کِشتِ جاں (غزلیں، نظمیں)

May 17, 2020

شاعرہ:ثرّیا حیا

صفحات: 144،قیمت: 300 روپے

ناشر:الحمد پبلی کیشنز،کراچی۔

یہ بات بہت حد تک دُرست ہے کہ شعر و ادب سے اُلفت میں گھر کا ماحول،تربیت اور خود فرد میں اکتساب کا عمل اہم ترین عوامل کے طور پر کام کرتے ہیں۔کسی اور کے ساتھ ایسا ہوا ہو،نہ ہوا ہو،’’کِشتِ جاں‘‘کی ثرّیا حیاکے ساتھ تو یقیناً ایسا ہی ہوا ہے۔ آباء و اجداد دہلی کے طبقۂ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے صاحبانِ علم۔ خانوادے میں اشرف صبوحی اور اخلاق احمد دہلوی جیسے نام وَر لوگ موجود۔ خود ثرّیا حیانے جامعہ کراچی سے ساٹھ کے وسط میں ایم اے سیاسیات کی سند حاصل کی اور تدریس سے وابستگی اختیار کی۔

شعر و سُخن کی روایت بزرگوں سے اُن تک آئی اور یوں اُنہوں نے اپنے احساسات،مشاہدات اور تجربات کو ’’کِشتِ جاں‘‘کی صُورت نذرِ قارئین کر دیا۔ اُن کی شاعری میں جو بات اوّلین سطح پر نظر آتی ہے ،وہ اُن کے لہجے کی پُختگی ہے،جو نظموں اور غزلوں دونوں میں نمایاں ہے۔جیسے؎’’نہ کوئی نقش ہے باقی نہ نشانی میری …اُس نے پانی پہ لکھی ہو گی کہانی میری ‘‘؎’’اذنِ کلام اہلِ سُخن کو ملا ہے اب …ہر اک سُخن میں گرمیِ گفتار دیکھنا ‘‘ ؎’’وسعتِ بحرِ بے کنار ہوا …موج در موج ناخدا تھا دِل‘‘۔