تاجکستان میں ’’پاکستان ثقافتی میلہ‘‘

April 20, 2020

انجینئرز آف پاکستان ان ایمریٹس (ای پی ای) یواےای میں انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ پاکستانیوںکی معاونت کے لیے قائم کیا گیا ایک فعال ادارہ ہے۔ ای پی ای کے مقاصد میں یو اے ای میں مقیم پاکستانی انجینئرز کو ایک پلیٹ فارم مہیاکرنا، نئے آنے والے انجینئرز کو ملازمت کے حصول میں مدد اور ہر قسم کا تعاون کرنا شامل ہے۔ای پی ای کے روح رواں ملک ظہیر اعوان اور ان کے ساتھی بے لوث خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کے ممبران کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ای پی سی تقاریب کا بھی اہتمام کرتی ہے۔ گزشتہ دنوں دو تقاریب کا اہتمام کیا گیا جس میں شام موسیقی اور تقسیم ایوارڈ منعقد کی گئیں۔

سفیر پاکستان عمران حیدر اور وزیر ثقافت تاجکستان پاکستان ثقافتی میلہ کا افتتاح کررہی ہیں

پرائیڈ آف پرفارمنس استاد رئیس خان کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کیاگیا، جنہوں نے مغربی و مشرقی دھنوں پر وائلن بجا کر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ یہ تقریب سفارت خانہ پاکستان ابو ظہبی میں منعقد ہوئی۔ دوسری تقریب مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی سفیر پاکستان غلام دستگیر تھے، دیگر مہمانوں میں ای پی ای کے چیئرمین ملک ظہیر اعوان، ڈاکٹر طلعت محمود، ملک عمران طاہر، قاضی عابد، محمد اخلاق، عبدالوہاب، غیاث الرحمن، راجہ فرقان، مبشر سعید، دلدار حسین، عبدالحمید، عمر حبیب، ڈاکٹر منظور حسین،جمیل حسین، روشن درانی، سعید سرور موجود تھے۔ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت حافظ ابوہریرہ نے حاصل کی، اسٹیج سیکریٹری کے فرائض غیاث الرحمن نے سرانجام دیئے۔

ای پی سی ممبران کا سفر پاکستان غلام دستگیر اور ملک ظہیر اعوان کے ہمراہ گروپ فوٹو

اس موقعے پرای پی سی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی۔ نئے اور پرانے انجینئرز نے ملازمت کے حصول میں حائل مشکلات اور ان کے حل پر روشنی ڈالی۔ چیئرمین ملک ظہیر اعوان نے کہا کہ آج سے 5؍ سال قبل ای پی ای کا قیام عمل میں آیا۔یو اے ای میں پاکستانی انجینئرز کی بڑی مانگ ہے بلکہ یہ فیورٹ جگہ ہے یہاں پاکستانی انجینئرز کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ ای پی سی یہاں آنے والے نئے انجینئرز کو ملازمت کے حصول میں بغیر کسی معاوضے کے ہر طرح کی مدد کرتی ہے۔

شرکائے میلہ آرٹ گیلری کا دورہ کررہے ہیں

ملازمت کے لئے سی وی سے لے کر انٹرویو تک پوری طرح گائیڈ کیا جاتاہے۔ ای سی پی انجینئرز اور اسپانسرز کے درمیان رابطے کا کام کرتی ہے۔ ہمارے 200؍ سے زائد ممبران نے آج کی تقریب میں شرکت کی ہے۔ہم نئے آنے والے انجینئرز کی مکمل رہنمائی کرتے ہیں، تجرباتی انٹرویوز کرتے ہیں اور حصول روزگار کے لئے مدد کی جاتی ہے۔مہمان خصوصی و سفیر پاکستان غلام دستگیر نے کہا کہ امارات میں تقریباً 16؍ لاکھ پاکستانی بسلسلہ روزگار مقیم ہیں ان میں سے زیادہ تعداد غیر پیشہ وارانہ محنت کشوں کی ہے۔ ہمارے انجینئرز، ڈاکٹرز اور بنکرز نے اپنی صلاحیتوں اور محنت سے مقام حاصل کیا ہے میں اور سفارت خانہ ای پی سی کے مقاصد اور کام کو سراہتے ہیں اس فورم کو بہترطریقہ سے کام کرنے کے لئے مقامی قوانین کے تحت رجسٹر کروانا چاہئے تاکہ بہتر انداز میں کام کرسکیں۔ ای پی سی ٹیم مبارکباد اور خراج تحسین کے لائق ہے۔ انجینئرز اپنے فورم کو قانونی رجسٹرڈ کروانے کے لئے پاکستان ایسوسی ایشن دبئی سےرابطہ کرسکتے ہیں۔

امارات میں مقیم دو پاکستانی بھائیوں عمار اشفاق اور سننان اشفاق کو تائی کوانڈو میں عالمی سطح پر پاکستان کے میڈل حاصل کرنے، شاہینہ اجمل (اسکول کے سلسلے میں خدمات) محمد عمیر اور ندیم انور بٹ (انجینئرنگ شعبہ) اشفاق احمد، طاہر منیرطاہر، سید مدثر خوشنود، خالد محمود گوندل (صحافت) کو بہترین خدمات کے صلہ میں شیلڈ پیش کی گئیں جو کہ سفیر پاکستان غلام دستگیر نے دیں۔ چیئرمین ای سی پی نے فورم کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی۔

