• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علی عظمت کے بیان پر حنا درانی نے خاموشی توڑ دی

پاکستانی گلوکار علی عظمت کے میڈم نور جہاں کی ظاہری شخصیت پر دیے گئے بیان پر جہاں سوشل میڈیا صارفین ردعمل دے رہے ہیں وہیں اُن کی بیٹی حنا درانی نے بھی اس معاملے پر خاموشی توڑ دی ہے۔

حنا درانی نے علی عظمت کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایک طویل کیپشن کے ساتھ انسٹاگرام پر پوسٹ شیئر کی۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں والدہ کیلئے لیجنڈری دلیپ کمار کے الفاظ بھی شیئر کیے جس میں وہ ملکۂ ترنم کو خوبصورت الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

حنا درانی نے اپنی طویل پوسٹ میں کہا کہ ’میڈم نور جہاں کا نام لفظ ’عظمت‘ کے مترادف کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، میڈم نور جہاں ایک ایسی خاتون تھیں جنہوں نے اپنے ملک اور اپنے فن کے لیے زیادہ سے زیادہ کام کیا جس کا کوئی زندگی بھر خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری والدہ نے ہر وہ اعزاز اپنے نام کیا جو کسی بھی انسان کی خواہش ہوسکتی ہے۔

حنا درانی نے علی عظمت کے بیان کا ذکر کیے بغیر کہا کہ مجھے پچھلے کچھ دنوں میں بے شمار پیغامات موصول ہوئے کہ میں ان شخص کو جواب دوں جس نے میری والدہ کے لیے نامناسب الفاظ استعمال کیے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اس شخص کیلئے میرا پسندیدہ اقتباس ہے کہ ’جو آپ میرے بارے میں کہہ رہے ہیں، وہ الفاظ آپ کی شخصیت کی ترجمانی کرتے ہیں۔

حنا درانی نے یہ بھی کہا کہ جب کوئی احترام کی حدوں کو توڑنے والی رائے کا اظہار کرتا ہے تو وہ آپ کو دکھاتا ہے کہ اس میں شائستگی کا عنصر موجود نہیں ہے۔


حنا درانی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کسی کا احترام کرنا آپ کی شخصیت کے معیار کو ظاہر کرتا ہے، اظہار رائے کی آزادی ایک اچھی چیز ہے لیکن اسے دوسروں کے لیے ناراضی کا ذریعہ بننے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے کی تذلیل کرنا اب بظاہر جائز ہے کیونکہ ’مجھے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی اجازت ہے‘ کا حق استعمال کرتے ہوئے ہم دوسرے لوگوں کی دل آزاری کی وجہ بنتے ہیں۔

حنا درانی نے اظہارِ برہمی کیا کہ پاکستان کی میوزک انڈسٹری کے نمائندے کے حالیہ انٹرویو میں دیے غیر منظم اور انتہائی غیر منصفانہ ریمارکس پر ہمیں اختلاف ہے۔

 انہوں نے کہا کہ نور جہاں وہ تھیں جو یہ شخص پوری زندگی لگا کر بھی نہیں بن سکتا۔

خاص رپورٹ سے مزید