• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اٹلی کے دارالخلافہ روم میں دو روزہ گروپ ٹوئنٹی سربراہ کانفرنس کا انعقاد ہوا ، اس کانفرنس میں بیس ممالک کے سربراہوں نے شرکت کی مگر روس اور چین کے صدور نے کانفرنس میں شرکت نہیں کی تاہم انہوں نے ویڈیو لنک پر رابطہ رکھا۔

ہر کانفرنس کا ایجنڈا مذکورہ بیس ممالک کے وزراء خارجہ قبل اَز کانفرنس ڈیڑھ دو ماہ پہلے علیحدہ کانفرنس میں طے کرتے ہیں۔ گروپ۔ ٹوئنٹی فورم کی بیش تر ذیلی کمیٹیاں ہیں ان سب کی الگ الگ ذمہ داری ہے۔ فورم کا سیکرٹریٹ پورے سال کام کرتا ہے۔جی20- فورم کو دُنیا میں اہم بااثر اور نمائندہ فورم تصوّر کیا جاتا ہے۔ 

اس فورم میں جی۔ سیون کے ممالک بھی رُکن ہیں۔ نوّے کی دہائی میں یہ فورم قائم ہوا، رفتہ رفتہ اس کا دائرۂ کار بڑھتا گیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتھونی گیٹریس نے گروپ۔20کے اراکین ممالک کے رہنمائوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آپس کی رنجشیں، تنازعات اور بدگمانیاں بُھلا کر ایک دُوسرے سے تعاون کریں اور مشترکہ طور پر ترقّی پذیر ممالک کو کووڈ19- سے نبردآزما ہونے کے لئے ویکسین فراہم کریں، کورونا وائرس نے دُنیا پر اپنے مہیب اثرات مرتب کئے ہیں۔ بالخصوص ترقّی پذیر ممالک کو زیادہ نقصانات برداشت کرنے پڑے ہیں اوریہ سلسلہ جاری ہے۔ 

کووڈ19- دُنیا سے گیا نہیں، جس کی وجہ سے تاحال پچاس لاکھ سے زائد افراد دُنیا بھر میں ہلاک ہوئے جن میں ساٹھ فیصد مرد اور چالیس فیصد کے قریب خواتین تھیں۔ کووڈ نے سب سے زیادہ قلب کے مریضوں کو شدید متاثر کیا۔ دُوسرے درجے پر شوگر کے مریض متاثر ہوئے۔ کورونا وائرس سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں دریافت ہوا۔ پھر جنوری 2020ء کے ساتھ ہی دُنیا میں پھیلنا شروع ہوا۔ سب سے پہلے دُنیا کے بڑے سیاحتی شہر متاثر ہوئے مثلاً نیویارک، روم، پیرس، فرینکفرٹ، ٹوکیو وغیرہ۔ 

اس خطرناک وبائی مرض نے کھربوں ڈالر کا نقصان کیا، معاشروں کو متاثر کیا، نفسیاتی مسائل پیدا کئے۔ سماجی ماہرین کہتے ہیں کہ اب دُنیا کے کووڈ سے پہلے کے ماحول اور معاشرت میں واپس لوٹنے کے امکانات بہت ہی کم نظر آتے ہیں۔ اس موذی وبائی بیماری نے قوموں کی معاشرت بھی تبدیل کر دی ہے، مگر اس سے بھی زیادہ گھمبیر مسئلہ یہ ہے کہ وبائی بیماریوں کا خدشہ یا خطرہ کورونا پر ختم نہیں ہوتا۔ ماہرین کہتے ہیں مزید خطرناک وائرس دُنیا پر حملہ کرنے کو تیار ہیں۔

برطانیہ کےشہر گلاسگو میں بھی کانفرنس ابھی ختم ہوئی ہے۔ یہ گروپ20- سے بڑی کانفرنس تھی جو ماحولیات کے موضوع پر تھی۔ اقوام متحدہ نے اس کانفرنس کا اہتمام کیا تھا جس میں دُنیا کے سب ہی سربراہان شریک تھے۔ گویا اب انسان، انسانیت اور کرّۂ اَرض کا نمبر ون مسئلہ زمین اور قدرتی ماحول کا تحفظ اور آلودگی میں کمی ہے۔ 

