• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہزار ارب کی کرپشن، این ایچ اے نے وزیر کا بیان مسترد کر دیا، ٹرانس پیرنسی

اسلام آباد (انصار عباسی) ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے 2014ء سے 2018ء کے درمیان دیے گئے ٹھیکوں میں ایک ہزار ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے حوالے سے اپنے ہی وزیر مراد سعید کے بیان کی نفی کی ہے۔ 

18؍ اکتوبر 2018ء کو سیکریٹری کمیونیکیشنز کو لکھے گئے خط میں ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل نے این ایچ اے کے سینئر عہدیدار کا بیان بھی جاری کیا ہے جس میں انہوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ’’بدقسمتی سے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے حکام بالا بات سمجھیں اور ایسے بیانات نہ دیں۔ 

این ایچ اے کا کئی مرتبہ آڈٹ کرایا گیا ہے اور معمول کے مشاہدات کے سوا اور کوئی بات سامنے نہیں آئی۔‘‘ ٹرانس پیرنسی کا کہنا تھا کہ اس مخصوص معاملے پر وزیراعظم کے سٹیزن پورٹل پر 17؍ اکتوبر 2021ء کو ٹرانس پیرنسی کو یہ پیغام بھیجا گیا، ’’مذکورہ افسر (ممبر پلاننگ، این ایچ اے ہیڈکوارٹرز، اسلام آباد) نے آپ کی شکایت کا کیس بند کر دیا ہے اور مندرجہ ذیل ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ 

’’ محترم مدعی، کوئی کرپشن نہیں ہوئی، این ایچ اے نے تمام کنٹریکٹ پی پی آر اے کے رولز کے تحت مشتہر کردہ کھلی بولی میں دیے۔ تمام بولیوں کا ہمیشہ پہلے جائزہ لیا جاتا ہے اور پہلے بھی لیا گیا تھا اور ہمیشہ کم سطح پر بولی دینے والے کو ہی ٹھیکہ دیا جاتا ہے۔ 

یاد رکھیں کہ جن ٹھیکوں کا حوالہ دیا گیا ہے وہ اندازوں سے 15؍ فیصد کم سطح پر رہے ہیں جس سے قومی خزانے کو فائدہ ہوا ہے۔ اب موجودہ حکومت میں، کورونا اور دیگر معاشی پہلوئوں کی وجہ سے ابتدائی دو سال میں زیادہ کام نہیں ہو سکا۔ اور اب جب کام کا ٹھیکہ دیا جا رہا ہے تو ڈیمانڈ اور سپلائی کے اصول کے تحت بولی لگانے والے منفی 20؍ سے منفی 40؍ فیصد پر کوٹیشن دے رہے ہیں۔ 

این ایچ اے نے ایک مرتبہ پھر ایسے بولی دینے والے کو ٹھیکہ دیا جس نے سب سے کم بولی دی اور جن اصولوں اور ضابطوں پر پہلے عمل کیا گیا تھا اُن ہی پر عمل کیا گیا۔ مارکیٹ ڈائنامکس وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں، مستبقل میں جب کام زیادہ ہوگا تو ہمیں یہ رجحان اوپر جاتا نظر آئے گا۔ 

بدقسمتی سے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے حکام بالا بات سمجھیں اور ایسے بیانات نہ دیں۔ این ایچ اے کا آڈٹ کئی مرتبہ کرایا جاتا ہے اور معمول کی آبزرویشن کے سوا کوئی ایسا ایشو سامنے نہیں آیا۔‘‘ 

ٹرانس پیرنسی کے مطابق، این ایچ اے کی جانب سے پرائم منسٹر سٹیزن پورٹل پر بھیجا جانے والا جواب، پورٹل کی جانب سے جواب کی منظوری اور شکایت ختم کیے جانے سے ثابت ہوتا ہے کہ وزیر برائے مواصلات کا بیان غلط تھا۔ 

وزیر نے کہا تھا کہ 2013ء سے 2018ء تک موٹروے کے ٹھیکے 2020-21 میں اُن کی وزارت میں دیے گئے ٹھیکوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ قیمتوں پر دیے گئے تھے اور اس سے قومی خزانے کو کرپشن کی وجہ سے ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا۔ 

ٹرانس پیرنسی نے سیکریٹری مواصلات سے کہا تھا کہ وزیراعظم کو بتائیں کہ وزیر کا بیان غلط تھا۔ ٹرانس پیرنسی کا کہنا ہے کہ 4؍ اکتوبر 2021ء کو ادارے نے خط لکھا تھا اس کے مندرجات این ایچ اے کی جانب سے سٹیزن پورٹل پر دیے گئے جواب کی روشنی میں درست ثابت ہوئے ہوئے۔ 

