• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ابھی تک کالعدم تنظیم سے بات نہیں بنی، شیخ رشید احمد

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے پر دستخط وزیراعظم سے پوچھ کر وزیراعظم کی مرضی سے کیے، حکومت کو اپنی رٹ قائم کرنا ہوتی ہے، وہ حکومت کیا ہوگی جس کی رٹ نہیں، ابھی تک حکومت کی کالعدم تنظیم سے بات نہیں بنی۔ 

جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے اپنی گفتگو کے آغاز میں کہا کہ ملک کا آئین قران و سنت اور لاالہ الا اللہ کے تحت بنا ہے، کوئی مسلمان نہیں ہوسکتا اگر ختم نبوت پر ایمان نہ ہو۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی کالعدم تنظیم کے سربراہ سعد رضوی سے دو تین ملاقاتیں ہوئی ہیں، جبکہ جمعے اور ہفتے کو بھی سعد رضوی سے بات ہوگی۔ 

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیائے اسلام کی سب سے بڑی فوج ہے، پاکستان اسلام کی دیوارِ چین ہے، پاکستان اسلام کی دفاعی لائن ہے، پاکستان ایٹمی طاقت ہے اس لیے اندر سے کمزور کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جی ٹی روڈ پاکستان کی دفاعی لائن ہے، ساری کور اسی جی ٹی روڈ پر ہے۔

شیخ رشید احمد نے کالعدم تنظیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو بات آپ سے طے ہوئی ہے، آپ کے مطالبات ماننے کو تیار ہیں، ہم لڑائی جھگڑا نہیں چاہتے آپ ہمارے بھائی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان پاکستان کو یرغمال نہیں بننے دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ چار پولیس والے شہید ہوچکے ہیں، 70 سے 80 افراد کو گولیاں لگ چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ کو ہونے والا نقصان بھی قوم کا نقصان ہے، آپ کی طرح ہم بھی لبیک یا رسول اللّٰہﷺ اور ختم نبوتﷺ کی بات کرتے ہیں۔

فرانسیسی سفیر سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی سفیر پاکستان چھوڑ کر جا چکا ہے، آپ اسلام آباد بیٹھ کر کیا کریں گے، عمران خان خود اقوام متحدہ میں اسلام کا کیس لڑ چکے ہیں۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں عمر کے اس حصے میں ہوں، سال ہوں یا دو سال ہوں، قوم کو سچ بتا کر مرنا چاہتا ہوں، آپ نے جو حالات پیدا کیے ہیں ان سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کل لامحالہ معاملات رینجرز کے ہاتھ میں دینا پڑے ہیں، عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے رینجرز کو تعینات کیا گیا ہے، آج کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات میں ابھی تک بات نہیں بنی۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے وعدہ کیا کہ دونوں روڈ کھول دیں گے، آپ اس پر عمل کریں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ چار دن سے ہر روز کہہ رہا ہوں کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان پر پابندیاں لگانے کی سازش کا مقابلہ ہم سب نے مل کر کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس لاٹھی اور آنسو گیس ہیں، آپ سیدھی گولی مار رہے ہیں، ایسے آگے بڑھتے رہے، تو کسی نہ کسی جگہ آپ کو روکا جائے گا، جب روکا جائے گا تو نتائج کی ذمے داری آپ پر ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی حکومت ہیں، عمران خان نے جتنی لچک دکھانی تھی، دکھا چکے ہیں، ہم ان کی بہت ساری باتیں مان چکے ہیں، وہ اپنے مرکز واپس جانے کی بات نہیں مان رہے ہیں۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ حکومت کے گلے پر انگوٹھا رکھ کر اپنی بات نہیں منوائی جاسکتی، حکومت کو اپنی رِٹ قائم کرنا ہوتی ہے، وہ حکومت کیا ہوگی، جس کی رِٹ نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ فرانس کا سفیر شاید گبھرا کر پاکستان چھوڑ کر جاچکا ہے، ساری دنیا میں ہماری رٹ کا مذاق اُڑایا جارہا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ تشدد سے کبھی کامیابی نہیں ہوتی، یہ مسجد رحمتہ اللعالمین میں جائیں ان سے جو باتیں طے ہیں اس پر ہم قائم ہیں، جس نے بھی تشدد کیا آخرکار وہ ختم ہوا کبھی پذیرائی نہیں ملی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس جماعت کو کالعدم قرار دیا ہے ابھی پابندی نہیں لگائی، تمام باتیں ٹی وی پر نہیں کرسکتا، اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے۔

شیخ رشید نے باور کروایا کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں، ہمارے خلاف سازشیں ہیں جو ہم پر پابندی لگانا چاہتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں ڈرا دھمکا نہیں رہا لیکن ریاست رٹ قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کرے گی، ہم ان کی ساری باتیں ماننے اور سننے کو تیار ہیں یہ واپس جائیں۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ عمران خان کی بھرپور کوشش ہے کہ یہ مسئلہ حل ہو۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ریاست کی رٹ کو قائم کریں گے، جو وزیراعظم حکم دیں گے وزارت داخلہ اسے ماننے کی پابند ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم نے بھرپور کوشش کرلی، عمران خان اب ان کو کچھ دینے کو تیار نہیں، جبکہ یہ بھی کہا کہ اب ان کو راستے میں روکنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔

قومی خبریں سے مزید