واضح رہے کہ نوّے کی دہائی میں برازیل کے شہر ریوڈی جنیریو میں ماحولیات کے حوالے سے پہلی بڑی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس کا موضوع تھا ’’کرّۂ اَرض کا تحفظ‘‘ جس میں ایک سو سے زائد سربراہان مملکت نے شرکت کی تھی۔ تقریباً تیس سال بعد اب گلاسگو میں برازیل کی کانفرنس سے بھی بڑی کانفرنس منعقد ہوئی۔ 

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتھونی گیٹریس نے سوال کیا کہ کیا یہ کانفرنس مثبت نتائج فراہم کر سکے گی جبکہ پچھلی کانفرنس کے منظور کردہ نکات اب تک پورے نہیں ہو سکے ہیں۔ ماحولیات اور کرّۂ اَرض کے تحفظ کے ضمن میں جس طرح کام ہونا چاہئے فوری فیصلے فوری عمل، مگر ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ عمل کی رفتار چیونٹی جیسی ہے جبکہ موسمی تغیّرات اور قدرتی ماحول کے بگڑنے کی رفتار کہیں زیادہ ہے۔ انتھونی گیٹریس نے یہ بھی کہا کہ دُنیا کے دو بڑے اہم ممالک چین اور روس کے صدور نے کانفرنس میں شرکت ہی نہیں کی تو پھر بات کیسے آگے بڑھ سکتی ہے۔ بڑی طاقتوں کی آپس کی رنجشیں ختم ہی نہیں ہو رہی ہیں۔

جی20- کانفرنس کے انعقاد سے قبل امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے اٹلی کے شہر ویٹی کن سٹی میں جو کیتھولک عیسائیوں کا رُوحانی مرکز اور پوپ کی رہائش گاہ ہے اس شہر کو عیسائی دُنیا متبرّک مانتی ہے۔ امریکی صدر نے پوپ فرانسس سے ایک گھنٹے سے زائد ملاقات کی۔ صدر جوبائیڈن نے پوپ فرانسس کو امن کا سچا سپاہی قرار دیا اور کہا کہ مجھے اَزحد خوشی ہے کہ میں ایک عظیم رُوحانی رہنما سے پہلی بار مل رہا ہوں۔ پوپ فرانسس سے سابق امریکی صدر باراک اوباما نے بھی ملاقات کی تھی اور انہیں قطب شمالی اور گرین لینڈ کا دورہ بھی کرایا تھا جہاں برفانی گلیشیئرز پر سے برف پگھل چکی تھی اور یہ صرف پہاڑ رہ گئے تھے۔ پوپ فرانسس نے اس صورت حال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے دُنیا کے تمام سربراہوں کو کھلا خط لکھا تھا۔

امریکی صدر جوبائیڈن کےبعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ویٹی کن سٹی میں پوپ فرانسس سے ملاقات کی۔ پوپ فرانسس ماحولیات اور موسمی تغیّرات کے موضوع پر کھل کر بولتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے زیادہ تر گفتگو ماحولیات کی خطرناک صورت حال پر کی۔ ایک طرح سے دُنیا کی تقریباً تمام اہم شخصیات نے کرّۂ اَرض کو آلودگی سے درپیش خطرات پرتشویش کا اظہار کیا ہے اور صورت حال کی سنگینی کو بھی تسلیم کیا ہے مگر عملاً کچھ نہ کرنے کے برابر ہے۔ 

ابھی امریکہ کے میڈیا میں یہ بات چل رہی ہے کہ امریکہ ملک میں آلودگی کو کم کرنے کے لئے 550 ملین ڈالر صرف کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر جوبائیڈن ماحولیات کے مسئلے پر سنجیدہ ہیں۔سائنس دانوں اور ماہرین ماحولیات کی نظریں کانفرنس پر ہیں ان سب کی بہت سی اُمیدیں اور توقعات اسی کانفرنس سے بندھی ہیں۔

