آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
دکھ سانجھے ہوں تو دکھیارے مل بیٹھنے کا موقع تلاش کر ہی لیتے ہیں۔ امریکہ میں ویلنگ مامز Wailing Moms کے نام سے ایک تنظیم موجود ہے، جو ایک طرح سے افغانستان میں بیٹوں کی بلی چڑھانے والی بدنصیب ماؤں کے کیتھارسس کا پلیٹ فارم ہے جہاں وہ واقعی بین تو نہیں ڈالتیں، مگر ان کے دکھڑے نوحہ گری سے کم بھی نہیں ہوتے۔ گزشتہ اکتوبر لاس اینجلس میں ہونے والے ایک ایسے ہی اجتماع میں ایک مقامی صحافی دوست کی وساطت سے شرکت کا موقع ملا تھا۔ دعوت نامہ تو موصوف کے نام تھا اور میرے لئے خصوصی اجازت ایک پاکستانی صحافی کے طور پر لی گئی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ دکھ بیان کرنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ اسی فلسفے کی علمبردار ایک ماں جس کا نام کچھ بھی ہوسکتا ہے، مارگیٹ، الزبتھ، ریٹا، نینسی، حد درجہ متانت اور استقامت کے ساتھ ڈائس پر آکھڑی ہوئی۔ بولی ”میں ایک ماں ہوں اور جانتی ہوں کہ جس ماں کی گود اجڑ جائے اس کی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ ماں کہیں کی بھی ہو، کسی کی بھی ہو، کیسی بھی ہو، اولاد کا صدمہ اسے جیتے جی مار دیتا ہے۔ دنیا کے لئے وہ سانس لیتی ہے، کھاتی پیتی ہے، چلتی پھرتی ہے، من چاہے تو مسکرا بھی لیتی ہے اور شاید قہقہہ بھی لگا لے مگر اس کے اندر کا خلا موجود رہتا ہے اور اسے مسلسل ہانٹ کرتا رہتا ہے اور یہ وہ کیفیت ہے جس میں کسی لمحہ کمی نہیں آتی۔ کہتے

ہیں جس تن لاگے، سوتن جانے۔ میرے تن کو لگ چکی اور میں اس روح فرسا تجربے سے گزر چکی۔ میرا اکلوتا بیٹا ہیری بگرام ایئربیس کے قریب طالبان کے ایک حملے میں مارا جا چکا ہے۔
”ہمیں بڑے فخر سے بتایا جاتا ہے کہ ہم دنیا کی واحد سپر پاور ہیں۔ ہم کیسی سپر پاور ہیں کہ اکیسویں صدی میں پتھر کے زمانے کے لوگوں کی طرح لڑ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو مار رہے ہیں، گلے کاٹ رہے ہیں۔ بقائے باہمی کے اور طریقے ختم ہوگئے کیا؟ اب افغانستان سے نکل رہے ہو، کاش گئے ہی نہ ہوتے؟ ہزار گھر تو اجڑنے سے بچ جاتے۔ میں بھی کتنی خود غرض ہوں، صرف امریکیوں کو شمارکر رہی ہوں۔ خون کی اس ہولی کے دوران افغانستان اور اس کے گرد و نواح سے بھی کتنے جنازے اٹھے اور کتنی ہی ماؤں کے کڑیل بیٹے ریزہ ریزہ ہو کر پیوند خاک ہوگئے۔ وہ بھی تو کسی کے جگر کے ٹکڑے تھے،ان کا شمار بھی تو کسی نے کرنا ہے!!
میں اپنے قصبے کے مختصر سے ایئرپورٹ پر کافی دیر سے موجود ہوں، متعلقہ محکمے نے پروگرام کا ایک تفصیلی کتابچہ کئی دن پہلے بھیج دیا تھا۔چھوٹے طیارے سے صرف ایک ہی تابوت آ رہا تھا جو میرے ہیری کا تھا۔ میں ٹارمک پر کھڑی ہوں۔ چند لوگ اور بھی ہیں، فوجی بھی اور غیر فوجی بھی جو اسے سلامی بھی دیں گے اور قبرستان تک لے بھی جائیں گے۔ کچھ دیر کے لئے تابوت گھر پہنچانے کا آپشن بھی دیا گیا تھا مگر میں نے معذرت کر دی تھی کیونکہ میں اپنے ہیری کو کس کیلئے تکلیف دیتی؟ گھر میں اور کون ہے؟ میں بھی ادھر ہوں، اس کی بہن این بھی اور منگیتر سارا بھی۔ اس کے باپ کے روڈ ایکسیڈنٹ میں مارے جانے کے بعد بچوں کو سڑک کے سفر پر بھیجنے کی ہمت نہیں پڑتی تھی اور بہت مجبوری میں ایسا کرتی تھی مگر میں بھول گئی تھی کہ صرف سڑکیں ہی قاتل نہیں ہوتیں، اصل صفایا تو جنگیں کرتی ہیں۔ میں کتنی بدنصیب ہوں کہ ویتنام کی جنگ میں میرا باپ مارا گیا تھا، تب اتنی چھوٹی تھی کہ بابا کی شکل بھی یاد نہیں اور آج افغانستان کے کسی آسیب زدہ ویرانے میں کام آنے والے اپنے اکلوتے بیٹے کا تابوت وصول کرنے کے لئے ادھر کھڑی ہوں اور یہ تصور کر کے سانس کی آمد و رفت ٹوٹتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے کہ میرا ماضی بھی ایک لایعنی جنگ نے چھینا تھا اور میرا مستقبل بھی ایک بے چہرہ جنگ کی نذر ہوگیا ہے۔ جنگ نے اور لوگوں کو بھی نقصان پہنچایا ہوگا لیکن جس بے رحمی سے اس نے مجھے اجاڑا ہے اس اذیت سے مرتے دم تک نہ نکل پاؤں گی۔
ایئرپورٹ پر ہلچل ہو رہی ہے، میرے ہیری کا طیارہ لینڈ کرنے کو ہے۔قریبی ریاست سے اعزاز کے ساتھ یونیورسٹی ڈگری مکمل کرنے کے بعد بھی ہیری اسی ایئرپورٹ پر اترا تھا۔ پیس اینڈ سیکورٹی کے مضمون میں اسے سنہری تمغہ ملا تھا، جو اس نے اپنی جیکٹ کے نیچے پہنا ہوا تھا۔ طیارے سے اترتے ہی مجھ سے لپٹ گیا تھا اور اپنا میڈل میرے گلے میں ڈال دیا تھا۔ میں نے پوچھا کہ میڈل کو جیکٹ کے نیچے کیوں چھپایا ہوا تھا؟ کہنے لگا تاکہ ہمراہی یہ نہ کہیں کہ شو آف کر رہا ہے۔ تو سامان میں رکھ لیا تھا، بولا، اس لئے نہیں کیا تاکہ اسے تمہارے گلے میں ڈالنے میں تاخیر نہ ہو جائے۔
طیارہ لینڈ کر چکا ہے۔ چند ہی لوگ ہیں، تابوت ایک چبوترے پر رکھا جا چکا، فوجیوں نے ماتمی دھنیں بجائیں اور سلامی دی۔ ایک وردی والا جو ذرا سینئر لگتا تھا، تابوت پر سے ایک ٹرے اٹھا لایا جس میں ہیری کی ٹوپی، اسٹک اور رینکس رکھے تھے۔ بائیں ہاتھ پر ٹرے اٹھائے وہ پریڈ کے انداز میں میری طرف بڑھا اور ایک ماتمی سے سلیوٹ کے بعد ٹرے میری جانب بڑھا دی، جسے تھامنے کی مجھ میں ہمت نہ تھی۔ ٹوپی کو اٹھایا، چوما اور وہیں رکھ دی۔ رینکس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا۔ ٹرے کو دونوں ہاتھوں سے اٹھائے اٹینشن کھڑا فوجی منتظر تھا کہ میں ہیری کی یہ نشانیاں اس سے لے لوں مگر میں اپنے آپ کو آمادہ نہیں کر پا رہی تھی۔ میرے دائیں ہاتھ سوگوار سی سارا کھڑی ہے، ہیری کی منگیتر اور بائیں طرف میری چھوٹی بیٹی این، جو ابھی ابھی ہائی اسکول سے فارغ ہوئی ہے۔ ایک لمحہ کیلئے سارا کا خیال آیا کہ یہ سب اسے دے دوں کیونکہ وہ اسے بہت پیار کرتا تھا اور اس کے خطوط اور ٹیلی فون گفتگو کے 70% حصہ کا تعلق کسی نہ کسی طرح سارا سے ہوتا تھا۔ پھر ایک کوندا سالپکا کہ زندگی اور امنگ سے بھرپور24 برس کی اس سندر سی یونیورسٹی گریجویٹ لڑکی کا ایک مرے ہوئے شخص کی ان نشانیوں سے کیا تعلق؟ اس نے تو زندہ اور تابندہ ہیری سے ناتا جوڑا تھا اور اس بیچاری کا انڈیا کے اس قبیلہ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں جس کی عورتیں مرنے والے شوہروں اور منگیتروں کے ساتھ جل کر راکھ ہو جاتی تھیں یا پھر سفید لباس میں ملبوس اپنی بقیہ زندگی ان کی یاد میں گزار دیتی تھیں۔ اب مجھے فیصلہ کرنے میں کوئی دشواری نہیں تھی۔ این اس کی اکلوتی بہن ہے، خون کا رشتہ، جو سب رشتوں پر بھاری ہوتا ہے۔ نوجوان ہے، پڑھی لکھی ہے اور اس کے آگے پوری زندگی پڑی ہے۔ ہیری کے تبرکات کا اس سے بڑھ کر کوئی اور مستحق نہیں ہوسکتا۔
ٹرے کو پھیلائے ہوئے ہاتھوں میں تھامے فوجی پر یہ لمحات بہت بھاری گزر رہے تھے۔ باقی لوگ بھی میری تذبذب سے پریشان سے تھے۔ دفعتاً میں نے این کو اشارہ کیا، اگلے ہی لمحے اس نے مستحکم ہاتھوں سے ٹرے تھام لی، سب کو گویا سکون سا ہو گیا۔ تھکے تھکے سے فوجی نے ایک اور کمزور سا سلیوٹ کیا اور اتنی طمانیت سے پیچھے ہٹا کہ گویا سر سے بھاری بوجھ اتر گیا ہو۔