وفاق اور سندھ میں ’’لفظی جنگ‘‘ کب ختم ہوگی؟

June 17, 2021

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہےوفاقی بجٹ پر پی پی پی کی قیادت نے شدیدتنقید کی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے بجٹ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہاکہ آئی ایم ایف کے ملازموں نے بجٹ تیار کرکے عمران خان کو دیا جسے کسی بھی غور کے بغیر جوں کا توں پیش کردیا گیا،عوام دشمنی کی بنیاد پر بنائے گئے سلیکٹڈ بجٹ کے ہر صفحے پر عوام کے معاشی قتل عام کی ترکیبیں لکھی ہیں۔

بلاواسطہ ٹیکس کے بجائے اربوں روپے کے بالواسطہ ٹیکس لگانے کی عمران خان کی چوری پکڑی گئی ہے، عام آدمی کے استعمال کی ہر شے پر اربوں روپے کا بالواسطہ ٹیکس لگادیا جس کے بعد ملک میں مہنگائی کا ایک نیا سونامی آنے والا ہے،پیٹرول پر 20 روپے فی لیٹر اور چینی پر سات روپے فی کلو کا اضافہ بالواسطہ ٹیکس کی وجہ سے ہونے والا ہے جسے ہم ناکام بنائیں گے۔

جب کمپنیاں خام تیل اور ایل این جی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس دیں گی تو پیٹرول اور گیس کی قیمتیں بڑھیں گی اور اس بالواسطہ ٹیکس کا بوجھ عوام بھگتیں گے۔بلاول بھٹونے کہاکہ ہم اس بجٹ کو مسترد کرتے ہیں بلاول بھٹو نے بجٹ کو عوام پر معاشی حملہ قرار دے دیاانہوں نے بجٹ کو عوامی نہیں بلکہ سیاسی قرار دے دیا انہوںنے کہاکہ عمران خان کی حکومت نے شرح سود میں ردوبدل کرکے قومی خزانے کو ایک ہزار ارب روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی اور پاک سرزمین پارٹی نے بجٹ پر کڑی تنقید کی۔پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے بجٹ 2020-21کو مسترد کرتے ہوئے اسے ہندسوں کا گورکھ دھندا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی سے 70 فیصد ریونیو حاصل کرکہ بجٹ بنانے والے پہلے کراچی پر خرچ کی گئی رقم کا حساب دیں۔ پچھلے سال سینکڑوں اور ہزار ارب روپے کراچی کے لیے مختص کرنے والوں نے ناصرف اب تک ایک دمڑی بھی کراچی پہ خرچ نہیں کی بلکہ کلین کراچی کے نام پر تحریک انصاف کے ٹھگوں کا ٹولہ کراچی والوں کے کروڑوں روپے لیکر غائب ہوگیا۔

جماعت اسلامی کے امیر وسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے وفاقی بجٹ کو قرضوں کی معیشت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نئے قرض لیکر پرانے قرض وسود کی ادائیگی کی تیاری ہے، ریاست مدینہ طرز حکومت کے قیام کی دعویدار حکومت یہ تیسرا سودی بجٹ پیش کررہی ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کی بجائے اس سے نجات حاصل کرنے کیلئے پیش قدمی کی جائے۔

جبکہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سینئرنائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ یہ اے ٹی ایم بجٹ ہے اس سے صرف حکومتی اے ٹی ایم کو فائدہ ملے گا، بجٹ کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی گئی ہے، عمران خان کی حکومت آنے سے ملک میں 1200 ارب کے نئے ٹیکس لگے، جھوٹ بولنے سے حقائق بدلتے نہیں ہیں۔ادھرپی پی پی پانی کے مسئلے کے بعدوفاقی بجٹ میں سندھ کے ترقیاتی پروگراموں کو شامل نا کرنے پر سراپااحتجاج ہے تو این ایف سی کے معاملے پر بھی پی پی پی کے شدیدتحفظات ہیں۔

پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے کہاہے کہ سندھ ہی نہیں باقی تینوں صوبوں کو بھی حصہ نہیں مل رہا لیکن ان کی زبانیں بند ہیں، سندھ کا شیئر این ایف سی میں770 ارب تھا، اب تک 613 ارب ملا۔ ہمیں اب تک کے گیارہ ماہ میں 690 ارب ملنا چاہیئے تھے۔وفاق کا موقف ہے کہ ہم نے سندھ کو بھرپور فنڈز دیئے تاہم صوبے نے اسے خرچ کرنے میںسست روی اختیار کی اور ترقیاتی بجٹ پر اخراجات کے حوالے سے سندھ خیبرپختونخوا سے بھی پیچھے رہ گیا،ٹیکس آمدن میں 233 ارب کی کمی تنازع کی اصل وجہ ہے۔

وزارت منصوبہ بندی کی دستاویز کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا مارچ کے 9 ماہ کے دوران سندھ نے ترقیاتی منصوبوں پر 77 ارب 44 کروڑروپے خرچ کئے جبکہ اس کے مقابلے میں خیبرپختونخوانے اس دوران ترقیاتی منصوبوں پر 94 ارب 50 کروڑ روپے خرچ کئے، پنجاب نے ترقیاتی کاموں پر 178 ارب 80 کروڑ جبکہ بلوچستان نے 41ارب 21کروڑ خرچ کئے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے دورہ سندھ کے دوران صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ سندھ حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، ہر پانچ سال بعد پیپلز پارٹی سے کسی ایک شخص کو ربڑ سٹیمپ کے طور پر وزیراعلیٰ ہاوس میں بٹھا دیا جاتا ہے، اس کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا، سارا اختیار ان کے پاس ہے جو سندھ اسمبلی میں نہیں بلاول ہاوس میں بیٹھتے ہیں، سندھ کے اضلاع کو فنڈز جاری نہیں کئے جا رہے، زرداری خاندان نے سندھ اسمبلی کو مفلوج کر دیا ہے، ادھر وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سندھ کو ترقیاتی کاموں میں25فیصد حصہ دیا جائے ، سندھ میں ایسٹ انڈیا کمپنی نابنائے ورنہ مزاحمت کریں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ دو پاکستان نہ بنائیں، سندھ سے مزید ایسا سلوک برداشت نہیں کریں گے، دوسرے صوبوں کو جب 400 فیصد تک زیادہ دیا جارہا ہے تو سندھ کا حصہ بھی 25 فیصد بڑھایا جائے۔ اجلاس میں کسی کے منہ سے نکل گیا کہ اقتدار بچانے کے لیے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی منصوبے دیئے جارہے ہیں۔ سندھ کے ڈیڑھ ارب کے دو منصوبے رکھے گئے ہیں۔ پنجاب کو سندھ سے زیادہ فنڈز دیئے گئے ہیں۔

عام تاثر یہی ہے کہ عوام کی توجہ مسائل سے ہٹانے کے لیے وفاق اور صوبہ آپس میں دست وگریباں ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ وفاقی حکومت کراچی کو جہاں سے انہیں بھرپورمینڈیٹ ملا وعدہ فردا پر ٹرخاتی رہی ہےکبھی1100 ارب روپے کے پیکیج کا مژدہ سنایا ،کبھی 9 سو ارب روپے کا لولی پاپ دیا۔