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن جب روم کی کانفرنس میں شرکت کے لئے آ رہے تھے تو اخباری نمائندوں نے ان سے پوچھا کہ آپ گروپ20- کی کانفرنس سے کیا توقعات رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ دُنیا کی جغرافیائی، سیاسی صورت حال بہت نازک ہے، ہر ملک کے اپنے اپنے مسائل ہیں۔ کرّۂ اَرض کا تحفظ اور ماحولیات میں سُدھار جیسے گھمبیر مسئلے سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گروپ20- کانفرنس کے علاوہ یہ گلاسگو کی بہت بڑی کانفرنس ہے جو صرف ماحولیات پر ہو رہی، COP-26 اقوام متحدہ کے زیرنگرانی عمل میں آ رہی ہے جس میں دُنیا کے 198ممالک شریک ہو رہے ہیں۔ 

یہ کانفرنس گروپ20- سے بہت بڑی ہے گویا پوری دُنیا شریک ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیات کے عالمی ادارے سمیت دُنیا کی دس سے زائد بڑی بڑی غیرسرکاری تنظیمیں جو ماحولیات، موسمی تبدیلیوں میں بگاڑ اور آلودگی میں بتدریج اضافہ جیسے نازک مسائل پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں کو معروف اور دُنیا کی امیر شخصیات کا تعاون حاصل ہے مگر میں پھر بھی فکرمند ہوں کہ دُنیا کے تمام اہم ممالک ان مسائل پر جمع تو ہو جاتے ہیں، مگر نتائج کم نکلتے ہیں۔

اخباری نمائندوں نے بورس جانسن سے مزید پوچھا کہ ان حالات میں آپ گروپ20- اور گلاسگو کانفرنسوں سے کس حد تک پراُمید ہیں۔ انہوں نے جواب دیا ففٹی ففٹی۔ برطانوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ زیرو لیول آلودگی کے نعرہ میں ابہام پایا جاتا ہے۔ قدرتی کوئلہ کے استعمال کوکم سے کم کرنے پر اصرار، کروڑوں درخت اُگانے کے لئے پودے لگانے کی مہم اس پر بھی ابہام پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے بڑی بڑی رقومات کا فوری دستیاب ہونا یہ بھی اہم مسئلہ ہے۔ تارکین وطن دُنیا کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے خاص طور پر یورپ اور امریکہ کے لئے۔ 

بورس جانسن نے بات چیت جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لاکھ کوششوں کے باوجود تارکین وطن کی آمد کو روکنا ناممکن ہے۔ بورس جانسن نے کہا کہ رومن ایمپائر کا زوال یوں ہوا کہ وہ تارکین وطن کی آمد پر کوئی قدغن، روک ٹوک نہ لگا سکے ان کی سرحدیں کھلی رہتی تھیں۔مگرعالمی برادری کو ایسے حساس مسائل پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے، اس لئے میرا اصرار ہے کہ دُنیا کے ممالک کو آپس کے تنازعات حل کرنا، آپس کی رنجشیں اور بدگمانیاں دُور کرلینا چاہئیں کیونکہ حقیقت میں ہمارے پاس دُنیا کے ماحول میں سُدھار لانے کے لئے وقت کم ہے جو واویلا اب مچا ہوا ہے اگر یہی عمل پچاس ساٹھ برس قبل شروع ہوتا تو

حالات اتنے پیچیدہ اور حساس نہ ہوتے۔ اس طویل گفتگو نے روم میں برطانوی وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا گیا کہ بورس جانسن مایوسی پھیلا رہے ہیں۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے جو کچھ کہا بالکل دُرست کہا یہ باتیں کرنے والے نہ یہ پہلے فرد ہیں نا آخری۔ اس طرح کی تنقید، سنجیدہ رائے بہت سی شخصیات نے بہت عرصے قبل بھی تھیں اور اب بھی یہی کہہ رہے ہیں۔

برّاعظم افریقا بہت بڑا برّاعظم ہے۔ آبادی ایک اَرب سے زائد اور افریقی یونین کے 28 ممالک رُکن ہیں۔ ان میں صرف ایک ملک جنوبی افریقا کو نمائندگی دی گئی ہے اس پر افریقی یونین کے دیگر ممالک نے کہا کہ نائیجیریا کو بھی نمائندگی ملنا چاہئے کیونکہ وہ افریقی یونین کا امیر، اہم ملک ہے اس کی آبادی بھی سب سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ روایت بن چکی ہے کہ جہاں جہاں جب بھی ماحولیات اور موسمی تغیّرات کے حوالے سے کانفرنسیں منعقد ہوئی ہیں ان جگہوں پر بڑے بڑے مظاہرے ہوئے ہیں۔ اس لئے کانفرنس کے منتظمین کو سیکورٹی کے حوالے سے ہمیشہ شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ اب بھی روم میں کانفرنس کے شرکاء کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ 

