کیسے کیسے گوہر نایاب اس شہر کے مکیں تھے

February 20, 2020

الطاف احمد

کیسے کیسے گوہر نایاب اور جوہر کم یاب اس شہر کے مکیں تھے، جن کے دم سے رونقیں تھیں اور محفلیں، مجلسیں تھیں، جو اب خیال و خواب ہو چکی ہیں بلکہ اب تو وہ لوگ بھی اور ان کے نام بھی ذہن سے محو ہوتے جا رہے ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد یہاں ہجرت کرکے آنے والی شخصیات نے جو اپنے اپنے علاقوں میں نامور تھیں رہائش اختیار کی تو اس شہر کی شان اور بڑھ گئی، ماضی میں گارڈن ایسٹ میں سردار واحد بخش بھٹو کی کوٹھی جو سر شاہ نواز بھٹو کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز تھی، نشتر پارک کی شمالی سمت حیدر منزل جہاں سائیں جی ایم سید جلوہ افروز تھے۔ کراچی چڑیا گھر کے عقبی روڈ پر اسلامی کلب سے ملحقہ پیر آف لواری پیر گل حسن کا گھر اور بمبئی لیجسلیٹیو کونسل و سندھ اسمبلی کو اپنی تقریروں سے گرمانے والے محمد ہاشم گزدر کی اقامت گاہ قصر ناز واقع تھی۔

گارڈن ایسٹ میں اس زمانے کی اشرافیہ رہتی تھی

تحریک خلافت، مسلم لیگ سمیت متعدد تنظیموں سے وابستہ حاجی عبداللہ ہارون کی وکٹوریہ روڈ پر رہائش گاہ ’’نصرت‘‘ اور اللہ بخش گبول کا ایک گھر لیاری کلاکوٹ اور دوسرا سولجر بازار سے ملحق تھا۔ کراچی کی سیاست پر چھائے چوہدری خلیق الزماں کی رہائش موجودہ چیف منسٹر ہاؤس کے قریب ڈاکٹر ضیا الدین روڈ پر تھی جو ان دنوں کچہری روڈ کہلاتا تھا، اسی طرح 70 کی قومی اسمبلی کے رکن مولانا ظفر احمد انصاری سعید منزل پر ماما پارسی اسکول کے مدمقابل ایم اے جناح روڈ پر قیام پذیر تھے اور یہیں کہیں وہ بنگلہ بھی تھا ،جس میں سورہیہ بادشاہ پیر صبغت اللہ شاہ ثانی کے اہلخانہ کو نظر بند رکھا گیا تھا۔

اسی سڑک پر لائٹ ہاؤس کی سمت چلیں تو برنس روڈ کی سابقہ فریم مارکیٹ سے متصل بابائے کراچی ایم ایم بشیر کی کپڑے کی دکان تھی جو بقول طاہر آزاد ہمہ وقت سیاسی بیٹھک کا کام دیتی تھی خود طاہر آزاد کے والد ابوالبیان آزاد جناح مسجد والی گلی کی فلیٹ سائٹ میں گراؤنڈ فلور پر رہائش پذیر تھے اور برنس روڈ کی سیاسی محافل کا اہم حصہ تھے۔ ٹاور کی سمت جاتے ہوئے حسن علی آفندی روڈ ہے ،جسے پیپر مارکیٹ بھی کہتے ہیں یہاں متروکہ املاک کی ایک عمارت میں مولانا عبدالقدوس بہاری کی رہائش تھی۔مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی رہائش کلفٹن کے موہٹہ پیلس میں تھی۔

برصغیر کی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا نام سید حسین امام موجودہ عبداللہ ہارون روڈ اور ماضی کے وکٹوریہ روڈ پر جبیس ہوٹل کے قریب رہا کرتے تھے۔ مسلم لیگ کی جدوجہد کا اہم حصہ مولانا ظہور الحسن درس صدر کراچی کے علاقے میں سمرسٹ اسٹریٹ پر رہائش پذیر تھے۔ اب یہ سڑک راجا غضنفر علی اسٹریٹ کہلاتی ہے۔

پاکستان چوک پر مولانا دین محمد وفائی کے اخبار کا دفتر اور رہائش تھی، آج بھی یہ عمارت اپنے مکینوں کی یاد دلاتی ہے۔ سامنے ٹریفک چوکی والی سڑک پر جسے ماضی میں اسٹریچن روڈ کہتے تھے اور اب یہ دین محمد وفائی روڈ معروف ہے۔ قیام پاکستان کے وقت کراچی کے میئر حکیم محمد احسن کا گھر تھا۔ اسی سڑک پر این ای ڈی یونیورسٹی کا اولڈ کیمپس، برنس گارڈن، ڈی جے کالج، ایس ایم آرٹس کالج، قومی عجائب گھر، آرٹس کونسل،اسکاؤٹس ہیڈ کوارٹر، فری میسن ہال، نواب آف ماناودر کی کوٹھی اور ملحقہ سڑک پر کراچی پریس کلب بھی واقع ہے۔

