• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مارچ شروع، رینجرز تعینات، کالعدم TLP سے جھڑپوں میں 2 پولیس اہلکار شہید، سیکڑوں زخمی، مزید جانی نقصان کا خطرہ، سختی سے نمٹا جائے، عمران خان

لاہور، اسلام آباد، گوجرانوالہ، قصور (نمائندہ جنگ، ایجنسیاں، ٹی وی رپورٹ) کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے سادھو کی سے اپنا مارچ دوبارہ شروع کر دیا، اس دوران جھڑپوں اور پر تشدد واقعات کےنتیجے میں 2؍ پولیس اہلکار شہید جبکہ سیکڑوں زخمی ہوگئے، شیلنگ سے متعدد مظاہرین زخمی بھی ہو گئے۔

انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹوں کے باعث مارچ صرف چند کلو میٹر آگے بڑھ سکا، مظاہرین کی جانب سے پتھرائو، توڑ پھوڑ کے باعث متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے، گوجرانوالہ، گجرات، کھاریاں، سرائے عالمگیر ، جہلم اور گرد و نواح میں موبائل سروس معطل کر دی گئی۔

لاہور میں بھی مظاہرے شروع ہوگئے، جس کی وجہ سے کئی مقامات پر ٹریفک بلاک ہونے سے شہریوں کو مشکلات کرنا پڑا، مارچ روکنے کیلئے انتظامیہ نے دریائے چناب سے پہلے سڑک پر مزید خندقیں بنادی گئی ہیں۔

راولپنڈی پولیس نے مری روڈ کو ہر طرح کی ٹریفک کیلئے مکمل طور پر بند کر دیا ہے، جبکہ مظاہرین کی جانب سے 6؍ پولیس وین کے اغواء کی بھی اطلاعات ہیں، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پنجاب میں دو ماہ کیلئے رینجرز تعینات کرنے کا اعلان کردیا۔

ادھر وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا ہے جس میں عسکری قیادت نے بھی شرکت کی،عمران خان نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں پولیس والوں کو مارنا ظلم ہے، ان سے سختی سے نمٹیں گے ، مظاہرین کو کسی صورت جہلم سے آگے نہ آنے دیا جائے۔

وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ فرانسیسی سفیر موجود ہی نہیں، انکا ایجنڈا کچھ اور ہے اب بھی واپس چلے جائیں کچھ نہیں کہیں گے، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ کسی مائی کے لعل کو ریاستی رٹ چیلنج نہیں کرنے دینگے، جبکہ کالعدم تنظیم ٹی ایل پی کا کہناہے کہ کسی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا، حکومت معاملات کو سلجھانے کی بجائے مزید خراب کر رہی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق کالعدم ٹی ایل پی نے سادھو کی سے اپنا مارچ دوبارہ شروع کر دیا، جھڑپیں اور پر تشدد واقعات بھی ہوئے جسکے نتیجے میں2؍پولیس اہلکاروں کی شہادت ہوئی،جبکہ 100 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کیلئے ٹراما سنٹر منتقل کردیا گیا۔ 

احتجاج کے باعث زخمی پولیس اہلکاروں کی تعداد 645ہوچکی ہے، سادھوکی کے قریب کالعدم تنظیم کے کار کنوں اور پولیس اہلکاروں میں جھڑپ کے نتیجے میں قصور پولیس کا اے ایس آئی اکبر جاں بحق جبکہ ایس ایچ اور تھانہ صدر قصور طاہر خاں سمیت متعدد ملازمین شدید زخمی ہو گئے۔ 

کالعدم تحریک لبیک انتظامیہ کی جانب سے مزاحمت اور سیکورٹی اداروں کے مابین تصادم کے باعث لانگ مارچ گزشتہ روز صرف چند کلو میٹر کا فاصلہ ہی طے کر سکا اورگذشتہ روز کامونکی تک ہی پہنچ سکا،اس دوران مظاہرین نے گاڑیوں کی توڑ پھوڑ بھی کی۔