دراصل دُنیا میں جو افراد ماحولیات، موسمی تغیّرات اور آلودگی میں اضافہ جیسے مسائل کے بارے میں آگہی رکھتے ہیں وہ مظاہروں میں شریک ہوتے ہیں ان کا احتجاج محض احتجاج نہیں بلکہ ان کا احتجاج ان ملکوں اور ان کے رہنمائوں سے ہے جو ترقّی یافتہ، خوشحال ہیں اور منظم معاشروں میں رہتے ہیں۔ مظاہرین کا شکوہ یہ ہے کہ جو ماحول سُدھارنے، آلودگی کم کرنے یا ختم کرنے کی بات کرتےہیں یہی ممالک یہی رہنما دُنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پھیلاتے ہیں جن میں پہلے نمبر پر امریکہ ہے۔ 

دُوسرے نمبر پر چین ہے، تیسرے پر برازیل اور بھارت ہے اور یہی ممالک زیادہ واویلا مچاتے ہیں۔ ان ملکوں کے باشندے تعیشات کے دلداہ ہیں، آسائشات کے عادی ہیں، تیل اور بجلی سے چلنے والے آلات، کاریں، مشینیں اور اپنے کارخانے چلاتے ہیں۔ ان کے کارخانوں سے کثیف دُھواں نکلتا ہے جو فضا کو شدید متاثر کرتاہے۔ وبائی امراض اور امراض قلب کا سبب بنتا ہے۔ کارخانوں کا زہرآلود پانی سمندروں میں بہایا جاتا ہے جس سے سمندری حیاتیات کی بڑی تعداد معدوم ہوتی جا رہی ہے، اس طرح کے دیگر مسائل کے امیر بااثر ممالک ان کا اجارہ دار سرمایہ دار طبقہ ان تمام مصائب کا ذمہ دار ہے۔ 

ان کے ترقّی یافتہ معاشروں میں جمہوریت، انسانی حقوق اور اظہار رائے کا عطر پھیلایا تو جاتا ہے مگر اس کی تہہ میں بیشتر بدبودار مسائل دَبے ہوئے ہیں۔ دُنیا ساٹھ کے عشرے اور سردجنگ کے عروج کے دور کو نہیں بھولی ہے، جو ان خوشنما نعروں کے علمبرداروں نے پیرس کی سڑکوں پر نوجوان طلبہ کا کیا حشر کیا تھا جو انصاف مانگ رہے تھے، استحصال کے خلاف بول رہے تھے، فیسوں میں کمی کا مطالبہ کر رہے تھے، اس دور میں یہی رنگ ڈھنگ امریکہ نے بھی اپنایا تھا۔ امریکہ میں میکارتھی اَزم عروج پر تھا ٹیکساس، ورجینیا اور نیویارک کی سڑکوں پر نوجوانوں اور طلبہ کے لہو کے نشان جگہ جگہ پھیلے نظر آتے تھے۔ جگہ جگہ پولیس سیکورٹی اہلکاروں کے جتھے دکھائی دیتے تھے۔

امریکہ پولیس اسٹیٹ بنا ہوا تھا۔ ٹیکساس کے ایک کالج کی جونیئر سیاہ فام اُستاد لڑکی انجیلا ڈیوس جس پر الزام عائد کیا گیا کہ اس کے پاس سوشلزم کی کتاب ہے جس سے وہ طلبہ کے ذہن پراگندہ کر رہی ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ اس نوجوان جونیئر اُستاد کو پورے امریکہ میں تلاش کیا جاتا رہا وہ اکیلی لڑکی بھاگتی رہی۔ اس واقعہ پر اس دور میں پوری دُنیا میں امریکہ کی ساکھ متاثر ہوئی تھی اور جمہوریت اظہار رائے کی آزادی کے امریکی نعرے شدید متاثر ہوئے تھے۔روم اور گلاسگو میں کانفرنس کے دونوں دن احتجاجی جتھے بڑی تعداد میں سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے۔ 

