• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی سینیٹر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگانے والی ہما عابدین کون ہیں؟

امریکی سابق وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کی سیاسی معاون اور اوباما انتظامیہ میں مشیر پاکستانی نژاد امریکی مسلمان ہما عابدین اپنی سوانح حیات میں کیے گئے انکشافات کے بعد آج کل خبروں میں ہیں۔

 ہما عابدین نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’بوتھ / اینڈ: اے لائف ان مینی ورلڈز‘ میں اپنے خاندان، ورثے، شناخت، عقیدے، شادی اور بطور ماں اپنی زندگی کی کہانی بیان کی۔

ہما عابدین کون ہیں؟

ہما عابدین  کی پیدائش امریکی ریاست مشی گن میں ہوئی تاہم دو سال کی عمر میں وہ اپنے والدین کے ساتھ جدہ چلی گئیں جہاں انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔

ہما عابدین کی والدہ پاکستانی اور والد بھارتی ہیں، ان کے والد سید زین العابدین بھارتی مصنف ہیں جب کہ والدہ صالحہ محمود عابدین پاکستانی ہیں جو مختلف اخبارات و جرائد کے لیے کالم و تبصرے لکھتی رہی ہیں۔

ہما عابدین کی ہیلری کلنٹن کی ٹیم میں شمولیت:

ہما عابدین امریکا واپس آئیں اور مختلف تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

ہما عابدین محض طالب علم ہی تھیں کہ  1996 میں وہ وائٹ ہاؤس میں بطور انٹرن خاتون اوّل ہلری کلنٹن کی ٹیم میں بھرتی ہوئیں۔

اس کے بعد ہما عابدین کی قابلیت اور طویل مدت کے ساتھ کے بعد ہلری کلنٹن انہیں اپنی دوسری بیٹی کہنے لگیں۔

انٹرن سے ’چیف آف اسٹاف‘ بننے کا سفر

ہما عابدین نے 25 سال پہلے ہلری کلنٹن کے ساتھ جو سیاسی اور پیشہ ورانہ سفر شروع کیا تھا وہ آج بھی کامیابی سے جاری  ہے اور وہ اس وقت ہلری کلنٹن کی ٹیم میں ’چیف آف اسٹاف‘ کے عہدے پر فائز ہیں۔

2016 کی امریکی صدارت کی دوڑ میں انہوں نے ہلری کے لیے معاون خاص کا عہدہ بھی سنبھالا۔

شوہر سے علیحدگی:

اس کے علاوہ ہما عابدین اس وقت بھی شہ سرخیوں کی زینت بنی تھیں جب انہوں نے شوہر سے عیلحدگی اختیار کی تھی۔

2016 میں شوہر کے جنسی اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ہما عابدین نے  انتھونی وینر سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا۔

سال 2017 میں وینر نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور انہیں 21 ماہ کی سزا سنائی گئی، جوڑے کا ایک بیٹا بھی ہے۔

10 سیکنڈز کو اپنی زندگی سے مٹانا چاہتی ہوں

امریکا کی سابق سینیٹر ہیلری کلنٹن کی معاون ہما عابدین نے امریکی سینیٹر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا ہے۔

ہماعابدین نے اپنی کتاب میں سینیٹر یا اس کی پارٹی کا نام نہیں بتایا۔

ہماعابدین نے لکھا کہ واقعہ جنوری 2005 میں پیش آیا جب وہ ایک عشائیے کے بعد امریکی سینیٹر کی دعوت پر کافی پینے اُن کے گھر گئیں۔

انہوں نے لکھا کہ وہ ان 10 سیکنڈز کو اپنی زندگی سے مٹانا چاہتی ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید