• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انتظار قتل کیس میں اعلیٰ افسران صاف بچ نکلے

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ڈیفنس میں نوجوان انتظار کے قتل کیس کے 3سال بعد اس میں ملوث 2 پولیس ہلکاروں کو عدالت کی جانب سے سزا سنا دی گئی ۔ 

نوجوان انتظار کو گاڑیاں چھیننے والا شخص قرار دیکر پولیس نے مبینہ مقابلے میں لوگوں کے سامنے گولیاں چلا کرقتل کرنے کے بعدمزکورہ اہلکار جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے تھے۔

مزکورہ کیس میں کئی اعلیٰ افسران کے حوالےسے بھی انکشاف ہوا تھا کہ مزکورہ ہلکار ایک ایس ایس پی رینک کے افسر کے ماتحت تھے اور جس نوجوان انتظار کو قتل کیا گیا تھا اسکا جھگڑا کسی ڈی ایس پی کے بیٹے سے ہوا تھا۔

باوثوق ذرائع کاکہنا ہے کہ تاہم ان تمام حقائق کے باوجود پولیس کے کسی اعلیٰ افسر کو اس کیس میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ جس کےباعث وہ روایتی طور پرصاف بچ نکلے۔ جبکہ مذکورہ ایس ایس پی نہ صرف تاحال اپنے عہدے پر برا جمان ہے بلکہ اس کی ترقی بھی کردی گئی ہے۔

ذرا ئع کا مذید کہنا ہے کہ اسی طرح شاہراہ فیصل پر رکشے میں سوارنوجوان کو گولیاں مار کر اسے جعلی مقابلے کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور بعد ازاں میڈیا پر یہ معاملہ سامنےآیا تو پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا تاہم اس کیس میں بھی کسی اعلیٰ افسر پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالا گیا۔

 اسی طرح تیموریہ تھانے کی حدود میں پپر کی صبح پولیس نے اپنی کارکردگی دکھاتے ہوئے 4ملزمان کو مختلف مقامات سے مقابلے کے دوران پکڑے جانے کا دعویٰ کیاگیا تاہم اسکے کچھ دیر بعد ہی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں واضح دیکھا جاسکتا تھا کہ ملز م کو پولیس نے پکڑا تھا اور اسے راستے میں لے جاتے ہوئے گولی مار کر زخمی کیا اور اسے مبینہ پولیس مقابلے کا رنگ دیا گیا تاکہ پولیس کی کارکردگی دکھائی جاسکے ۔ 

شہر میں یومیہ بنیاد پر اسٹریٹ ء کرمنلز کو پکڑنے کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے لیکن شہر میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں کوئی کمی نہیں آر ہی ہے ۔ 

اس سلسلے میں پولیس کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح ہر کیس میں نچلے رینک کے اہلکاروں کو ہی بھینٹ چڑھا یا جاتا رہے گا تو پھر اس کے نتائج درست نہیں ہوسکیں گے۔

 اگر کوئی اعلیٰ افسر اس میں ملوث ہے یا نہیں اس کو بھی کم از کم س شامل تفیتش کرنا چاہیے۔ اس کے بعدہی اس طرز کے مبینہ پولیس مقابلوں کی روک تھام ممکن ہوسکے گی ۔

اہم خبریں سے مزید