کانفرنس ہال کی طرف جانے کے لئے سیکورٹی اہلکاروں سے ان کی سارا سارا دن جھڑپیں ہوتی رہیں۔ اگر یہی عمل ترقّی پذیر ملکوں میں دُہرایا جاتا تو مغرب کا میڈیا آسمان سر پر اُٹھا لیتا ہے، یہی دُہرا معیار مغرب کا وتیرہ ہے۔ اس کے باوجود جمہوریت، انسانی حقوق کے پَر ان کی دستار کی زینت بنے ہوئے ہیں۔تمام رپورٹوں اور جائزوں سے قطع نظر، یہ بالکل دُرست اور دوٹوک حقیقت ہے کہ گلوبل وارمنگ، گلوبل کولنگ موسمی تبدیلیوں کا سلسلہ آلودگی اور زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے ،جس سے کرّۂ اَرض کا قدرتی ماحول تتّر بتّر ہو رہا ہے۔ 

ہماری زمین، اس پر آباد تمام حیاتیات کی سلامتی کو زبردست خطرات لاحق ہیں۔ دُنیا کے سائنس داں، ماہرین اور انسان دوست، ماحول دوست افراد اداروں کی تشویش بجا ہے،مگر اس دُنیا میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے بھی لوگ بہت ہیں جو مین اسٹریم کی مخالفت میں بات کرکے مسرت حاصل کرتے ہیں۔ کچھ افراد کو سائنسی انکشافات سے ڈر لگتا ہے وہ بھی بڑی سے بڑی بات کو جھٹلانے کی کوشش کر کے خوشی حاصل کرتے ہیں۔ روم میں گروپ20- کی حالیہ کانفرنس میں عالمی اقتصادیات پر بھی بہت غور و خوض کیا گیا۔ چند ممالک نے کورونا وائرس کے علاوہ انہیں درپیش مسائل سے کانفرنس کے شرکاء کو آگاہ کیا۔ مثلاً سیلاب، طوفانی بارشوں، فصلوں کی تباہی جیسی آفات نے ان ملکوں کی معیشت پر مہیب اثرات مرتب کئے۔ جس کی وجہ سے ان ممالک کی معیشت شدید متاثر ہوئی۔

ترقّی پذیر ممالک کی اکثریت کووڈ اور موسمی حالات کی وجہ سے مزید بڑے مسائل سے دوچار ہیں۔ ان میں اکثر ممالک عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے قرضوں میں ڈُوبے ہیں۔ اس کےعلاوہ ترقّی پذیر ممالک میں بہت بڑا مسئلہ کرپشن کا ہے۔ ان ممالک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانے والا فیکٹر کرپشن ہے۔ زیادہ تر ترقّی پذیر ممالک کے معاشرے، انتظامیہ اور رہنما گلے گلے تک کرپشن کی دَلدل میں دَھنسے ہوئے ہیں۔ 

ترقّی پذیرممالک کے بیش تر رہنما سیاست داں کرپٹ، نااہل اور خودغرض ہیں۔ اپنی ان کوتاہیوں اور بدعنوانیوں کی پردہ پوشی کے لئے اپنی عوام کو مصنوعی غیرضروری مسائل میں اُلجھا دیتے ہیں، عوام کو حقائق سے دُور رکھتے ہیں۔ ان معاشروں میں تعلیم، صحت عامہ اور سماجی بہبود کے مسائل سے ہمیشہ دوچار رہتے ہیں۔ اس لئے ان ممالک کے معاشرے پسماندگی، مایوسی، بیزاری اور ناانصافی کا شکار رہتے ہیں۔

گروپ20- میں ماحولیات، کووڈ کے بعد اہم موضوع معیشت، ترقّی اور خوشحالی پر بات ہوئی۔ اس طرح کی کانفرنس کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی کانفرنس محض ایک دُوسرے سے ملنے کا بہانہ ہے۔ اس طرح کے گروپ جیسے گروپ7- اور گروپ20- یا اکنامک فورم وغیرہ عالمی کیفے ٹیریا اور امیروں کے کلب ہیں۔ عوام کی فلاح کے حوالے سے محض تقریریں ہیں۔ 

