• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حرف بہ حرف … رخسانہ رخشی، لندن
ہم یہ نہیں کہیں گے کہ معاشرے میں اس سے بگاڑ پیدا ہورہا ہے، ہم یہ بھی نہیں کہیں گے کہ یہ ’’لیو ان ریلیشن شپ‘‘ کا معاملہ سماجی طور پر زہر قاتل ہے، ہم یہ بھی نہیں کہیں گے کہ بہت سے والدین اور ان کے دیگر رشتہ داروں کے لیے اس قسم کے ریلیشن میں رہنا باعث بدنامی اور شرمندگی ہے، ہم یہ بھی نہیں کہیں گے کہ اس رشتے کو مہذب کلچر کا حصہ نہیں ہونا چاہیے، ہم یہ بھی نہیں کہیں گے کہ یہ دو دلوں کے گہرے ملاپ کی خوبصورتی ہے، ہم یہ بھی کہیں گے کہ یہ آپس کی محبت کی کشش ہے جو دونوں کو ہر پابندی اور فکر سے آزاد کرکے اس تعلق میں رہنے پر مجبور کرتی ہے، ہم یہ بھی نہیں کہیں گے کہ یہ دل و جذبات کی بے پناہ روانی ہے جو آپ کو اس ریلیشن میں رہنے کے لیے کیوں اکساتی ہے، ہم یہ بھی کہیں گے کہ یہ رشتہ اگر بندھے تو عام رشتوں کی نسبت یہ زیادہ طویل تعلق ثابت ہوتا ہے، ہم یہ بھی کہیں گے کہ ایسی آپسی محبت ہر پیار کرنے والے دلوں میں ہونا چاہیے، ہم یہ بھی کہیں گے کہ مگر اس ریلیشن شپ میں آپ ایک لیگل تحفظ سے محروم ہوسکتے ہیں اور معاشرتی و سماجی تعلقات سے کٹ کر رہ جاتے ہیں کیونکہ اسلامی ماحول و معاشرے میں اس قسم کے ریلیشن شپ کو بہت برا جانا جاتا ہے، مگر ہم یہ ضرور کہیں گے کہ تمام تر محبت کی خوبصورتی کےباوجودیہ رشتہ بغیر نکاح کے بدصورت ہے۔ جی ہاں یہ Live In Relation Shipہے کیا، ایک دوسرے میں جنسی کشش کے تحت زندگی گزارنا اور جذباتی وابستگی سے مغلوب ہوکر ساتھ رہنا،آج کل جہاںدیکھو ہر جگہ لیو ان ریلیشن شپ کا پرچار ہورہا ہے۔ پہلے تو اس کا دائرہ کار یورپ تک محدود سمجھا جاتا تھا مگر اب یہ بعض اسلامی ممالک تک میں فیشن کے طور پر اپنایا جارہا ہے بلکہ اس رشتے کو زیادہ رواج دیا جارہا ہے، ہمارے یہاں دو طرح کے ذہن رکھنے والے لوگ ہیں، ایک انسانوں جیسی زندگی گزارنے والے، دوسرے حیوانی زندگی کے رسیا کہ جس میں کوئی شخصی، معاشرتی و سماجی پابندی نہ ہو بلکہ وہ مدر پدر آزاد زندگی گزاریں، انہیں روک ٹوک اور انسانیت کا درس دینے والا کوئی نہ ہو، مدر پدر آزادانہ زندگی گزارنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ روز اوّل ہی سے انسان حیوانی زندگی گزارتا ہے۔ غاروں میں رہنا، شکارکرنا اور درختوں سے خوراک حاصل کرنا، اس دور میں بھی شادی کا کوئی تصور نہ تھا جو پسند ہوتا اسے حاصل کرکے اس کے ساتھ زندگی گزاری جاتی۔ مندرجہ بالا خیالات لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے والوں کے ہیں، ورنہ تو انسانی تاریخ یہ ہے کہ روئے زمین پر تصور بیدار ہوتے ہی حیوانیت کا خاتمہ اور انسانیت پنپنا شروع ہوئی تو شادی کا تصور ابھرا کہ بس ایک ہی عورت اور مرد ایک رشتے میں بندھ کر ایک دوسرے کے پابند رہیں اور دنیا میں اس رشتے کی پہچان ابھرے۔ آج بھی دنیا میں جنگلی قومیں موجود ہیں جن کا کوئی کلچر نہیں، ایسے جنگلی قبائل میں بھی محبت کے لیے اور جنسی تسکین کے لیے ایک دوسرے کی قربت کا واحد ذریعہ شادی ہی ہے، ان جنگلیوں کی سمجھ میں شادی کی منطق ایک دوسرے کا ہونا ہے، اس جنسی تعلق کو آج کل لیو ان ریلیشن شپ کا نام دے دیا گیا ہے، ورنہ ایسے تعلق ہر دور کی ضرورت ان لوگوں کے لیے ہوتی ہےجو دیوانہ وار کسی کو پسند کرنے کے بعد جنسی طور پر اور جذباتی طور پر کسی سے جڑ جاتے ہیں، اب یہ ریلیشن کسی طوائف سے کوئی جوڑ لے اور طویل مدت سے اس کے ساتھ ایسا جسمانی تعلق رکھے تو زمانہ بھر اس طوائف کو اور اس کے چاہنے والے کو ہر قسم کی طنز و طعنوں سے نوازا جاتا ہے، ایسا تعلق کوئی نئی بات نہیں ہے، مگر اب اس کو ذرا جدید نام دے دیا گیا ہے اور اب یہ ڈھکا چھپا ریلیشن بھی نہیں ہے اور نہ ہی صرف مغرب تک محدود ہے بلکہ ہر جگہ، ہر ملک میں عام سی بات ہوگئی ہے، دو لوگوں کی باہمی رضامندی سے قائم ہونے والا رشتہ مضبوط بھی ہوسکتا ہے اور کمزور بھی کہ چائے کے کپ پر بنے اور ٹھنڈے کولڈ ڈرنک پر ٹھنڈا بھی ہوجائے۔ Live In Relation Shipایک آسان سا قائم ہونے والا رشتہ ہے کہ جس میں کوئی جدوجہد یا تگ ودو نہیں کرنا پڑ تی، یوں بھی کہا جائے کہ دنیا کےبہت سے لوگ نفسیاتی طور پر کسی بھی قسم کی پابندی کے قائل نہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو مذہب سے دور ہیں جو حیوانی زندگی انسانوں کی دنیا میں بسانا چاہتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بے فکری کی زندگی ہے، پابندی کے بغیر کسی بھی سماجی معاشرتی بندھن سے آزاد رہنا ان کے نزدیک مقدم ہے،لوگوں نے اس ریلیشن شپ والے رشتے کو شادی کا متبادل جان لیا، اسی لیے اب شادی سے متعلق اور میاں بیوی کے رشتے اور ان کی ازدواجی زندگی سے متعلق بات نہیں ہوتی، اب لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے والوں کی زندگی سے متعلق بات ہوتی ہے،لیو ان ریلیشن شپ کا فائدہ اس میں رہنے والے یہ بتاتے ہیں کہ اس میں دونوں ایک دوسرے کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے، وہ ایسے ہی قبول کرتے ہیں جیسے وہ ہیں، ایک دوسرے کو بدلنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے وہی وہ اپنے لمحات کو حسین بنانے میں صرف کرتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ لیو ان ریلیشن شپ میں دوستی تو میاں، بیوی جیسی نہیں ہوتی مگر اس سے کہیں زیادہ اچھا تعلق ہوتا ہے۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ دونوں ہی خوشی خوشی اپنا سب ہی کچھ شیئر کرتے ہیں، بینک بیلنس سے لے کر اکائونٹس اور سوشل میڈیا کے اکائونٹس اور پاسورڈ بھی، مشکل وقت میں یہ اچھے ساتھی ہوں یا نہ ہوں، اس کی بھی کوئی گارنٹی تو نہیں ہے مگر اس کا انحصار بھی دونوں کے تعلق پر ہے کہ وہ کیسا ہے۔ جہاں آج ہر رشتہ کمزور تر ہوتا جارہا ہے، طلاقیں بڑھ رہی ہیں تو ہر قسم کی پابندی کی بجائے لوگ اس ریلیشن کو اپنے لئے آسان سمجھ رہے، دیکھا دیکھی فیشن کے طور پر یا ضرورت کے تحت، ہمارے مذہب اسلام میں ایسے کسی بھی عمل کو زنا کے زمرے میں لیا جاتا ہے، سورۃ النور میں ہے کہ ’’اور جن لوگوں کو نکاح کے مواقع میسر نہ ہوں وہ پاک دامنی کے ساتھ رہیں، یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے بے نیاز کردے‘‘۔ اسلام میں اس قسم کے تعلق کی گنجائش نہیں ہے۔
یورپ سے سے مزید