اُدھر وزیر آباد میں لانگ مارچ کی وجہ سے جی ٹی روڈ کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ہے، لانگ مارچ کو روکنے کیلئے درجنوں کنٹینر بھی لگا دیئے گئے،ظفر علی خان چوک کے بعد دریائے چناب کے قریب بھی گزشتہ روز خندق کھود دی گئی تھی، اللہ والا چوک، ہیڈ قادر آباد اور ہیڈ خانکی کے خارجی راستوں پر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

تاہم اس بارے میں کالعدم جماعت کے ترجمان صدام بخاری نے دعویٰ کیاہے کہ پولیس کی جانب سےقافلے کو روکے جانے کی کوششوں کے باعث انکے 4 کارکن شہید جبکہ 40 سے زیادہ کارکنان زخمی ہو چکے ہیں جن میں 16 کارکنان کی حالت تشویشناک ہے۔ ترجمان نے کہا کہ رات کامونکی میں قیام کرینگے اور آج صبح دوبارہ اپنی منزل اسلام آباد کی طرف روانہ ہونگے۔ 

ترجمان نے مزید کہا کہ کوئی پولیس والا مارچ کے شرکاء کی حراست میں نہیں، کارکنان کو واضح طور پر کہا ہے کہ کسی پولیس والے کو کچھ نہیں کہنا یہ ہمارے بھائی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ حکومت نے رینجرز طلب کر لی اور جہلم پُل کا کنٹرول رینجرز نے سنبھال لیا۔ 

وزیراعظم عمران خان نے بھی حکم جاری کیا ہے کہ مظاہرین کو کسی صورت جہلم سے آگے نہ آنے دیا جائے، کابینہ اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تحریک لبیک کوعسکریت پسند تنظیم کے طور پر لے رہے ہیں، ان کا کتنے دن مزید لحاظ کریں،جن اداروں نے ٹی ایل پی سے متعلق نرمی دکھائی وہ بھی اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں۔ 

فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں ریاست کی رٹ قائم رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ریاست کے صبر کی بھی حد ہوتی ہے، ہم کتنے دن آپ کا لحاظ کرینگے؟ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا۔ 

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ آئی جی پنجاب پولیس کالعدم ٹی ایل پی کیخلاف آپریشن کی تفصیلات پیش کرینگے۔ فواد چوہدری نے دیگر ریاستی اداروں سے بھی درخواست کی کہ وہ ٹی ایل پی سے متعلق اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں۔ 

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ٹی ایل پی ایک کالعدم تنظیم اور شر پسند گروپ ہے۔ انہوں نے وتیرہ بنا لیا ہے کہ بہانہ کرکے باہر نکلتے ہیں اور سڑکیں بلاک کردیتے ہیں، پاکستان نے القاعدہ جیسی تنظیم کو شکست دی ہے ، ریاست کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کریں ، پہلے 6 مرتبہ یہ تماشا لگ چکا ہے ، ریاست نے بہت صبر کا مظاہرہ کیا ہے۔ 

فواد چوہدری نے کہا کہ دو دنوں میں 5پولیس اہلکار شہید ہوچکے ہیں، 27 کلاشنکوف بردار سادھوکی میں انکے ساتھ شامل ہوئے، ہم کتنی دیر آپ کا لحاظ کرینگے ، کل وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ ہوا ، اجلاس میں انٹیلی جنس چیفس اور ادارے شریک تھے، اب ہم اس تحریک کو باقی دہشت گرد تنظیموں کی طرح ٹریٹ کرینگے۔ 

وفاقی حکومت نے گزشتہ کئی روز سے دھرنا دینے والی کالعدم تنظیم ٹی ایل پی سے عسکریت پسند تنظیم کے طور پر نمٹنے اور ان کیخلاف آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اب کالعدم ٹی ایل پی کو ایک عسکری تنظیم کے طور پر لیا جائے گا اور جیسے دیگر عسکریت پسند تنظیموں سے نمٹا گیا ٹی ایل پی سے بھی اسی طرح نمٹا جائیگا۔

کابینہ اجلاس میں ریاست کی رٹ قائم رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ریاست کے صبر کی بھی حد ہوتی ہے، ہم کتنے دن آپ کا لحاظ کریں گے؟ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا۔ 

