• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دورِ جدید کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں وہی کمپنیاں سب سے آگے ہیں، جن میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال کیا جارہا ہے۔ اندازہ ہے کہ مستقبل میں بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا زیادہ مؤثر استعمال کرنے والی کمپنیاں دیگر کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے آگے بڑھیں گی۔ مزید برآں، ماہرین اس خدشہ کا اظہار بھی کررہے ہیں کہ ایسی کمپنیاں اپنے شعبہ کی دیگر چھوٹی کمپنیوں کو بھی نگل جائیں گی۔

امریکی معیشت میں ایمازون، فیس بک، گوگل، ایپل اور وال مارٹ کے علاوہ ایئر بی اینڈ بی، ٹیسلا اور اس جیسی دیگر بڑی کمپنیوں کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ ماہرین اقتصادیات نے انھیں سپراسٹار کمپنیز کا نام دیا ہے۔ یہ کمپنیاں مختلف اور متنوع صنعتوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز استعمال کر کے اپنے لیے ایسی مارکیٹ بنانے میں کامیاب ہوگئی ہیں، جہاں صرف ان ہی چند کمپنیوں کا راج ہے۔

دنیا کی سب سے اسمارٹ اور جدت پسند 50کمپنیوں کی فہرست میں بھی ایسی ہی کمپنیاں شامل ہیں، جو اختراعی ٹیکنالوجیز استعمال کرکے اپنے کاروبار کو دنیا بھر میں پھیلا رہی ہیں ، ان کا صارف صرف امریکی نہیں، بلکہ یہ پوری دنیا کو اپنا صارف تصور کرتی ہیں اور اسی ہدف کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ 

دنیا کی سب سے زیادہ جدت پسند کمپنیوں کی فہرست کے ذریعے ان کمپنیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے، جو آگے چل کر مزید نمایاں مقام حاصل کرنے والی ہیں۔ ان کمپنیوں میں متذکرہ بالا کمپنیاں تو شامل ہیں ہی لیکن اس کے علاوہ بھی دیگر نئی کمپنیاں شامل ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آج آپ نے ان کا نام نہ سنا ہو، لیکن آگے چل کر یہی کمپنیاں مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیز کا فائدہ اُٹھا کر بہت آگے نکلنے والی ہیں۔

سپراسٹار کمپنیوں نے موجودہ منظرنامہ تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ ڈیجیٹل کمپنیاں انٹرنیٹ اور بِگ ڈيٹا کے ذریعے ویب سرچ اور آن لائن شاپنگ جیسی سہولتوں کے علاوہ انقلابی آلات فراہم کرکے حد سے زیادہ منافع کمارہی ہیں۔

سپراسٹار کمپنیوں کی فہرست میں صرف انٹرنیٹ کے ذریعے کاروبار کرنے والی کمپنیاں ہی شامل نہیں ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی اور ایم آئی ٹی کی ایک تحقیق کے مطابق، چاہے نقل و حمل ہو یا مالیات، ہر صنعت میں ہی سپراسٹار کمپنیوں، یعنی کسی بھی صنعت کی چار سب سے بڑی کمپنیوں، کا حصہ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات اور اس تحقیق کے شریک بانی لارنس کیٹز کے مطابق، سپراسٹار کمپنیوں کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان نے گزشتہ عشرے میں کئی ممالک کی معیشت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ 

یہ کمپنیاں ان ممالک میں زیادہ نمایاں کردار ادا کررہی ہیں، جن کی معیشت میں ٹیکنالوجی تیزی سے بدل رہی ہے، یہ کمپنیاں نئی ٹیکنالوجیز کو برق رفتاری کے ساتھ اپناتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی کمپنی کو کامیاب ہونا ہے تو اسے اسمارٹ بننے کی ضرورت ہے، ورنہ وہ پیچھے رہ جائے گی۔

پہلی نظر میں تو اس کا کوئی نقصان نظر نہیں آتا۔ البتہ، محققین کے مطابق کسی بھی معیشت میں صرف چند ہی کمپنیوں کا نمایاں ہونا کافی پریشان کن بات ہے۔ 20ویں صدی میں کام کرنے والے ملازمین کو بڑھتی ہوئی آمدنی کا متناسب حصہ مل رہا تھا۔ جیسے جیسے معیشت ترقی کرتی، ملازمین کے حصے میں اضافہ ہوتا جاتا تھا۔ تاہم، گزشتہ چند عشروں میں یہ رجحان تبدیل ہوا اور ملازمین کا حصہ بتدریج کم ہوتا گیا۔ ایسا کئی ممالک میں ہورہا ہے، لیکن 2000ء کے عشرے میں امریکا میں یہ رجحان زیادہ نظر آیا۔

کیٹز اور ان کے ساتھ کام کرنے والے دیگر محققین سپراسٹار کمپنیوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ جیسے جیسے یہ کمپنیاں وسیع ہوتی جاتی ہیں، ویسے ویسے اور زیادہ بہتر طور پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز استعمال کرنے لگتی ہیں، جس سے ملازمین کی ضرورت کم ہوتی جاتی ہے، معیشت پر چند گروہوں کا قبجہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔

ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ان سپراسٹار کمپنیوں میں تنخواہیں بھی سب سے اچھی ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ سے معاشرے کا ایک طبقہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے امیر ہورہا ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات نیکولس بلوم اور ان کے رفقاء کار نے ثابت کیا ہے کہ 1980ء کے بعد سے امریکا میں ایک تہائی مالی عدم مساوات کی وجہ ان چند بڑی کمپنیوں کے ملازمین کی تنخواہوں کا زیادہ ہونا ہے۔ ان کمپنیوں کے اعلیٰ تربیت یافتہ ملازمین کو منافع میں حصہ دیا جاتا ہے، لیکن ان افراد کی تعداد میں متواتر کمی ہورہی ہے۔ کیٹز کہتے ہیں کہ اس صورت حال کا دنیا بھر میں پھیلنے والے مالی بحران اور آمدنی میں پیدا ہونے والی عدم مساوات بڑا ہاتھ ہے۔

