• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسماعیل عابدی کو ملک چھوڑنے کی اجازت دی گئی،متاثرین ایریناسنٹر

راچڈیل(نمائندہ جنگ )مانچسٹر کے ایرینا سنٹر بم دھماکے میں جاں بحق افراد کے غمزہ اہلخانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ خود کش بمبار سلمان عابدی کے بڑے بھائی اسماعیل عابدی کو ائر پورٹ پر روکنے کے ایک دن بعد ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی تھی اور 28سالہ اسماعیل عابدی نے مانچسٹر ائر پورٹ پر روکے جانے کے بعد اگلے روز اڑان بھری۔ائر پورٹ پر متعلقہ افسران نے انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس سے چھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی جس کی وجہ سے وہ 28 اگست کو روانہ ہونے سے محروم رہا،اسماعیل عابدی کو انتہائی اہم شواہد دینے کے لئے بلایا گیا تھا تاکہ22 سالہ سلمان اور اس کے 24 سالہ بھائی ہاشم، جس نے مرکزی ملزم کی مدد کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزاپائی تھی، کے بارے میں مزید وضاحت سامنے آ سکے، سوگوار خاندانوں میں سے 11 افراد کی طرف سے عدالت کے باہر ایک قانونی فرم کے شین سمتھ نے پیغام پڑھتے ہوئے کہا کہ یہ حقائق سامنے آنے پر حیرت ہوئی ہے کہ اسماعیل عابدی کو اگست میں ملک چھوڑنے کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی ہار کو ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں کہ اسماعیل عابدی کو ایک قانونی انکوائری کے دوران آئندہ پیشی کے پیش نظر ملک چھوڑنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جس میں انہیں شرکت کا حکم دیا گیا تھا،ہم حیران ہیں کہ ایسا ہونے دیا جا سکتا ہے اور ہم نوٹ کرتے ہیں کہ انکوائری اس بارے میں فوری وضاحت مانگ رہی ہے، اپنی بے گناہی کا دعویٰ اور اپنے آپ کو بنیاد پرست نظریئے اور دہشت گردی سے الگ کرنے کا دعویٰ کرنے کے باوجود اس نے شعوری طور پر آج نہ جانے کا انتخاب کیا، ایک آدمی، جس نے شدت پسندی کو حقیقی طور پر مسترد کر دیا تھا، وہ سچ کی تلاش میں مدد کرنا چاہتا تھا تو آج یہاں موجود ہوتا،اسماعیل عابدی واضح طور پر ایسا شخص نہیں ہے، اس نے بزدلی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسماعیل عابدی کو انسداد دہشت گردی پولیس نے مئی 2017 میں گرفتاری کے بعد 15 روز کے لیے حراست میں لیا تھا، اس سے پہلے کہ وہ بغیر کسی الزام کے تفتیش کے دوران رہا ہو گیا، انکوائری حکام کو اسماعیل عابدی کے منصوبوں کے بارے میں کوئی پیشگی وارننگ نہیں تھی، کیونکہ انہیں گریٹر مانچسٹر پولیس نے 31 اگست تک ہوائی اڈے کے دورے کے بارے میں مطلع نہیں کیا تھا۔ سلمان عابدی کے بچپن کے دوست 29 سالہ احمد تگدی کو ہفتے کے آخر میں گرفتار کیا گیا تھا، جب اس نے گذشتہ ہفتے ہائی کورٹ کے حکم کی منظوری کے بغیر ملک چھوڑنے کی کوشش کی تھی، جس نے اسے حاضر ہونے کا حکم دے رکھا تھا۔
یورپ سے سے مزید