• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس جدید دور میں دنیا بھر کے ماہرین اور کمپنیاں جدت سے بھر پور چیزیں تیار کرنے میں سر گرداں ،ان میں کچھ چیزیں تو ایسے ہیں جن کے بارے میں جان کر عقل دنگ رہ جائے ۔ان میں سے چند کے بارے میں ذیل میں بتایا جا رہا ہے۔

ائیر بیگ والی کار

اکثر کاروں میں اب ائریبگ لازمی موجود ہوتے ہیں، تاہم ان کا مقصد ڈرائیور یا مسافر کی حفاظت کرنا ہوتا ہے ۔ Volvo نامی کمپنی نے ایسی کار متعارف کروائی ہے، جس کے ائیربیگز گاڑی سے باہر ہیں اور یہ ٹکرائو کی صورت میں پیدل چلنے والے کا بچائو کریں گے۔ گاڑی سے ٹکرائو کی صورت میں ونڈ اسکرین کے قریب بونٹ کے ایک حصہ کے بیگ کے ساتھ اوپر اٹھے گا اور یہ گاڑی کی ونڈ اسکرین اور سامنے والے حصے پر جا کر پھیل جائے گا۔ ا س کے نتیجے میں ٹکرائو پر کم سے کم نقصان ہو گا۔

انسانی دماغ کی نقل کرنے والی کمپوٹر چپس

انسانی دماغ قدرت کی تیار کردہ سب سے حیرت انگیز مشینری ہے۔ انسانی دماغ کے اندر100 بلین کے قریب نیورون پائے جاتے ہیں۔ یہ 500ٹریلین کے قریب کیمیائی جنکشن synapses کے ذریعے ایک دوسرے تک پیغام منتقل کرتے ہیں۔ہر 100بلین نیورون کے کئی ہزار کنکشن ہوتے ہیں جو ہر نیورون کو دوسرے نیورون (عصبی خلیات) اور دوسرے خلیات سے ملاتے ہیں۔ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نیورونز (عصبی خلیات) کا یہ پیچیدہ جال سوچنے، سیکھنے، تصاویر کو ذخیرہ کرنے اور ان کو یاد کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔

اس کے علاوہ وقت ضرورت پیچیدہ جال دماغ کے درست مقام کو احکامات منتقل کرتا ہے، جس کی وجہ سے ہمارا جسم مختلف افعال انجام دیتا ہے۔اب IBM میں ایک بالکل نئے انداز کا کمپیوٹر Chips تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو بالکل انسانی دماغ کی طرح کام کریں گی۔ اس کمپیوٹر میں انسان کی طرح سوچنے، محسوس کرنے اور ردعمل ظاہر کرنے کی صلاحیت ہو گی۔ کمپیوٹر چپس کی نئی قسم Neurosynaptic Computer Chips انسانی دماغ کے افعال کی نقل کرے گی ۔امریکی حکومتی ایجنسی DRAPA ہے جو کہ عسکری نوعیت کے منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کرتی ہے۔ 

انہوں نے بہت بڑا مصنوعی دماغ تیار کیا ہے جو کہ 6.1 بلین Virtual نیورونز پر مشتمل ہے یہ نیورونز9ٹریلین Synapses کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ اس نے بلی کے دماغ کی صلاحیت کو بڑھا دیا اور اب ایسا نظام تکمیل کے مراحل میں ہے جو انسانی دماغ کی طرح کام کرے گا۔ ان Chips میں نمونوں کی شناخت کی صلاحیت ہو گی اور یہ سادہ کام مثلا Navigation مشینی بصیرت(machine vision)، درجہ بندی (Classification) اور اس سے منسلک یادداشت جیسے افعال انجام دے سکے گا۔ IBM اس قسم کی Chips کی مدد سے مصنوعی دماغ تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں 10 بلین مصنوعی نیورونز اور 100ٹریلین Synapses ہوں گے ۔

کانٹیکٹ لینسز… تکثیری حقیقت کے لیے

امریکی دفاعی ادارہ DARPA ایک منصوبے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے، جس میں امریکی فوجیوں کو میدان جنگ میںتکثیری حقیقت Augmented Reality کی صلاحیت سے لیس کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت ایسے کانٹیکٹ لینسز کا استعمال کیا جائے گا، جس میں مائیکرو الیکٹرونکس آلات موجود ہوں گے ان کے ذریعے میدان جنگ کی اہم اطلاعات نہ صرف ناظر کو نظر آئیں گی بلکہ یہ اصل تصویر پر منطبق ہو جائے گی اس طرح میدان جنگ کی اہم اطلاعات مثلاً دشمن سے فاصلہ، جغرافیائی صورت حال ہر لمحہ موصول ہوتی رہیں گی۔ اس طرح چھپے ہوئے خطرات اور محض آنکھ کی جنبش میں در آنے والے خطرات سے محفوظ رہ جا سکے گا۔ 

