کرہ ارض سے بھی پرانا شہابی پتھر دریافت

March 29, 2021

ماہرین فلکیات نے ایک ایسا شہابیہ دریافت کیا ہے جو زمین سے بھی پرانا ہے اور یہ اپنی فطرت میں آتش فشانی پتھر ہے ۔ماہرین کے مطابق اس کی عمر چار ارب ساٹھ کروڑ سال ہے ۔اس نایاب پتھر کو الجزائر کے ریگستان سے تلاش کیا گیا ہے جو باقاعدہ صحارا ریگستان کا ایک حصہ ہے۔خیال کیا جارہا ہے کہ یہ پتھر نظامِ شمسی بننے کے صرف 20 لاکھ سال بعد وجود پذیر ہوا ہے۔

اس کا مطالعہ ہمیں اپنے نظامِ شمسی کے ماضی سے آگاہ کرے گا اور ہم زمین کے ارتقا کو بھی جان سکیں گے۔اس شہابیے کو ’’ جو ایرگ چیک 002 ‘‘کا نام دیا گیا ہے۔ فرانس کے ماہر جین ایلکس بیرے کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زندگی کی سب سے حیرت انگیز دریافت ہے۔

زمین پر اس طرح کے پتھر اینڈیسائٹ کہلاتے ہیں جو ارضیاتی سبڈکشن زون میں عام پائے جاتے ہیں۔ ان مقامات پر زمین کی قدرتی ارضیاتی پلیٹیں ملتی ہیں اور ایک دوسرے سے نبردآزما رہتی ہیں۔ لیکن اب تک جو پتھریلے شہابئے ملے ہیں وہ بیسالٹ سے بنے ہیں۔ ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پگھلے ہوئے مادّے سے بنا ہے اور اپنی فطرت میں آتش فشانی ہے۔ پھر چار ارب ساٹھ کروڑ سال قبل یہ جم کر ٹھوس شکل اختیار کرگیا تھا۔

یہ شہابی پتھر کسی ایسے ناکام سیارے یا پروٹوپلانٹ کا حصہ رہا ہے جو سیارہ تو نہ بن سکا لیکن ٹوٹ پھوٹ کر کہیں بکھر گیا تھا، تاہم ماہرین اس پر مزید تحقیق کرکے اس کے رازوں سے پردہ اُٹھا ئیں گے۔