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے بھی کابینہ اجلاس میں کالعدم ٹی ایل پی کے تمام مطالبات ماننے سے انکار کردیا ہے اور راستے بند کرنے والوں کیخلاف سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کالعدم تنظیم کے مظاہرین کو جی ٹی روڈ پر روکنے کا فیصلہ،جہلم پل پر رینجرز کو تعینات کردیا گیا،،وزیراعظم نے کہا کہ کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے نہیں دیا جائے گا، سیاسی مقاصد کیلئے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنے دینگے، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پنجاب میں دو ماہ کیلئے رینجرز تعینات کرنے کا اعلان کردیا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھاکہ فرانس کا سفیر پاکستان میں موجود ہی نہیں، ٹی ایل پی کا ایجنڈا کچھ اور ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ کراچی کی طرح پنجاب بھر میں رینجرز کو تعینات کررہا ہوں اور دو ماہ کیلئے رینجرز صوبے میں ہوگی۔شیخ رشید کا کہنا تھاکہ آرٹیکل 147 کے تحت صوبے میں رینجرز طلب کی گئی ہے اور پنجاب حکومت کو اختیار ہوگا کہ جہاں چاہے رینجرز کو استعمال کرے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھاکہ فرانس کا سفیر پاکستان میں موجود ہی نہیں، ٹی ایل پی کا ایجنڈا کچھ اور ہے ان کو بھارت کی معالی معاونت حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ تحریک لبیک والے عسکریت پسند ہوچکے ہیں، سادھو کی میں پولیس کے 3 اہلکار شہید ہوگئے ہیں، تحریک لبیک والوں نے کلاشنکوفوں سے پولیس پر فائرنگ کی ہے، پرتشدد واقعات میں 70 پولیس اہل کار زخمی ہوئے جن میں سے 8 کی حالت تشویشناک ہے۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ ٹی ایل پی پاکستان میں کالعدم ہے،خدشہ ہے بین الاقوامی طورپربھی پابندی لگ سکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید کا کہنا تھاکہ ہم نے معاہدہ کیا ہے، اس پردستخط ہے اس پرقائم ہیں، اصل مسئلہ یہ نہیں کچھ اورہے، حکومت کو اپنی رٹ قائم کرنی ہوتی ہے، انسانی جانوں کے ضائع ہونے پرحکومت کوخوشی نہیں ہوتی۔ 

دوسری جانب کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریلی کے شرکا کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے جبکہ حکومت نے جو معاہدہ کیا اسے خود توڑا ہے۔ 

فواد چوہدری کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کالعدم ٹی ایل پی کے ترجمان نے کہا کہ فواد چوہدری حقائق سے نظریں مت چرائیں، ہم سیاسی جماعت ہیں جو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے، ہماری تحریک زیر زمین جدوجہد پر یقین نہیں رکھتی، ہمارا ون لائن ایجنڈا ناموس رسالت کا ہے۔ 

ترجمان کے مطابق فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کا معاملہ اسمبلی میں لے جانے کا وعدہ حکومت نے کیا تھا، حکومت اپنے ہر وعدے سے پھر گئی اور تشدد کا راستہ اپنایا، جی ٹی روڈ پر جگہ جگہ کنٹینر لگا کر عوام کو تکلیف میں حکومت نے مبتلا کیا، جی ٹی روڈ پر خندقیں کھود کر ٹریفک کی روانی حکومت نے متاثر کی۔ 

ترجمان کالعدم تحریک لبیک نے کہا کہ تحریک پر دہشت گردی کا ٹھپہ لگانے سے پہلے مقتدر حلقے اپنے گریبان میں جھانکیں، ہم ایک مذہبی اورپنجاب کی تیسری بڑی سیاسی قوت ہیں جس کا اظہار وزیر داخلہ نے بھی کیا۔ 

علاوہ ازیں آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے کہ کالعدم تنظیم نے ہمیشہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے شرپسندانہ رویے کو فروغ دیا،پولیس پر سیدھی گولیاں چلانے کے نتیجے میں2 اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ 309اہلکار زخمی ہوئے، 2017میں بھی اس جماعت نے فیض آباد میں دھرنا دیاتھاجس کے دوران کالعدم ٹی ایل پی نے ایمبولینس کو راستہ نہ دیا جس کے باعث ایک مریض جان کی بازی ہار گیا۔    

اہم خبریں سے مزید