اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے، اس جنگ نے اسرائیل کو خطے میں نئے اتحاد قائم کرنے کا موقع دیا ہے، جو ماضی میں ممکن نہیں تھا، لیکن اب ہم اپنی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ مل کر کی جانے والی کارروائیوں نے ایران کے جوہری اور بیلسٹک منصوبوں کو زیرِ زمین منتقل ہونے سے روک دیا ہے۔
نیتن یاہو نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے اعلیٰ جوہری سائنس دان شہید ہوئے اور پاسدارانِ انقلاب اور بسیج فورسز کو شدید نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اب وہ ایران نہیں رہا اور دعویٰ کیا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والے حملوں نے ایران کو اپنے جوہری اور بیلسٹک پروگرام کو زیرِ زمین منتقل کرنے سے روک دیا۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے نئے سُپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور حزب اللّٰہ کے نئے سربراہ نعیم قاسم کے حوالے سے ایک سوال کا جب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خامنہ ای انقلابی گارڈز کی کٹھ پتلی ہیں اور عوام کے سامنے ظاہر نہیں ہو سکتے۔
ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے نیتن یاہو نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، بالآخر یہ آپ ہی پر منحصر ہے، فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابقہ بیانات سے مماثلت رکھتا ہے، جنہوں نے بارہا ایرانی عوام سے اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی اور کہا تھا کہ ان کی آزادی کی گھڑی قریب آ چکی ہے۔