• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں چینی کے اسٹرٹیجک ریزروز 5 لاکھ ٹن ختم ہوگئے

اسلام آباد (حنیف خالد) پاکستان میں چینی کے اسٹرٹیجک ریزروز 5لاکھ ٹن ختم ہو گئے۔ شوگر ملوں کے پاس صرف 6دن کی ضرورت کی ایک لاکھ ٹن چینی رہ گئی جبکہ پاکستان کی چینی کی ماہانہ ضرورت 6لاکھ ٹن ہے۔ اس طرح شوگر ملیں بمشکل 30اکتوبر تک مارکیٹ کو چینی سپلائی کر سکیں گی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی حکومت کے پاس 5لاکھ ٹن چینی کے سٹرٹیجک ریزرو ہونا لازمی ہوتے ہیں‘ سابقہ دور میں بھی یہ پانچ لاکھ ٹن سے زیادہ ہوتے تھے مگر آج موجودہ حکومت کے پاس سٹرٹیجک ریزرو بھی نہیں ہیں۔ حکومت نے ایک لاکھ ٹن چینی کی درآمد کے دو ٹینڈر قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے منسوخ کر دیئے ہیں اسلئے آئندہ ماہ چینی کی قیمتیں ذخیرہ اندوز آسمان تک لے جائیں گے۔ شوگر ملوں نے گزشتہ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں نئی فصل کی چینی کے ایکس ملز ریٹس خود 70روپے کلو مقرر کئے اور آج شوگر ملوں کے پاس چینی کے ذخائر بیحد کم رہ جانے کی وجہ سے چینی کے ایکس ملز ریٹس ایک سو چھ روپے کلو سے تجاوز کر گئے ہیں۔ اس طرح ملک کی تاریخ میں مہنگی چینی کا آل ٹائم ریکارڈ اتوار 24اکتوبر کو قائم ہوا ہے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین اور انکی کابینہ نے ایک بار پھر وزیراعظم عمران خان، مشیر خزانہ شوکت فیاض احمد ترین، اور گورنر سٹیٹ بینک سے نمائندہ جنگ کے ذریعے اپیل کی ہے کہ وہ چینی کی قیمت جو مشرف دور میں انکے کئی شوگر ملوں کے مالکان دو مشہور وزراء کی ایماء پر 90سے 95روپے کلو ایکس ملز ریٹ اور اوپن مارکیٹ میں صارفین کو 104 روپے فی کلو تک خریدنے پر مجبور کیا گیا تھا مگر جب پاکستان کے چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے شوگر ملوں کے مبینہ کارٹلز کا کیس مسابقتی کمیشن کو بھجوایا تو پورے پاکستان میں چینی کی قیمت پچاس روپے فی کلو سے بھی کم رہ گئی۔

اہم خبریں سے مزید