پاکستان کی ٹی وی اور فلم انڈسٹری کے اداکار ہمایوں اشرف نے موبائل اسنیچنگ کے خوفناک واقعے کی کہانی سنا دی۔
ہمایوں اشرف شوبز انڈسٹری میں ایک ہمہ جہت اداکار کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، ڈرامہ نقاب میں منفی کردار ادا کر کے انہوں نے ناظرین اور ناقدین دونوں سے بھرپور داد وصول کی، جبکہ حالیہ دنوں نجی ٹی وی کے مقبول ڈرامے میں بھی ان کی اداکاری کو سراہا گیا، ’رنگ محل‘ ہمایوں اشرف کے کیریئر کا ایک بڑا کم بیک اور بریک تھرو پراجیکٹ ثابت ہوا۔
حال ہی میں ہمایوں اشرف نے جیو ٹی وی کے کامیڈی شو ہنسنا منع ہے میں بطور مہمان شرکت کی۔ پروگرام کے دوران میزبان تابش ہاشمی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنی زندگی کے ایک نہایت خوفناک موبائل اسنیچنگ واقعے کا انکشاف کیا۔
ہمایوں اشرف نے واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی اسنیچنگ کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو وہ انتہائی چونکا دینے والا ہوتا ہے، کیونکہ یہ اچانک پیش آتا ہے، آپ بالکل مختلف ذہنی کیفیت میں ہوتے ہیں اور ایسی کسی صورتحال کے بارے میں سوچ بھی نہیں رہے ہوتے، میں نے ایک ہفتہ پہلے ہی ایک بہت مہنگا موبائل فون خریدا تھا کہ اچانک ایک اسنیچر آیا اور مجھ پر پستول تان کر موبائل مانگ لیا، میں نے موبائل دے دیا، مگر پھر واپس لے لیا، اس نے دوبارہ موبائل چھین لیا، لیکن میں نے پیچھے سے اسے پکڑ لیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اپنی جان بچانے کے لیے اس نے مجھ پر فائر کیا اور بھاگ گیا، مجھے احساس تھا کہ وہ دوبارہ بھی آ سکتا ہے، اس لیے میں ایک گاڑی کے پیچھے چھپ گیا، کچھ دیر بعد دو لڑکے میرے پاس آئے اور پوچھا کہ کیا میں ٹھیک ہوں، اسی وقت میری نظر اپنی پینٹ پر پڑی تو وہ خون سے تر تھی، کیونکہ گولی میری ٹانگ کو چھوتی ہوئی گزر گئی تھی۔
ہمایوں اشرف نے کہا کہ اسپتال جاتے ہوئے مجھے شدید تکلیف ہو رہی تھی، میں کنفیوز تھا کہ کلمہ پڑھوں یا کیا کروں، مجھے یقین تھا کہ میں نہیں مروں گا، مگر درد بہت شدید تھا، اسپتال پہنچ کر ڈاکٹرز بھی فوراً یہ سمجھ نہ سکے کہ اصل مسئلہ کیا ہے، تو میں نے ان سے درخواست کی کہ پہلے درد کی دوا دیں، پھر باقی باتیں دیکھیں۔