پاکستان بننے کے بعد کراچی پھیلا تو سیاسی بیٹھکیں بھی شہر بھر میں ہونے لگیں، ورنہ تو مختصر سے کراچی میں لیاری، کھارادر، نیپیئر روڈ، پاکستان چوک، صدر، گزری اور عامل کالونی، آرام باغ، برنس روڈ، لارنس روڈ ہی سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ تھے۔

شیر کراچی سید سعید حسن کوئنز روڈ ولیکا ہاؤس کے قریب رہا کرتے تھے یہ سڑک اب مولوی تمیز الدین خان روڈ کہلاتی ہے۔

قیام پاکستان کے بعد سندھ کے وزیر اعلیٰ رہنے والے پیر الٰہی بخش نے کراچی سینٹرل جیل سے ملحقہ علاقے میں کوآپریٹیو سوسائٹی قائم کی ان کے نام سے منسوب اس کالونی میں علامہ عبدالحامد بدایونی کی بھی رہائش تھی۔

لائنز ایریا میں مولانا احتشام الحق تھانوی کی رہائش تھی ان کی مسجد آج بھی شہر کی مرکزی مساجد میں شمار ہوتی ہے ان کے صاحبزادے تنویر الحق سینیٹر اور احترام الحق پی پی ون لیگ کے رہنما رہے ہیں۔

باتھ آئی لینڈ میں کلفٹن برج سے ملحقہ راجہ صاحب محمود آباد کا قیام پاکستان سے قبل خرید کردہ بنگلہ ’’محمود آباد ہاؤس‘‘ کہلاتا تھا۔سندھ کے سابق گورنر اور سابق صدر مملکت ممنون حسین ایم اے جناح روڈ پر جامع کلاتھ مارکیٹ کی عقبی گلی میں رہتے تھے ان کی سیاسی محافل یہاں جمتی تھیں پھر وہ ڈیفنس منتقل ہوگئے۔

قیام پاکستان سے قبل کراچی کا پوش علاقہ گارڈن ایسٹ بھی تھا، جہاں اس زمانے کی اشرافیہ رہتی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد یہاں متمول افراد کو جو ہندوستان سے آئے تھے یہ کوٹھیاں الاٹ ہوئیں۔ گارڈن ایسٹ ہی میں رئیس امروہوی ان کے بھائی سید محمد تقی، جون ایلیا اور سید محمد عباس 129 الف مانک جی اسٹریٹ میں رہا کرتے تھے۔

قریب ہی پروفیسر کرار حسین کی اپنے صاحبزادوں تاج حیدر، جوہر حسین و دیگر کے ساتھ 74 گارڈن ایسٹ میں رہائش تھی۔شاہراہ فیصل پر مہران ہوٹل سے ملحقہ زرداری ہاؤس میں حاکم علی زرداری کی رہائش تھی جو اب منہدم ہوکر ہائی رائز بلڈنگ میں تبدیل ہو رہی ہے۔ ۔ مولانا شاہ احمد نورانی کی رہائش سمرسٹ اسٹریٹ پر میمن مسجد سے ملحقہ ماسٹر ہاؤس میں تھی، یہاں بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم فیصلے ہوئے۔قریب کی گلیوں میں کراچی کے سابق ڈپٹی میئر عبدالخالق اللہ والا، رکن سندھ اسمبلی ملک حنیف پاکستان والا کی رہائش تھی۔

اسی سڑک پر ٹاور کی سمت چلیں تو کراچی چیمبر ہے جس کا افتتاح گاندھی جی نے کیا تھا۔ اس کی دیوار پر سنگی تختی مدتوں تک نصب رہی تھی، یہیں تاریخی آرام باغ واقع ہے جسے ماضی میں رام باغ کہا جاتا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد جب دلی کے آرام باغ کو رام باغ کا نام دیا گیا تو یہاں مقیم دلی والوں نے اسے آرام باغ پکارنا شروع کردیا اور اب کسی کو اس کا پرانا نام یاد نہیں۔ یہیں آرام باغ روڈ پر جسے اب ڈاکٹر محمد ہاشم خان غوری روڈ پکارا جاتا ہے حکیم محمد سعید کو شہید کیا گیا تھا جہاں ان کا مطب واقع ہے۔

پرانے سیاست داں ملک عدم کوچ کرگئے۔ نئی سیاست نگری آباد ہوئی تو کراچی سیاست کا نباض نہ رہا۔ اب یہاں چار درجن سے زائد ارکان اسمبلی، سینیٹر اور کتنے ہی سیاستدان آباد لیکن وہ رونق میلہ نہیں ۔