• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’خیمہ منڈی‘‘ برسات میں منڈی میں بنی دکانیں رنگ برنگی سبزیوں اور پھلوں سے سجی ہوتی ہیں

خیمہ بستیاں تو ملک میں ہر جگہ نظر آتی ہیں لیکن خیمہ منڈی لوگوں کے لیے نئی بات ہوگی وہ بھی قحط آب کا شکار ایک ریگستانی علاقے میں۔یہ منڈی اگست ، ستمبر میں حالیہ بارشوں کے بعد سفری صعوبتوں ،بنیادی سہولتوں کے فقدان اور سہولیات کی عدم فراہمی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مٹھی شہر کے نزدیک نوکوٹ، بدین بائی پاس پر پھانگاریو اسٹاپ پر قائم کی گئی تھی ۔ باران رحمت کے بعدجب زمین کی کوکھ سےسبزیاں اورپھل پھوٹنا شروع ہوئےتو خیموں پر مشتمل یہ بازاربھی سج گیا جس میں سندھ کی مخصوص سبزیاں اورپھل فروخت کے لیے رکھے گئے تھے۔ 

بجلی‘ گیس اورپختہ عمارتوں کے بغیر قائم یہ منڈی،خیموں کے سائے میں سیاحوں کی توجہ اور خریداری کا اہم مرکز بنی رہی۔ اس بازار میں خیمے لگاکر عارضی طور پر درجنوں دکانیں بنائی گئیں، جہاں کئی ہفتوں تک صحرائے تھر کی سیر و تفریح کے لیے آنے والے سیاحوں نے تھر کی روایتی سبزیاں کھمبی‘ للر‘ چبھڑ‘ گدریون‘ چانھیون‘ ریبھڑیوں‘ میھا‘ پپون‘ کوڈھیر اور گوار خریدے۔

مٹھی میں تو سب سے بڑی خیمہ منڈی لگائی گئی تھی لیکن اس کے علاوہ تھرمیں جگہ جگہ خیموں میں دکانیں بنائی گئی تھیں ،جن میں رنگ برنگی سبزیاں اور پھل انتہائی خوش نما انداز میں سجائے گئے تھے۔ یہ سبزیاں اور پھل سیاح اورتھرکے باسی بڑے شوق سے کھاتے ہیں اور سندھ کےعلاوہ ملک کے دیگر صوبوں میں بسنے والے اپنے عزیز و اقارب کو سوغات کے طور پربھی بھیجتے ہیں۔

تھر میں سارا سال خشک سالی کے بعد ابر رحمت برسنے کے ساتھ ہی سبزیوں اور پھلوں کا اُگنا تھر کے باسیوں کے لیےقدرت کا بہت بڑا عطیہ ہے، جو ان کے روزگار کمانے کاذریعہ بنتا ہے۔برسات تھر کے ہر طبقے کے لیے خوش حالی کا پیغام لے کر آتی ہے۔ کاشت کار اپنی فصلوں کی مٹھی اور دیگر بڑے شہروں کے بازار وں میں ترسیل کرتے ہیں۔ جن بار بردار مشینی و حیوانی گاڑیوں میں انہیں لےجایا جاتا ہے، کرائے کی مد میں ان کے مالکان کو معقول رقم دی جاتی ہے۔ خیمہ منڈی کی جن دکانوں پروہ اپنی فصلیں سپلائی کرتے ہیں ، دکان دار اس کے عوض خطیر رقم دیتے ہیں جب کہ وہ مقامی رہائشیوں اور سیاحوں کو مہنگے نرخوں پرفروخت کرتے ہیں۔

منڈی لگنے کے ابتدائی دنوں میں تھری ثقافت کی پہچان، سبزیاں پانچ سے سات سو روپے فی کلو فروخت ہوتی ہیں ، بعدازاں یہی سبزیاں دو سو سے تین سو روپے کلو میں فروخت ہوتی ہیں۔ تھر میں بارش کے بعدریتیلی زمین سیراب ہونے کے بعد، اُگنے والی خود روسبزیاں تھری باشندے پورا سال سنبھال کر رکھتے ہیں اور مشکل وقت میں استعمال کرتے ہیں۔صحرائے تھر کی یہ مخصوص سبزیاں اور پھل سیاح مہنگے داموںخریدتے ہیں۔ ان کے لیے خیموں پر مشتمل یہ بازار دیکھنا ہی انوکھا تجربہ ہوتا ہے۔

یہ سبزیاں غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں۔ عموماً لوگ اس کا بیج نہیں بوتے بلکہ یہ بارش کے بعد خوداگتی ہیں۔ کھمبیاں صحرا کے ریتیلے میدانوں میں پیدا ہوتی ہیں، بارش کے بعد جب بادل چھٹ جاتے ہیں، تو صبح سویرے سورج کی کرنیں ریتلے میدان پر پڑتی ہیں تو یہ کھمبیاں پھوٹتی ہیں،جو ریگستانی علاقے میں جگہ جگہ نظر آتی ہیں۔ 