ابتدا میں یہ ٹیکنالوجی ایک خاص ہیلمٹ میں استعمال کی جارہی تھی ،جس میں فوجی جنگی جہازوں کی لڑائی کے دوران بغیرجنگی اطلاعات کوبغیر کسی وقفے کے اپنے کنسول میں وصو ل کر تے تھے اور انہیں ہر طرف کی صورت سے مکمل آگاہی ہو جاتی تھی، یہ ہیلمٹ فائٹر پائلٹس استعمال کرتے تھے،تاہم بعض اوقات لمحوں کا فرق زندگی اور موت کا فرق بن سکتا ہے۔

انتہائی چھوٹے Form-factor head-up display (HUD) ہڈ کو کانٹیکٹ لینسز کو نصب کردیا گیا ہے، جس کو پہننے والے فوجی ایک وقت میں دو سطحوں کو دیکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ یہ منصوبہ ڈارپا کے Soldier Centric Imaging Via Computational Cameras (SCENICC) پروگرام کا حصہ ہے۔ آئی آپٹک ڈسپلے سسٹم خاص قسم کی عینک کے ساتھ دیا جاتا ہے، جس کے دونوں جانب چھوٹے چھوٹے پروجیکٹر لگے ہوتے ہیں۔ اس کے ذریعے 3D ویڈیو تصاویر کی بھی پروجیکشن کی جاتی ہے۔ اگر چہ کہ ان ٹیکنالوجیز نے امریکی فوجیوں کو قابل ذکر قوت دی ہے ۔

حرارت سے بجلی پیدا کرنا… ایک بھرت کے ذریعے

کالج آف سائنس اینڈ انجینئرنگ یونیورسٹی آف منی سوٹاکے سائنس دانوں نے حال ہی میں ایک بھرت دریافت کی ہے جو کہ حرارت کو براہ راست بجلی میں تبدیل کر دے گی۔ اس کے ذریعے بوائلرز،صنعتی پاور پلانٹ اور ایئرکنڈیشنرز سے نکلنے والی حرارت کو بجلی میں تبدیل کیا جا سکے گا جو کہ نسبتاً سستی بجلی ہو گی۔ اس تحقیقی ٹیم کی سربراہی ایرواسپیس انجینئرنگ اینڈ مکینکس کے پروفیسر رچرڈ جیمس کر رہے ہیں۔ 

یہ بھرت نکل، میکنیز، کوبالٹ اور ٹن سے تیار کی گئی ہے یہ خود تو غیرمقناطیسی ہے لیکن جیسے ہی درجۂ حرارت میں اضافہ کیا جاتا ہے اور یہ حرارت جذب کرتی ہے یہ انتہائی طاقتور مقناطیسی قوت کی حامل ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک مرحلہ وار تبدیلی سے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔بجلی تیار کر نے کے نئے سبز طریقہ سے خارج ہونے والی گرمی کو بجلی میں تبدیل کر دیا جائے گا اور اس بجلی سے بعض آلات چلائے جا سکیں گے۔

دنیا میں کہیں بھی بیٹھ کر کھانا پکائیں

اگر ایسا ہو کہ آپ دفتر میں بیٹھ کر گھر میںرکھے ہوئے کوکر کو کنٹرول کریں۔ آپ جیسے ہی گھر پہنچیں تازہ تازہ کھانا آپ کے لیے تیار ہو۔اب اس جدید درو میں یہ بھی ممکن ہو گیا ہے۔ AGA کی نئی i Total کنٹرول کوکر کی مدد سے آپ دنیا میں کسی بھی جگہ بیٹھ کر اپنے گھر میںکھانا تیار کرسکتے ہیں۔ اس کوکر میں بیکنگ، بھوننے اور ہلکی آنچ پر پکانے والے تین علیحدہ علیحدہ آپریٹنگ اوون نصب ہیں جن کو آپ ایک ٹیلی فون پیغام کے ذریعے دنیا میں کہیں بھی بیٹھ کر ہدایات دے سکتے ہیں یا پھر کسی ویب سائٹ کے ذریعے یہ ہدایت منتقل کی جا سکتی ہے۔

