• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اچھا تو بچو ۔۔۔جیسے ہی میں ریچھ کے غار سے باہر نکلا ۔۔۔

ایک منٹ ایک منٹ ۔۔۔

یہ تو پچھلی کہانی تھی نا ۔۔۔؟

اوہ ہاں یاد آیا ۔۔۔۔

میری کہانی تو وہاں رکی تھی جہاں ایک پراسرار گھر میں کسی جان ور کے پنجے نے مجھے پکڑ کر گھر میں گھسیٹ لیا تھا ۔

چلیں اب یہاں سے آگے کے واقعات سناتا ہوں ۔

آ پ نے اندازہ لگایا کہ وہ خوف ناک جان ور کون سا تھا جس نے مجھے پکڑ کر گھر کے اندر گھسیٹ لیا تھا۔۔۔؟اندازہ نہیں لگا سکے ہوں گے ،مجھے پورا یقین ہے ۔چلو میں بتاتا ہوں ۔

وہ بھیانک پنجہ ایک بہت بڑے اور خون خوار اُلو کا تھا۔اس کی جسامت مجھ سے بہت زیادہ تھی ۔میں تو ایک ننھا سا بھالو تھا ۔بلی کے جیسا،مگر وہ الو بہت بڑا تھا۔اس کی بڑی بڑی گول گول زرد آنکھیں دیکھ کر میری سٹی گم ہوگئی ۔وہ اتنا طاقت ور اور عظیم الجثہ تھا کہ اس نے مجھے ایک ہی پنجے سے پکڑ کرکھینچ لیااور گھر میں بند کر دیاتھا۔ پھر الو نے جنونی انداز میں چیختے ہوئے کہا:

’’ مزہ آگیا، میں نے تمہیں شکار کرلیا،کب سے سوچ رہا تھا کہ کوئی شکار یہاں تک آجائے، شکر ہے تم آگئے۔آج شام کو میرے دوست چائے پینے آرہے ہیں،چائے کے ساتھ بھالو کے سینڈوچ کھانے کا لطف ہی کچھ اور ہو گا ۔۔۔‘‘

میں پھٹی پھٹی خوف زدہ نظروں سے اس بھیانک اُلو کو دیکھ رہا تھا ۔

وہ خوشی سے ناچ رہا تھا ۔گا رہا تھا۔

الو کے پنجے میں بھالو پھنسا ہے

بھالو کے سینڈوچ کا اپنا مزہ ہے

بھوکا تھا جب سے ،بیٹھا تھا تب سے

کھایا نہیں تھا بھالو کو کب سے

کھا کھا کے چوہے ،بیزار تھا میں

قسمت سے مجھ کو بھالوملا ہے

الو کے پنجے میں بھالو پھنسا ہے

بھالو کے سینڈوچ کا اپنا مزہ ے

کسی بھالو سے،وہ بھی جانوروں کے ’’خالو بھالو‘‘سے بات کرنے کا یہ طریقہ نہایت مکروہ تھا۔یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کسی بھالو سے بات کرنے کا۔

الو نے دروازہ اندر سے بند کرکے تالا لگادیا۔چابی اپنی واسکٹ کی جیب میں رکھ لی اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہا:

’’ اب تم یہاں قید ہو،مرنے سے پہلے تک اس گھر کو اپنا ہی گھر سمجھو،ویسے ایک بات بتاؤ،گھر کے باہر کچھ لکھا تھا ۔۔۔وہ تم نے پڑھا نہیں تھا ۔۔۔؟‘‘

میں نے بے بسی سے اقرار میں سر ہلاتے ہوئے کہا:

’’ ہاں ۔۔۔پڑھا تھا ۔۔۔‘‘

’’ تو تمہیں اندازہ نہیں ہوا کہ اس گھر میں تمہارے ساتھ کیا ہو نے والا ہے ۔۔۔؟‘‘

میں نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا:

’ نہیں ۔۔۔میرا خیال تھا کہ اس گھر میں مجھے کوئی چمتکار مل جائے گا،شاید میرا نصیب بدل جائے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا، وہاں لکھا تھا حیرا ن ہونا چاہتے ہو تو اندر آجاؤ،میں تو یہاں آکر پریشان ہوگیا،یہ تو دھوکا ہے،لکھتے کچھ ہو ۔۔۔کرتے کچھ ہو،یہ ایک انتہائی غیر اخلاقی حرکت ہے ۔۔۔‘‘

الو نے مزے لیتے ہوئے کہا:’’ میں نے باہر لکھا تھا کہ اندر آکر حیران ہو جاؤ گے،تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا تم اس پہ حیران نہیں ہوئے،کمال ہے ۔‘‘

میں نے بے چارگی سے کہا:’’ ہاں ۔۔۔میں حیران ہوا ہوں کہ میرے ساتھ دھوکا ہوا ہے ۔۔۔میرا خیال تھا کہ اس گھر میں میری ایک عمدہ سی دعوت ہوگی ۔۔۔ موم پھلی اور بادام کا شربت پلایا جائے گا ۔۔۔لیکن ۔۔۔‘‘

میں بولتے بولتے رک گیا،دکھ سے میرا گلا رُندھ گیا تھا۔

الو نے مزے لیتے ہوئے اپنی تیز نوکیلی چونچ کڑکڑاتے ہوئے کہا:’’خیر ،اب تم یہاں پھنس گئے ہو، جو ہونا تھا وہ ہو گیا، اب جوہونا ہے وہ ہوگا۔میرے دوست آنے والے ہوں گے میں ذرا ان کے لیے چائے کی کیتلی چولھے پہ رکھ دوں ،جب تک وہ آئیں گے چائے کا پانی ابل جائے گا ۔۔۔‘‘

