ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کئی مقبول مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کے چیٹ بوٹس کم عمر صارفین کو پرتشدد حملوں کی منصوبہ بندی سے روکنے کے بجائے ان کی مدد کرتے ہیں۔
یہ تحقیق ڈیجیٹل نفرت اور انتہا پسندی کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’سینٹر فار کاؤنٹرنگ ڈیجیٹل ہیٹ‘ نے امریکی میڈیا ’سی این این‘ کے ساتھ مل کر کی ہے۔
محققین نے امریکا اور آئر لینڈ میں بچوں کے طور پر فرضی اکاؤنٹس بنا کر 10 معروف چیٹ بوٹس کا تجربہ کیا۔
جانچ کے دوران جن چیٹ بوٹس کو آزمایا گیا ان میں چیٹ جی پی ٹی، گوگل جیمنائی، کلاڈ، مائیکروسافٹ کو پائلٹ، میٹا اے آئی، ڈیپ سیک، پرپلکسٹی، اسنیپ چیٹ مائی اے آئی، کیریکٹر اے آئی اور ریپلیکا شامل تھے۔
تحقیق کے مطابق 10 میں سے 8 چیٹ بوٹس نے ایسے سوالات پر مناسب روک ٹوک نہیں کی جو اسکول پر حملوں یا عبادت گاہوں پر حملوں کی منصوبہ بندی سے متعلق تھے، بعض صورتوں میں چیٹ بوٹس نے اس بارے میں معلومات بھی فراہم کیں کہ حملہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چند چیٹ بوٹس نے ہتھیاروں، حکمتِ عملی اور ممکنہ اہداف کے بارے میں معلومات دے کر صارف کو مزید تفصیل سے منصوبہ بنانے میں مدد دی، ایک چیٹ بوٹ ’ڈیپ سیک‘ نے تو مبینہ حملہ آور کے لیے ’خوش گوار اور محفوظ شوٹنگ‘ کی خواہش تک ظاہر کی۔
اسی طرح گوگل جیمنائی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ دھاتی شریپنل زیادہ مہلک ہو سکتا ہے جبکہ بعض صورتوں میں چیٹ جی پی ٹی نے تعلیمی اداروں کے نقشوں سے متعلق معلومات بھی فراہم کیں۔
اس تحقیق کے مطابق صرف کلاڈ نامی اے آئی ماڈل نے واضح طور پر تشدد کی حوصلہ شکنی کی اور صارف کو نقصان دہ سرگرمیوں سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔
تنظیم سینٹر فار کاؤنٹرنگ ڈیجیٹل ہیٹ کے سربراہ عمران احمد کا کہنا ہے کہ چند ہی منٹوں میں ایک صارف مبہم پُرتشدد خیال سے نکل کر تفصیلی منصوبہ بندی تک پہنچ سکتا ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک ہے۔
تحقیق کے نتائج میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مناسب حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو اے آئی ٹیکنالوجی عوامی سلامتی اور قومی سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