لیزر کی مدد سے دھماکہ خیز اشیاء کی موجودگی کا سراغ 

دھماکہ خیز مواد کا سراغ لگانا ایک مشکل امر ہوتا ہے ،کیوں کہ اکثر فضا میں ایسے اجزاء موجود ہوتے ہیں جن میں اور دھماکہ خیز اشیاء کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔چناںچہ سراغ رسانی کے ایسے آلات کی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے جن کی مدد سے سڑکوں پر نصب بموں کا فوری سراغ لگا لیا جائے۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے لیے بھی یہ بڑا چیلنج ہے ۔مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی نے اس مشکل کا حل تلاش کر لیا ہے۔

 انہوں نے ایک سادہ لیزر سسٹم تیار کیا ہے ،جس کی مدد سے سڑکوں کے کنارے نصب بم اور دیگر دھماکہ خیز آلات کی شناخت کی جاسکے گی ۔ یہ آلہ عام لیزر پوائنٹر کی شکل کا ہے اس کا رخ مشتبہ شے کی طرف کیا جاتاہے ۔اس کی مختصر اور طویل طول موج Wavelengthوالی روشنی مذکورہ شے پر پڑ کر اس کے مالیکیول میں ارتعاش پیدا کردیتی ہے ،یہ اس قدر حساس ہے کہ ایک گرام کے کروڑویں حصے پر مشتمل مواد کو بھی آسانی سے شناخت کرلیا جائےگا۔

ریشم کے کیڑے سے برقیات

عام طور پر زندہ ٹشوز اور ان سے حاصل کردہ مواد بجلی کے اچھے موصل نہیں ہوتے ،تاہم لووا اسٹیٹ یونیورسٹی کے میکانی انجینئرنگ کے پروفیسر Xingwei Wangنے ریشم کے کیڑے کی غیرمعمولی خوبی دریافت کی ہے ۔یہ کسی بھی زندہ جسم کے مقابلے میں حرارت کا اچھا موصل ہے۔ یہ سیلیکون، ایلومینیم اور لوہے سے زیادہ بہتر موصل ثابت ہوا ہے ۔یہ 416واٹ فی میٹر کی رفتار سے حرارت منتقل کرتا ہے ، اور کسی بھی زندہ نامیاتی جسم کے مقابلے میں 800گنا زیادہ رفتار سے حرارت منتقل کرتا ہے ۔ ایک اور حیران کن بات یہ سامنے آئی ہے کہ اگر اس کو کھینچا جائے تو اس کی موصلیت میں 20 فی صد اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس کے بر خلاف اگر دوسرے مواد کو کھینچا جائے تو ان حرارت موصلیت میں کمی واقع ہوتی ہے ۔اس ایجاد کے بے شمار اطلاقات ہیں۔ریشم کا کیڑا ٹھنڈے کپڑوں کی تیاری میں معاون ثابت ہوگا ،کیوں کہ اس سے جسم کی حرارت انتہائی تیزی سے منتشر ہوجائے گی ۔اس کے علاوہ برقی آلات کی تیاری میں حرارت کو منتشر کرنے والے مواد کے طور پر بھی ان کو استعمال کیا جاسکتا ہے ، جس کے نتیجے میں Cool Computersبنائے جاسکتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی اس کو cool bandadgeکی تیاری میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

ریشم کے کیڑے کے دوسرے میدانوں میں بھی اطلاقات ہیں۔ Tuftیونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ کپلان کی دریافت کے مطابق جینیاتی طور پر ترمیم شدہ ریشم کے کیڑے کی پروٹین کینسر کے خلیات سے چپک جاتی ہے اور ایک خاص جین خارج کرتی ہے، جس کے ذریعے چمک دار پروٹین تیار کی جاسکتی ہے ( وہی جین جو جگنو کی چمک کا سبب ہے)۔ 

یونیورسٹی آف Wyomingکے ڈاکٹر عمر قریشی نے ریشم کے کیڑے میں دو ایسے پروٹین دریافت کیے ہیں جو کروڑوں سال میں ارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔اور ان کے اندر چپکنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ اس دریافت کے بعد بہترین گوند تیار کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے بجائے حیاتیاتی گوند کے استعمال کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید