• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’بیٹیاں‘‘ والدین کا درد بانٹتیں ہیں اور ان کے اچھے برے وقت کی ساتھی ہوتی ہیں

بتول فاطمہ

اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ کئی بیٹے ہونے کے باوجود گھر میں وہ رونق نہیں ہوتی جو بیٹیوں کی موجودگی سے ہوتی ہے ۔ ان کی معصوم باتیں، رنگین پیراہن، رنگ برنگی روزمرہ استعمال کی اشیاء، چوڑیاں، کلپ ،پرس، زیورات وغیرہ گو یا گھر میں پھولوں کی بہار ہر وقت چھائی رہتی ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود آج بھی اکثر گھرانے بیٹیوں کی پیدائش پر ناک منہ چڑھاتے ہیں۔والدین بیٹوں کی تمناکرتے ہیں۔ لیکن جب شادی کے بعد یہی بیٹے والدین کو بھول جاتے ہیں جب کہ بیٹیاں ہمیشہ والدین کا ساتھ دیتی ہیں، ہر خوشی غمی میں ان کا درد بانٹتیں ہیںان کے اچھے برے وقت کی ساتھی ہوتی ہیں۔ وہ تو دوسرے گھر جا کر بھی والدین کو نہیں بھولتیں۔ 

پردیس میں رہنے کے باوجود والدین کا خیال، ان کا احساس ہر لمحےان کے ساتھ ر ہتا ہے۔ لہٰذا بیٹیاں ہونے پر ان کے لئے بھی ویسی خوشیاں منائیں جیسے بیٹےہونے پر منائی جاتی ہیں۔اور ان کی تعلیم و تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی بیٹیوں کی، ان کی غذا، ان کے پہننے اوڑھنے لکھنے پڑھنے کی ضروریات بھی بیٹیوں کی طرح یکساں رکھیں۔پڑھے لکھے اور اونچے طبقوں میں تو اگرچہ بیٹیوں کو بھی تعلیم سے بہر مند کیا جاتا ہے ، ان پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے لیکن نچلے اوراوسط درجے میں اب بھی صورت حال برسوں پرانی ہے، وہاں اب بھی بیٹے کے مقابلے میں بیٹی میں تفریق کی جاتی ہے۔ یہ صورت حال اب بدل جانی چاہئے۔ 

آج کے تیز رفتار مشینی بلکہ برق کی طرح تیزی سے بدلتی زندگی میں بیٹیوں کے آگے بڑھنے کے بھی کئی مواقع ہیں۔ ان پر پابندیاں اور تعلیم وہنر کے دروازے بند کر کے ان کے ساتھ کچھ اچھا نہیں کیا جاتا۔ ان کی صلاحیتیوں کو قید کرکے ان کے ساتھ ناانصافی کی جا تی ہے۔ بہتر ہوگا انہیں بھی آگے بڑھنے کے مواقع دئیے جائیں،اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ برے وقت میں بیٹے نہیں وہی بیٹیاں کام آتی ہیں۔ جنہیں آپ نے کسی قابل نہیں سمجھا تھا ،لہٰذا دور اندیشی سے فیصلہ کریں اور اپنی اولاد میں تفریق کے بجائے انہیں خود اعتمادی دیں۔