روم اور گلاسگو میں سیکورٹی اہلکاروں کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ احتجاج کرنے والوں کا وہی مؤقف تھا جو گزشتہ اکنامک فورم کے اجلاس کے موقع پر سامنے آیا اور پرزور احتجاج کیا گیا تھا۔دنیا کے تمام انسانوں کو نہ صرف اس کرہ ارض کے بچائوکی جدوجہد کرنی ہےبلکہ تمام پسماندہ معاشروں میں پھیلے طرح طرح کے تعصبات، جبرو استحصال، نا انصافی اور طبقاتی تفریق کے خلاف بھی آواز اٹھانا ہے۔

بڑی عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے حصول کے لئے لگتا ہے کسی بھی حد سے گزرنے کو ہمہ وقت تیار بیٹھی ہیں جوہری ہتھیار، مضر کیمیکل ہتھیار اور طرح طرح کے راکٹ میزائل، ان تمام خطرات میں الجھی انسانیت کا مستقبل مخدوش نظرآتا ہے تمام انسان دوست اور ماحول دوست رہنما، دانشور، صحافی، مصنف، شاعر اور فن کار گومگوں کی صورتحال میں اپنی کوششیں کررہے ہیں، مگر طاغوتی طاقتوں کےسامنے یہ محض مٹھی بھر لوگ ہیں پھر ان کو بھی اکثرداد و رسن کی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

مگر ایسے ہی لوگ انسانیت کی رہبری کرتے ہیں اس کے باوجود گزشتہ ایک صدی کے دوران معیشت اور سیاست پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے والوں نے بیشتر انسانی معاشروں کو غربت، بیروزگاری، مہنگائی اور مایوسی کے سوا کیا دیا اس وجہ سے عوام کی بڑی تعداد افراتفری، مایوسی، بیزاری اور بے یقینی کی کیفیات میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں گویا ہر طرف نفسا نفسی عام ہورہی ہے ہر چوتھا فرد نفسیاتی ہورہا ہے۔گروپ 20 کانفرنس اور ماحولیات کے حو الے سے روم میں خاصی ہلچل رہی تھی۔ اٹیلی کے عوام ویٹی کن سٹی اور پوپ کا بہت احترام کرتے ہیں۔ اس لئے ہر اہم مسئلےپر وہ ویٹی کن کی طرف دیکھتے ہیں۔

پوپ فرانسس کو گہری تشویش ہے کہ دنیا کے سیاستداں اور سربراہان مملکت کی اکثریت قدرتی ماحول میں بگاڑ سے آلودگی میں اضافےسےپیدا ہونے والےمسائل کو اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ پوپ کا کہنا ہے کہ عالمی رہنمائوں کو آپس میں گھل مل کر رہنا چاہئے یہ نازک وقت ہے مل جل کر کام کریں اور تنازعات کو بھول جائیں کانفرنس کے دوسرے اور آخری دن برطانیہ کے پرنس چارلس نےکانفرنس میں شرکت کی اور اپنے خطاب میں کہا یہ دو کانفرنس گروپ20 اور گلاسگو کی کانفرنس COP-26 ہماری آخری امید ہیں۔ 

ان میں جو قراردادیں منظور ہوئیں اور اہم ترین مسائل کو حل کرنے پر زور دیا گیا ۔اس پر عمل کرنا ہم سب کے لئے ضروری ، اسی میں ہماری سلامتی ہے۔ گروپ20 نے آخری دن جو قراردادیں اور سفارشات پیش کیں ان میں اہم سفارشات یہ ہیں کہ پوری دنیامیں کارپوریٹ ٹیکس کی مد میں 15فی صد ٹیکس وصول کیا جائے۔کانفرنس نے سفارش کی ہے کہ سال 2022ء تک دنیا کی ستر فیصد آبادی کو کورونا ویکسین لگادی جائےاور2050ء تک کاربن کے اخراج میں کمی کرکے زمین کے درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری کمی کی جائے اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم گلوبل وارمنگ کے شروع ہونے سے پہلے کے دور میں آسکتے ہیں۔