سپراسٹار کمپنیوں کی ترقی معیشت میں نظر آنے والے ایک اور رجحان کا باعث بن سکتی ہے۔ گزشتہ عشرے میں سوفٹ ویئر، ڈیجیٹل آلات، مصنوعی ذہانت اور سیلیکون ویلی میں کام کرنے والی کمپنیوں کے منافعوں کے باوجود امریکا کے علاوہ دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں اقتصادی ترقی کی رفتار بہت سست رہی ہے۔ اگر ہائی ٹیک صنعتیں اتنی تیزی سے ترقی کررہی ہیں، تو مجموعی ترقی اس قدر کم کیوں ہے؟ یہ ایک ایسا تلخ سوال ہے جو عالمی معیشتوں میں بھونچال کی صورتِ حال کو جنم دے سکتا ہے۔

انجمن اقتصادی تعاون و ترقی سے وابستہ ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ انھیں اس کا جواب مل گیا ہے۔ تمام صنعتوں کی سب سے بڑی کمپنیوں کی پیداوار میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہی وہ کمپنیاں ہیں جو انٹرنیٹ، سافٹ ویئر اور دیگر ٹیکنالوجیز کے ذریعے اپنے عملیات کو مرکزی دھارے میں لانے اور نئی منڈیوں میں داخل ہونے کی کوشش کررہی ہیں۔ تاہم، زیادہ تر کمپنیاں نئی ٹیکنالوجیز کا مؤثر طور پر استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ 

او ای سی ڈی کے ماہراقتصادیات ڈین انڈریوز کے مطابق ان کمپنیوں کی سست پیداوار پوری معیشت کو متاثر کررہی ہے۔ اینڈریوز، جو امریکا کے علاوہ دیگر 23 ترقی یافتہ ممالک پر نظر ڈالنے والے اس او ای سی ڈی تحقیقی ادارے کے شریک بانی ہیں، کہتے ہیں، ’ٹیکنالوجیز کی پیچیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور کئی کمپنیوں کے لیے ان ٹیکنالوجیز کو اپنانا مشکل ثابت ہوسکتا ہے‘۔ اس صورتِ حال کا حل کیا ہے؟ اس کا جواب غالباً فی الوقت کسی کے پاس نہیں ہے۔

جہاں تک بڑی کمپنیوں کا تعلق ہے، وہ تو تحقیق اور ترقی (آر اینڈ ڈی) میں بھاری سرمایہ کاری کرنے کی سکت رکھتی ہیں اور اس کے نتیجے میں اِختراع سے مستفید ہو کر پیداوار میں اضافہ کرسکتی ہیں۔ تاہم، اینڈریوز کہتے ہیں کہ جو کمپنیاں پیچھے رہ گئی ہیں، ان کی وجہ نئے کاروباری طریقہ کار نہ اپنانا ہے۔ ان کے مطابق، اس کی وجہ اب تک واضح نہیں ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عالمی معیشت کی نئی ٹیکنالوجیز استعمال کرنے کی رفتار اتنی تیز نہیں، جتنی تصور کی جاتی ہے۔

ہمیں کاروبار کے لیے بہتر ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے، جس میں زیادہ اسٹارٹ اَپ کمپنیاں پروان چڑھ سکیں۔ جدید دور کی بڑی کمپنیاں آگے نکل رہی ہیں، لیکن اس کا فائدہ کم لوگوں کو ہورہا ہے۔ مصنوعی ذہانت جیسی پیچیدہ ٹیکنالوجیز کاروباری ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں، لیکن انھیں سمجھنا اور ان میں مہارت حاصل کرنا بہت مشکل ہے، جس کی وجہ سے بڑی کمپنیاں باقی کو بہت پیچھے چھوڑ جائیں گی۔ نئی کمپنیوں کو ایسی منڈیاں تخلیق کرنے کے مواقع بھی دستیاب ہوں گے، جو ابھی اپنا وجود بھی نہیں رکھتیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ، مستقبل میں تمام صنعتی شعبہ جات میں مسابقت مزید بڑھ جائے گی اور مسابقت کی اس دوڑ میں وہی کمپنیاں آگے رہیں گی جن کی مستقبل کے رجحانات پر نظر ہوگی، اور یہی کام سپراسٹار کمپنیاں کررہی ہیں۔ ایسے میں اگر دیگر کمپنیوں کو بھی اس بڑھتے ہوئے مسابقتی ماحول میں اپنا وجود برقرار رکھنا ہے اور مارکیٹ شیئر بڑھانا ہے تو ان کمپنیوں کو بھی تحقیق اور ترقی (ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ) میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

گزشتہ صدی کے اواخر اور نئی صدی کے آغاز میں ہم نے دنیا کی کئی ایسی کمپنیوں کو ختم ہوتے دیکھا جو بدلتے حالات کو دیکھتے ہوئے بھی خود کو بدلنے کے لیے تیار نہ کرسکیں اور اس کے بعد اگلے چند برسوں میں ان کی جگہ جدّت پسند کمپنیوں نے لے لی۔ یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا اور اگر آج کی سپراسٹار کمپنیوں نے اپنی مصنوعات اور خدمات میں جدت لانے کا سلسلہ ترک کردیا تو آنے والے کل میں یہ کمپنیاں بھی قصہ پارینہ بن سکتی ہیں۔