ دی ہوئی ہے اور ان کے لئے روزگار کے مواقع مہیا کئے ہیں۔ روشنیوں کا یہ شہر آجکل ہزاروں غریب و پریشان حال لوگوں کا شہر ہے، یہاں بے گھر لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ آج کل بے گھر لوگوں کے گمبھیر مسائل میں جھکڑا ہوا ہے۔ فیڈرل اور سٹی گورنمنٹ کی غیرذمہ دارانہ منصوبہ بندی اور بے حسی کے باعث عوام کو پیچیدہ اور پریشان مسائل میں مبتلا کر رکھا ہے۔ خصوصاً حالیہ بے روزگاری کی خوفناک لہر اور آئے روز مزید بیروزگاری کے ایشوز، سوسائٹی میں بڑھتی ہوئی بے چینی، گھروں میں بڑھتے ہوئے آپس میں جھگڑے، جسمانی تشدد، طلاق اور شادیوں کی ناکامی اور ہم جنس پرستی کے رجحان، گھریلو خاندانی نظام کا ٹوٹنا، عام آدمی کی تنہا زندگی، منشیات کا بے دریغ استعمال اور ذہنی امراض کی بہتات نے تیزی سے بے گھر لوگوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ گھروں اور اپارٹمنٹ کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتیں اور کرایوں میں ہوشربا اضافہ، خوراک کا مہنگا ہونا، آمدنی کے ذرائع کا محدود ہونا اور بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ گھروں کی کمی ہر روز بے گھر لوگوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق9,200سے زائد بے گھر افراد اس شہر کی سڑکوں کے کنارے فٹ پاتھوں، پلوں کے نیچے، کسی پارک کے کونے میں اور اکثر بلند عمارتوں کے سائے میں رات گزارتے نظر آتے ہیں۔ ان کے پاس شدید سردموسم میں مناسب گرم لباس، رہائش اور ضروری خوراک موجود نہیں ہے۔ صبح اگر ٹائون میں جانے کا اتفاق ہو تو ایسے درجنوں افراد محض کافی کا ایک کپ حاصل کرنے کیلئے ہاتھ پائوں پھیلاتے نظر آئیں گے اور ہر روز بھیک مانگنے والے ان افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ کینیڈا ایک طرف دنیا بھر سے امیگریشن کے خواہشمند افراد کو اپنے ملک آنے کی دعوت اور ریفیوجیز کے لئے اپنے بارڈر کھول کر انہیں پناہ دے رہا ہے اور دنیا میں انسانی حقوق کی علمبرداری کا ڈھول پیٹ رہا ہے اور اپنے عوام سے بے تحاشہ ٹیکس وصول کررہا ہے اور یہ حاصل کردہ ٹیکس ریفیوجیز کی فلاح و بہبود پر خرچ کررہا ہے جبکہ دوسری طرف اپنے عوام، مقامی افراد، بے گھر افراد کی رہائش اور سرچھپانے کیلئے ہائوسنگ پروجیکٹ اور دیگر فلاحی کاموں کے لئے فنڈز مہیا نہیں کرتا۔ آج بیروزگاری کا یہ عالم ہے کہ یہاں کے بے روزگار نوجوان یونیورسٹی ڈگری کے ساتھ چالیس پچاس ہزار ڈالر کا حکومتی تعلیمی قرضہ کا بوجھ اٹھائے سڑکوں پر بغیر نوکری کے پریشان حال پھرتے نظر آئیں گے۔ دوسری طرف ستم یہ ہے کہ صرف رات گزارنے کیلئے مزید شیلٹر ہوم بنانے کیلئے گورنمنٹ کیطرف سے توجہ دینے کی ضرورت ہے اس کے لئے سٹی گورنمنٹ بجٹ کی رقم مہیا نہیں کرپارہی۔ بے گھر افراد کا اضافہ ٹورانٹو میں آئے روز قتل عام، منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان، چوری اور تشدد جیسے واقعات کو جنم دے رہا ہے کیونکہ جہاں بھوک ہو اور سرچھپانے کیلئے چھت نہ ہو وہاں تشدد اور جرائم جنم لیتے ہیں۔ ٹورانٹو میں اس وقت 7016سپیسز (Spacese)یا آدمیوں کی جگہ شیلٹر ہومز ہی دستیاب ہیں مگر اس سے کئی گنا زیادہ تعداد میں لوگ رات کو سڑکوں پر موجود ہیں۔ ہر سال کئی بدنصیت شیلٹر نہ ہونے کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ علاوہ ازیں موجودہ شیلٹر ہومز میں لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ صفائی کی کمی، چوری چکاری، جسمانی تشدد، جنسی ہراسمنٹ اور دیگر جرائم کی بے پناہ شکایات موجود ہیں۔ اس لئے بے گھر لوگ رات سڑکوں پر گزارنے میں زیادہ تحفظ محسوس کرتے ہیں۔ شیلٹر ہومز کی پناہ گاہیں ان کیلئے محفوظ نہیں ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کینیڈا گورنمنٹ ملک کے اندر انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوئے غربت، افلاس، محروم لوگوں کا معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے سنجیدگی سے توجہ دے۔