1) پی پی آر اے رولز میں سے رول نمبر 47؍ کی خلاف ورزی کا الزام درست ہے، اور این ایچ اے نے پی پی آر ویب سائٹ پر 2013ء سے 2021ء تک دیے گئے ٹھیکوں کی دستاویز اپ لوڈ نہیں کیں، ان میں بی او کیو، کنٹریکٹ معاہدے، ٹھیکوں کی شرائط اور اسپیسی فکیشن وغیرہ شامل ہیں۔ 

2) یہ بات قابل غور ہے کہ سڑکوں کی تعمیرات کے اخراجات کا انحصار کئی پہلوئوں پر ہوتا ہے جن میں ڈیزائن، اسپیسی فکیشن، محل وقوع، بھرائو، کٹائی، ڈیزائن لوڈ، ایمبینک منٹ، پروٹیکشن، لین سائز، بیس کی گہرائی اور ذیلی بیس، کارپیٹنگ، موٹائی، کلورٹس اور برج وغیرہ شامل ہیں۔ گزشتہ 9؍ سال کے دوران قیمتوں میں اضافے اور روپے کی بے قدری کی وجہ سے اخراجات زیادہ ہوئے۔ 

2013ء میں ایم ایس بارز کی قیمت 80؍ ہزار روپے فی ٹن تھی جو 2021ء میں ایک لاکھ 45؍ ہزار روپے فی ٹن ہے جبکہ 2013ء میں روپے اور ڈالر کے درمیان فرق دیکھیں تو یہ ایک سو روپے فی ڈالر تھا جو 2021ء میں 165؍ روپے فی ڈالر تک جا پہنچا ہے، ایسی باتوں کو بھی این ایچ اے کے 2013ء کے ٹھیکوں میں دیکھنا اور تصدیق کرنا چاہئے۔ 

3) ڈیزائن، ڈرینیج، اسٹرکچر، محل وقوع، اسپیسی فکیشن وغیرہ کی وجہ سے قیمتوں میں تبدیلی کی ایک مثال این ایچ اے کی جانب سے 2021ء میں دیئے گئے دو ٹھیکوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ سڑک زیارت موڑ کچھ ہرنائی روڈ اور ہرنائی سنجاوی روڈ کے درمیان تعمیر کی گئی۔ 

زیارت موڑ کچھ ہرنائی روڈ 109.882؍ کلومیٹر طویل ہے اور اس کا ٹھیکہ دو ارب 40؍ کروڑ 43؍ لاکھ 38؍ ہزار 786؍ روپے میں دیا گیا جس کا مطلب یہ ہوا کہ 21.88؍ ملین روپے فی کلومیٹر۔ جبکہ ہرنائی سنجاوی روڈ کی طوالت 55.834؍ کلومیٹر ہے اور اس کا ٹھیکا 2؍ ارب 55؍ کروڑ 16؍ لاکھ 84؍ ہزار 210؍ روپے میں دیا گیا جس کا مطلب ہوا 45.7؍ ملین روپے فی کلومیٹر۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہرنائی سنجاوی روڈ کا ٹحیکہ زیارت موڑ کچھ ہرنائی روڈ کے مقابلے میں دو گنا زیادہ قیمت پر دیا گیا ہے۔ 

ٹرانس پیرنسی کے مطابق این ایچ اے کی جانب سے 17؍ اکتوبر 2021ء کو دیے گئے جواب سے اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ 2021ء میں دو ٹھیکے دیے گئے جن میں سے ایک این ایچ اے کے اپنے ہی انجینئرز کے اندازوں سے 40؍ اور 20؍ فیصد کم قیمت پر دیے گئے، اور یہ ٹھیکے 2013ء میں دیے گئے ٹھیکوں کی قیمت سے کم مالیت کے نہیں تھے۔ 

ٹرانس پیرنسی کے خط میں لکھا ہے کہ سیکریٹری صاحب کو اس بات کی بھی اطلاع دی جاتی ہے کہ این ایچ اے نے رول نمبر 47؍ کے حوالے سے پی پی آر اے ویب سائٹ پر معلومات اپڈیٹ نہیں کیں۔

اس لیے فوری طور پر 2013ء تا 2018ء کے درمیان اور ساتھ ہی 2018ء تا 2021ء کے سی پیک اور نان سی پیک ٹھیکوں اور موٹر ویز کی تعمیر کے حوالے سے جاری کیے گئے ٹھیکوں کی تفصیلات جاری کی جائیں، ساتھ ہی قیمتوں، نرخوں، کوٹیشن میں دیے گئے تخمینوں، بی او کیو، جاری کیے جائیں۔

اہم خبریں سے مزید