نیشنل اسٹیڈیم کراچی، شاندار تاریخ، بے مثال ریکارڈ

اسپورٹس
December 17, 2019

دس سال بعد پنڈی میں کھیلا گیا پاک سری لنکا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا، اس میچ میں برسات تین روز حاوی رہی، مگر آخری دن موسم کو کر کٹ کے ترسے شائقین پر رحم آگیا، خوشگوار موسم میں پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی بیٹنگ جوہر دکھانے کا موقع مل گیا،سری لنکا نے اپنی پہلی اننگز 308 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کر دی تھی جس کے جواب میں پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں آخری روز کھیل ختم ہونے تک 2 وکٹوں پر 252 رنز بنائے،قومی ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین عابد علی ون ڈے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ڈیبیو پر سنچری اسکور کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے۔

انہوں نے 183 گیندوں پر 10 چوکوں کی مدد سے اپنی سنچری109رنز بنائے، بابر اعظم نے102رنز اسکور کئے،پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈ ی میںمیزبان ٹیم منیجمنٹ نے جن 11 کھلاڑیوں کو میدان میں اتارا انکے لئے پاکستانی سرزمین پر یہ ڈیبیو ٹیسٹ تھا،گویا 10 سال بعد کھیلنے والے 11کے 11 کرکٹرز پاکستان میں ٹیسٹ ڈیبیو کررہے تھے۔یہ کرکٹ کی دنیا میں انوکھی مثال ہے ،پاکستان کرکٹ بورڈ دسمبر میں پنڈی میں ٹیسٹ رکھ کر قدرے تنقید کی زد میں ہے ، سری لنکا کے خلاف یہ ٹیسٹ سیریز ستمبر اکتوبر میں شیڈول تھی ،آئی لینڈرز کے تیار نہ ہونے پر انہیں پہلے محدود اوورز کی سیریز کے لئے لایا گیا جب وہ یہاں دونوں فارمیٹ کی سیریز کھیل گئے تو ٹیسٹ سیریز کے لئے آنے پر تیار ہوئے، دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا دوسرا وآخری ٹیسٹ 19 دسمبر سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں شروع ہوگا۔نیشنل اسٹیڈیم کراچی 1955 سے ٹیسٹ میچزکی میزبانی کر رہا ہے، یہاں اب تک کھیلے گئے 41 ٹیسٹ میچزمیں سے پاکستان نے 21 جیتے اور صرف 2 ہارے جبکہ 18میچزڈرا رہے ، اسکے علاوہ 2میچز 1984میں بھارت اور 2002میں نیوزی لینڈ کے خلاف منسوخ ہوئے ۔

پاکستان کا یہاں ہائی اسکور 765 اور کم اسکور 128 رہا۔دسمبر 2000میں پاکستان انگلینڈ کے خلاف یہاں پہلا ٹیسٹ ہارا اور پھر7 سال بعد اکتوبر 2007میں جنوبی افریقا سے ہارا ،اب تک کھیلے گئے 41 ٹیسٹ میچز میں تمام ٹیمیں اس میدان میں پاکستان کے خلاف ایکشن میں آئیں، صرف 2 ٹیموں کو ایک ایک ٹیسٹ جیتنے کا خوش قسمت موقع مل سکا پاکستان کا یہ مضبوط قلعہ کوئی واشگاف انداز میں تواتر کے ساتھ فتح نہ کرسکا ،انگلینڈ نے 7میں سے واحد کامیابی جبکہ جنوبی افریقا نے اکلوتے ٹیسٹ میں فتح اپنے نام کی،یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ آسٹریلیا جیسی ٹیم یہاں 8 ،ویسٹ انڈیز7،بھارت اور نیوزی لینڈ 6،6 ٹیسٹ اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں ایک ٹیسٹ کھیل کر کامیابی کا ذائقہ تک نہ چکھ سکیں، آئی لینڈرز بھی کامیابی سے میلوں دور رہے،سری لنکا کرکٹ ٹیم 5 میں سے 4 میں ناکام ہوئی جبکہ ایک ٹیسٹ اس نے ڈرا کھیلا۔فروری 2009کا آخری ٹیسٹ یہاں سری لنکا نے ڈرا کھیل کر نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں مسلسل 4 شکستوں کا سلسلہ روکا تھا، جے سوریا اور سمارا ویرا کی ڈبل سنچریزکی بدولت مہمان ٹیم نے 7وکٹ پر 644رنزکے ساتھ اننگ ڈکلیئر کی تھی ، گرنے والی 7 میں سے اسپنرز دانش کنیریا کی 3اور شعیب ملک کی 2 ٹوٹل 5وکٹیں انکے نام رہیں تھیں،پاکستان نے یونس خان کی ٹرپل سنچری اور کامران اکمل کی سنچری کی بدولت 6وکٹ پر 765رنزکے ساتھ اننگ ختم کی ،سری لنکا نے جوابی اننگ میں 5وکٹ پر 144رنزکئے تھے کہ میچ کا وقت ختم ہوگیا ،موجودہ چیف سلیکٹر جمع ہیڈ کوچ مصباح الحق اس ٹیسٹ میں شامل تھے اور انکی اننگ 42 پر تمام ہوئی تھی اسکے لئے انہوں نے 205منٹ بیٹنگ کی 153 گیندیں کھیلیں ایک بیٹنگ پچ پر میزبان ٹیم کا عالم یہ تھا کہ یونس خان کی قیادت میں کھیلنے والی ٹیم نے قریب 249 اوورز بیٹنگ کی اور اسکے لئے قریب 1000منٹس لئے، ایوریج 3رنزکی رہی اسکے مقابل سری لنکا نے پہلے کھیلتے ہوئے صرف 656منٹ بیٹنگ کی 155 اوورز کھیلے اور 4 سے زائد کی اوسط سے رنز بٹورے۔یہ فرق شاید اس میچ کے ڈرا کا بنیادی سبب بھی بنا۔سری لنکن کرکٹ ٹیم نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں مسلسل دوسرا ٹیسٹ کھیلے گی،قومی کرکٹ ٹیم کی بولنگ لائن کمزور ہے، نیشنل اسٹیڈیم کراچی اتنے شاندار ریکارڈ کو رکھتے ہوئے سری لنکا کیخلاف شکست کامتحمل نہیں ہوسکتا ۔