کھمبیوں کی بعض اقسام زہریلی بھی ہوتی ہیں لہٰذا اسے کھانے سے پہلے بہت احتیاط برتی جاتی ہے۔ تھر کے لوگ کھمبی کو سبزی کے طور پر پکاتے ہیں ۔ اس کا ذائقہ مرغی کے شوربے کی طرح لذیذ ہوتا ہے۔مریڑو اور للر بھی بارش کے بعد پیدا ہوتی ہیں، ان کی بھجیا بنائی جاتی ہے، جو بے انتہا خوش ذائقہ ہوتی ہے۔ ریتیلے میدانوں میں اُگنے والی سبزیاں سرسوں کے ساگ کی طرح پکائی جاتی ہیں اور ان کا ذائقہ بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔

خیمہ منڈی میں سبزیوں کے علاوہ ایسے پھل بھی فروخت ہوتے ہیں جو تھر کے علاوہ کسی اور جگہ نہیں اُگتے۔’’پپوں ‘‘کا پھل اس وقت اُگتا ہے جب بارش خوب برس چکی ہوتی ہے۔ یہ رسیلا اور ذائقہ دار پھل ہے، جو دھوپ کے ساتھ ساتھ ذائقہ تبدیل کرتا ہے۔ اگر صبح کھایا جائے تو اس کا ذائقہ کھٹا ہوتا ہے ۔سورج چڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی ترشی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور دوپہر تک یہ کڑوا ہوجاتا ہے۔

تھری لوگ ’’پپوں‘‘ بہت شوق سے کھاتے ہیں۔’’کوڈھیر‘‘ کا پھل آلو کی طرح زمین کے اندر اُگتا ہے، اس کی بیل دیکھ کر زمین سے نکالتے ہیں۔ اس پھل کا ذائقہ آلو جیسا ہوتا ہے لیکن اسے لوگ صرف کھاتے ہیں آلو کی طرح پکاتے نہیں ۔انہی دنوں میں ’’بھرٹ ‘‘ کا پودابھی نمودار ہوتا ہے جو گندم کی طرح ہوتا ہے ۔لوگ اسے محفوظ کرکے رکھتے ہیں اور قحط کے زمانے میں اس کے دانوں کو پیس کرروٹیاں پکا کر کھاتے ہیں۔’’چبھڑ‘‘ اور گدریوں چھوٹے خربوزے کی طرح کے میٹھے پھل ہوتے ہیں۔

خیمہ منڈی میں صحرائی علاقے کی روایتی سبزیاں اور پھل فروخت کرنے والے تاجرہیموں کولہی نے نمائندہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ تھر میں بارش سے پہلے اُگنے والی سبزیاں کھمبی‘ للر‘ مریئڑو‘ پپون‘ گوار‘ چبھڑ‘ گدریون اور میھا مناسب نرخوں پر فروخت ہوتی ہیں جن سے تھر کے باسیوں کی گزر بسر چند ماہ تک بہتر طریقے سے ہوتی ہے۔مقامی باشندوں کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں اور بیرون ملک سے سیاحت کی غرض سے آنے والے افراد کے لیے خیموں سے ڈھکا بازار بالکل نئی چیز ہوتا ہے۔ 

وہ پوری منڈی میں گھوم پھر کر خریداری کرتے ہیں،کیوں کہ ان سبزیوں کے پکانےکی مہارت بھی صرف تھرکے لوگوں کو ہوتی ہے، اس لیے سیاح مناسب معاوضے پر ان کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ انہیں اس کی بھجیا اور سالن اتنا پسند آتا ہے کہ وہ جب تک تھر میں رہتے ہیں، خیمہ بازار سے روزانہ اسے خرید کر لے جاتے اور مقامی لوگوں سے پکواکر کھاتے ہیں۔ مقامی تاجر جن کی سبزیوں کی دکان ہے۔ 

انہوں نے نمائندہ جنگ سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ کاشت کار ،روزانہ دور دراز کے علاقوں سےکیکڑا اور دیگر باربردار گاڑیوں میں تازہ سبزیاں لےکر آتے ہیں جن میں سے صرف گوار‘ چبھڑ‘ میھا اور گدریون دو دن تک تازہ حالت میں رہتی ہیں جن کو ہم پلاسٹک کے تھیلوں میں محفوظ کرکے رکھتے ہیں۔ 

ان سبزیوں میں سب سے زیادہ کھمبی فروخت ہوتی ہے جو تمام سبزیوں سے زیادہ مہنگی ہوتی ہے۔ یہ پانچ سے سات سو روپے فی کلو فروخت ہوتی ہے جو ہم مقامی کاشت کاروں سے چار سو روپے فی کلو کے حساب سے خریدتے ہیں، بعد ازاںزیادہ مقدار میں ترسیل ہونے کی صورت میں اس کے نرخ بھی گرنے لگتے ہیں۔ 

گھوٹکی‘ جیکب آباد‘ سکھر‘ دادو‘ حیدرآباد‘ مورو‘ لاڑکانہ اور دوسرے شہر وں کے تاجربھی کھمبیاں خرید کر اپنے شہروں میں لے جاتے ہیں۔ اگر بارش متواتر ہوتی رہے توخیموں میں بنی دکانیں دو مہینےقائم رہتی ہیں،اگر بارش کم ہو توکاروبار کا دورانیہ بھی کم ہوجاتا ہے خیمہ منڈی کی دکانوں پر جو سبزیاں فروخت ہونے سے بچ جاتی ہیں، انہیں ہم اپنے گھروں میں محفوظ کرکے رکھتے ہیں جو سارا سال کھائی جاتی ہیں۔