ثقافتی میلے، ٹھیلے اور تقریبات ہماری تہذیب اور روایت میں شامل ہیں۔ پاکستان کے ہر علاقے اور صوبے میں لوگ اپنے اپنے طریقے سے ان میلوں کا اہتمام کرتے ہیں ۔ جوش و خروش سے ان ثقافتی میلوںمیں حصہ لیتے ہیں لیکن پاکستان سے ہزاروں کلومیٹر دور تاجکستان کے دارالخلافہ دوشنبہ میں ’’پاکستان ثقافتی میلے‘‘ کا اہتمام کرنا ناممکن نہیں تو ایک مشکل ہدف ضرور تھا،تاہم وطن سے دور دیار غیر میں تین روزہ ثقافتی میلے کا منعقد کرنا تاجکستان میں پاکستان کے سفیر عمران حیدر کے سر ہے جنہوں نے و سیع پیمانے پر میلے کااہتمام کرکے نہ صرف وہاں مقیم پاکستانیوں کے دل جیت لئے بلکہ مقامی افراد نے بھی اسے بے حد پسند کیا۔ یہ تاجکستان کی تاریخ میں پہلا پاکستان ثقافتی میلہ تھا۔ عمران حیدر بطور سفارت کار متحدہ عرب امارات، ایران اور بھارت میں پاکستان کے مثبت امیج اور ثقافت کو پیش کرنے میں سرگرم عمل رہےہیں۔ انہوں نے دوشنبہ میں بھی ثقافتی میلے کا اہتمام کرکے یہ ثابت کیا کہ اگر سفارتکار اپنے دفاتر سے باہر نکل کر کچھ کرنا چاہیں تو بہت کچھ کرسکتے ہیں۔

گزشتہ دنوں منعقد ہونے والےتین روزہ پاکستان ثقافتی میلے کا اہتمام دو شنبہ شہر کے قلب میں واقع وقار اوپیرا تھیٹر میں کیا گیا۔ مہمان خصوصی تاجک وزیر ثقافت دولت زودہ ذلفیا دولت تھیں۔ ان کی آمد پر سفیر پاکستان عمران حیدر اور ان کی اہلیہ نے گرم جوشی سے استقبال کیا۔ حکومتی اعلی عہدے داروں، ارکان اسمبلی، نائب وزیر خارجہ، سفارت کاروں، مقامی تاجروں، صحافیوں، ماہرین تعلیم اور پاکستان کمیونٹی کی بڑی تعداد نے میلے میں بھرپور شرکت کی۔ تھیٹر کے اندر اور باہر پاکستانی پرچموں کی بھرمار تھی۔ سبز اور سفید غباروں سے خصوصی گیٹ بھی بنایا گیا۔ سفیر پاکستان کے ساتھ ساتھ دیگر پاکستانی سفارت کار، شرکاء کو جھک جھک کر ’’جی آیاں نوں‘‘ سے استقبال کررہے تھے۔ سفیر پاکستان عمران حیدر اور تاجک وزیر ثقافت نے مل کر فیتہ کاٹا۔ افتتاحی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔

عمران حیدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور تاجکستان بہترین باہمی روابط سے لطف اندوز ہیں جو مشترکہ تاریخ اور ثقافت سے جڑے ہوئے ہیں۔ مہمان خصوصی تاجک وزیر ثقافت محترمہ دولت زودہ ذولفیا نے کہا کہ سفارت خانہ پاکستان نے ثقافتی میلہ کے انعقاد سے ایک عظیم قدم اٹھایا ہے جس کے لئے بلا شبہ عمران حیدر سفیر پاکستان کو مبارک باد پیش کرتی ہوں۔ اس سے دونوں ممالک کے مابین ثقافتی تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ باہمی تعاون کو بڑھانا تاجک حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اس سے دونوں ممالک کے عوام کو قریب تر لایا جائے گا۔

مہمان خصوصی نے عمران حیدر کے ہمراہ ہال کا دورہ کیا جو پاکستانی ثقافت کا بھرپور عکس پیش کررہا تھا۔ گل دان، لالٹین، پرس، ٹیبل لیمب، ماربل سے بنی اشیاء، نوادرات، برتن، ملبوسات، ڈھول وغیرہ بڑے خوب صورت انداز میں سجائے گئے تھے، جس نے پاکستانی ثقافت کے رنگ بکھیر دیے تھے۔ نقش نگاری والے پیتل کے برتن،زیورات اور سندھی رلیاں بے حد پسند کی گئیں۔اس موقعے پر تصاویری نمائش کا بھی اہتمام تھا،ان تصاویر کے ذریعے پاکستان کی تہذیب، تاریخ اور قومی ہیروز خصوصاً عبدالستار ایدھی کی شخصیت کوبھی متعارف کروایا گیاتھا۔ کشمیری اسٹال بھی توجہ کا مرکز رہا۔

اس موقعے پر فوڈ کارنر کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیاتھا، جہاں پاکستانی پکوان سے شرکاءکی تواضع کی گئی۔ تاجک بچوں نے ڈھول کی تھاپ پر رقص کرکے میلہ لوٹ لیا۔ بچوں کو پاکستانی رنگ برنگی چوڑیاں پیش کی گئیں۔ پاکستانی بچوں نے قومی ثقافت پر والہانہ جھوم کر وطن سے محبت کا ا ظہار کیا۔بلاشبہ یہ دیار غیر میں پاکستان کا مثبت امیج اور ثقافت کو پیش کرنے کا شاندار میلہ تھا جو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ شرکاء نے سفیر پاکستان عمران حیدر کی کاوشوں کو سراہا، ایسی کاوشوں سے دیار غیر میں رہنے والی نئی نسل کو اپنی ثقافت سے آگاہی ملتی ہے ۔تین روزہ میلے میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