کانفرنس نے دنیا کے امیر ممالک سے کہا ہے کہ یہ ممالک 80؍ فیصد کاربن کا اخراج کرتے ہیں اگر یہ کاربن کے اخراج میں بتدریج کمی لائیں تو ہم درجہ حرارت کو بھی گھٹاسکتے ہیں اس حوالے سے امیر ممالک کے حامی حلقوں کا کہنا ہےکہ ان پر پہلے ہی سے بہت دبائو ہے اب مزید ان پر پریشر ڈالا جارہا ہے۔کانفرنس نے تجویز دی کہ چین چونکہ سب سے زیادہ کاربن کے اخراج کا ذمہ دار ہے اس لئے اس کو اپنا ٹارگٹ خود طے کرنا چاہئے اور کاربن کے اخراج میں کمی کافیصلہ بھی چین کو کرنا ہوگا ۔

لہٰذا چین اپنے ٹارگٹ مقررکرے۔ماہرین کواس پر بھی تشویش ہے کہ دنیا بھر میں کوڑا کرکٹ کے ڈھیر لگ چکے ہیں اور ہماری زمین کو ڑا دان بن کر رہ گئی ہے اسے میں ہمیں ایک مزید زمین درکار ہوگی اس کےعلاوہ نکتہ چیں حلقوں کا کہنا ہے کہ زمین کے اوپر خلاء میں سیکڑوں سیارچوں کی وجہ سے خلا میں سیارچوں کاملبہ جمع ہورہا ہے، دوسرے معنی میں خلا جنک یارڈ بن چکا ہے۔ سمندروں میں صنعتی فضلہ اور آلودہ پانی الگ تباہی مچارہا ہے سمندری قوانین میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

گروپ 20 کانفرنس میں معاشی ماحول میں سدھار کووڈ سے نمٹنے کے لئے زیادہ سےزیادہ لوگوں کو ویکسین لگانے سمیت ایک اور نازک مسئلے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اس مسئلے پر برطانیہ کے وزیراعظم نے زیر حاصل بحث کی انہوںنے کانفرنس کو بتایاکہ اگر عالمی رہنمائوںنے ماحولیات میں سدھار اور آلودگی میں کمی کے منصوبوں پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا تو آئندہ دو عشروں میں 250؍ ملین افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہونگے۔ یورپ پر تارکین وطن کا زیادہ دبائو ہے ۔

گزشتہ چند برسوں میں ہزاروں افریقی، عرب اور ایشیائی تارکین وطن نے یورپی ممالک کی سرحدوں پر ڈیرہ لگائے تھے، خاص طور پرشام، لبنان، عراق، افریقی سب صحارا ممالک سے باشندوں کا سلسلہ یورپ کی طرف ہجرت کرتا رہا، یہ سلسلہ ا بھی جاری ہے۔ بورس ولسن کے علاوہ تارکین وطن کے مسئلے پر اٹلی کے وزیراعظم نے بھی مسئلے کے دیگر پہلوئوں پرروشنی ڈالی۔تارکین وطن کے مسئلے پر ان کی یورپی ممالک میں داخلے کے مسئلے پر یورپ کے دائیں بازو کی جماعتیں اپنی اپنی حکومتوں سے احتجاج کرتی رہی ہیں خاص طور پر کرسچن ڈیموکریٹ جرمنی، ہالینڈ کی کرسچن ڈیموکریٹ نے جرمنی، ہالینڈ، بیلجئم اور آسٹریا میں مظاہرے بھی کئے تھے۔

دنیا کے ماحول دوست رہنمائوں نے بار بار آواز اٹھائی ہےکہ کرہ ارض کا تحفظ، انسانیت کی سلامتی کے لئے دنیا کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ،اس نازک اور حساس مسئلے میں امیر ممالک اور اجارہ دار ملٹی نیشنل اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ وہ حرص وہوس کے دائروں سے نکل کر دنیا پر نظرڈالیں۔ پوپ فرانسس سے پرنس چارلس اور انتھونی گیئریس سے عمران خان تک سب ایک زبان، ایک موقف بیان کررہےہیں۔ اقوام متحدہ کانعرہ ہے کہ اس زمین اور اس پر موجودانسانیت کو تباہی سے محفوظ رکھنے کی جدوجہد ابھی سے شروع کردو کہ وقت بہت کم ہے۔