• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی سے عمران خان پر دباؤ بڑھ رہا ہے، برطانوی اخبار

کراچی (نیوز ڈیسک) جمعہ کو ریڑھی پر جوتے فروخت کرنے والے 27؍ سالہ اسد اللہ نے مہنگائی سے تنگ آ کر خود کو آگ لگالی۔ اُن کے رشتہ دار غنی نے اس کا الزام ملک کی معاشی حالت کو قرار دیا جہاں مہنگائی بدترین سطح پر آ چکی ہے اور ایسے لوگوں کو نگلتی جا رہی ہے جو اپنے معمولی اخراجات پورے کرنے کی بھی سکت نہیں رکھتے۔ 

غنی کا کہنا تھا کہ میری اہلیہ اور والدین پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن میرے پاس گھر کا کرایہ دینے تک کے پیسے نہیں جبکہ گائوں پیسے بھیجنا اب ممکن نہیں رہا۔ 

انہوں نے کہا کہ میں پانچ دیگر لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو مہنگائی سے تنگ آچکے ہیں اور بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہوکر خودکشی پر آمادہ ہیں، حکومت غریبوں پر رحم کرے اور مہنگائی کم کرے۔ 

برطانوی اخبار گارجین میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بگڑتی معاشی صورتحال سے وزیراعظم عمران خان پر روز بہ روز دبائو بڑھ رہا ہے اور ملک میں بے چینی پھیل رہی ہے کیونکہ ملک کو بدترین اور ریکارڈ مہنگائی کا سامنا ہے اور اب دنیا بھر میں پاکستان چوتھے مہنگے ترین ممالک میں شامل ہو چکا ہے- 

اب تو چینی کی قیمتیں پیٹرول سے بھی بڑھ چکی ہیں۔ اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان نے کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور لوگوں کو غربت کی لکیر سے اوپر اٹھانے کا وعدہ کیا تھا اور نیا پاکستان بنانے کا نعرہ لگایا تھا۔ 

اس کی بجائے ہوا یہ کہ گزشتہ ماہ سعودی عرب کے دورے کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ریاض سے تین ارب ڈالرز کی مالی مدد لائے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے ماضی کی غلطیوں اور مہنگائی کا ذمہ دار ایک مرتبہ پھر پچھلی حکومتوں کو قرار دیا۔ 

معاشی مبصر خرم حسین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا اعلانیہ 120؍ ارب روپے کا پیکیج کافی نہیں کیونکہ یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے اور عام عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ عمران خان پر دبائو بڑھتا جائے گا کیونکہ آنے والے دنوں میں ایندھن چینی اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے کیونکہ ملک میں بیروزگاری زیادہ ہے اور تنخواہوں اور اجرتیں پرانی ہیں۔ ضروری اشیاء جیسا کہ بجلی اور تیل کی قیمتیں بے مثال انداز سے مہنگی ہو چکی ہیں۔ تین سال قبل چینی کی قیمت 3؍ ہزار روپے فی 50؍ کلوگرام تھی جبکہ اب 7؍ ہزار روپے ہو چکی ہے۔ 

ایک سرکاری ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تنخواہ میں معمولی اضافہ کرکے زبردست مہنگائی کردی گئی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، تین سال قبل میں اپنا گھر 60؍ ہزار میں آسانی سے چلا لیتا تھا لیکن اب 90؍ ہزار میں بھی مشکل پیش آ رہی ہے۔

اہم خبریں سے مزید