میری سمجھ میں نہیں آرہا تھاکہ اس صورت حال میں کیا کروں ۔میں ایک معمولی سا ’’ خالو بھالو ‘‘ تھا ۔بھلاایک خطرناک الو سے کیسے بھڑ سکتا تھا ۔میرا جھولا بھی اس وقت گھر کے باہر ہی گر گیا تھا جب الو نے مجھے اچانک پکڑ کر اندر کھینچا تھا ۔

اگر جھولا میرے پاس ہوتا تو شاید میں اس میں جھانک کر دیکھ لیتا کہ ایسی صورت حال سے بچاؤ کے لیے،اور اس گھر سے فرار کے لیے کوئی چیز اس میں موجود ہے یا نہیں ۔میرے پاس لے دے کے جیب میں ایک کھرپی تھی ،جو ظاہر ہے اس سچویشن میں میرے کسی کام کی نہیں تھی۔میں نہایت خطرناک حالات کا شکار ہو گیا تھا۔ اچانک مجھے جوجو گلہرا یاد آیا۔

گلہری کا بیٹا ،جوجو گلہرا اس گھر سے باہر تھا۔اس نے مجھے اس گھر میں گھسیٹنے کا منظر دیکھا تھا۔اس نے مجھے اندر جانے سے منع بھی کیا تھا۔جوجو، کا خیال آتے ہی امید کی ایک قندیل روشن ہو گئی۔وہ بہت ذہین اور پھرتیلا تھا۔ممکن ہے وہ مجھے یہاں سے نکالنے کے لیے کوئی ’’ تگڑم ‘‘ کر جائے۔ کوئی ترکیب لڑائے اور مجھے اس قید سے نجات دلانے میں معاون ثابت ہو ۔مجھے معلوم نہیں تھا کہ جوجو گلہرا باہرکیا کر رہا ہے ۔بعد میں معلوم ہوا کہ میری توقع کے مطابق جوں ہی الو نے مجھے گھر میں گھسیٹا اور دروازہ بند ہوا تھا ۔وہ حرکت میں آگیا تھا۔سکون سے نہیں بیٹھا تھا۔

بہادر جوجو گلہرا نے تیزی سے منصوبہ بندی شروع کردی کہ کیسے مجھے الو کے چنگل سے بچایا جائے ۔اس نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ جلدی جلدی بہت سارے اخروٹ الو کے گھر کے سامنے جمع کرلیے ،پھر وہ الو کے گھر کے سامنے ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا،اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد تاک تاک کر الو کے گھر کے دروازے پر اخروٹ پھینک پھینک کر مارنے لگا۔الو کے گھر کا دروازہ تڑا تڑ بجنے لگا تو اندر موجود الو چونک گیا۔اس نے مجھ سے کہا:

’’ لو بھئی،ابھی پانی بھی گرم نہیں ہوا اور میرے دوست پہنچ گئے ۔۔۔‘‘

الو بہت ہو شیار تھا ۔وہ دھیرے دھیرے چلتے ہوئے دروازے تک پہنچا اور دروازے کا پٹ تھوڑا سا کھول کر باہر اپنا منھ نکال کر دیکھنے لگا۔وہ دروازے کے سامنے اس طرح کھڑا تھا کہ میں کوشش بھی کرتا تو دروازے سے نکل کر بھاگ نہیں سکتا تھا۔

دروازے کے باہر کوئی نہیں تھا۔الو کو کوئی دکھائی نہیں دیا،اس نے بڑ بڑاتے ہوئے کہا:

’’ شاید ہواکی وجہ سے دروازہ بجا ہے، بہت تیز ہوا چلنے لگی ہے اب یہاں۔‘‘ اس نے ایک جھٹکے سے دروازہ بند کر دیا۔

جو جو گلہرا ،درخت کے پیچھے چھپ گیا تھا ،جوں ہی الو نے دروازہ بند کیا۔جو جو گلہرے نے ایک بار پھر تا ک تاک کر دروازے پر اخروٹ مارنا شروع کر دیے،جس کی وجہ سے گھر کے اندر دروازہ بجنے کی آواز گونجنے لگی۔

’’ تڑ تڑ ۔۔۔تڑا تڑ ۔۔۔تڑ تڑ تڑ تڑ ۔۔۔‘‘

ایسالگ رہا تھا جیسے ٹین کی چھت پر بارش کی موٹی موٹی بوندیں برس رہی ہوں ۔

الو نے ایک بار پھر چونک کر کہا:’’ شاید اب آئے ہیں میرے دوست ،مسلسل دروازہ بجا رہے ہیں ۔۔۔‘‘

وہ لپک کر دروازے پر گیا۔پہلے کی طرح احتیاط سے دروازہ کھول کر جھانکا ،مگر وہاں کوئی ہو تا تو دکھائی دیتا ۔وہ ایک لمحے کو الجھ گیا۔پھر پر خیال انداز میں بولا:

’’ شاید درخت کی شاخیں تیز ہو اکی وجہ سے دروازے سے ٹکرا رہی ہیں ۔۔۔‘‘

اس نے ایک بار پھر دروازہ بند کر دیا۔

اب کچھ دیر تک جوجو گلہرا نے کوئی اخروٹ نہیں پھینکا۔الو کے گھر کا دروازہ نہیں بجایا۔

الونے باورچی خانے میں جا کر ایک بڑی سی چھری نکالی اور اسے تیز کرنے لگا۔

میں سمجھ گیا۔ یہ چھری سینڈوچ کاٹنے کے لیے استعمال میں آتی تھی ۔

اب کیا ہوگا؟ انتظار کریں اگلے ہفتے تک۔