• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کا جوہری پروگرام یا اسرائیلی دباؤ، ٹرمپ کے مستعفی مشیر نے ایران جنگ کی وجوہات بتا دیں

جو کینٹ — فائل فوٹو
جو کینٹ — فائل فوٹو 

ایران جنگ کے مخالف امریکا میں انسدادِ دہشت گردی سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ نے اس جنگ کی وجوہات بیان کر دیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انسدادِ دہشت گردی سابق سربراہ جو کینٹ نے انکشاف کیا ہے کہ 2004ء سے ایران کے اسلامی نظام میں ایک فتویٰ نافذ ہے، جو اسے جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکتا ہے۔

ایران جنگ کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دینے کے ایک روز بعد جو کینٹ نے امریکا کو اس تنازع میں دھکیلنے کا ذمے دار اسرائیل کو ٹھہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب بھی نہیں تھا۔

نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے پوڈکاسٹر ٹکر کارلسن کو ایک تفصیلی انٹرویو میں اپنے استعفے کی وجوہات اور جنگ سے متعلق اپنے خیالات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے امریکا سے اس کارروائی کا فیصلہ کروایا، حالانکہ ہمیں معلوم تھا کہ اس کے نتیجے میں واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہو گا اور ایران جوابی کارروائی کرے گا۔

ان کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو یہ حوصلہ ملا ہوا تھا کہ وہ جنگ شروع کر سکتے ہیں اور امریکا کو اس پر ردعمل دینا ہی پڑے گا۔

کیا ایران جوہری ہتھیار بنا رہا تھا؟

صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے کئی اعلیٰ عہدیداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ 28 فروری کو ایران پر حملے کی وجہ یہ تھی کہ اس کا جوہری پروگرام امریکی قومی سلامتی کے لیے فوری خطرہ بن چکا تھا۔

ٹرمپ نے ایک ہفتے قبل یہ بھی کہا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے سے صرف 2 ہفتے کی دوری پر تھا، تاہم جو کینٹ نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی خطرہ موجود نہیں تھا، نہ 3 ہفتے پہلے اور نہ ہی جون میں، جب ایران کے جوہری تنصیبات پر بمباری کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ 2004ء سے ایران کے پاس ایک فتویٰ (مذہبی حکم) موجود ہے، جو اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکتا ہے اور امریکی انٹیلی جنس کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں تھا کہ اس حکم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہو، ایرانی حکمتِ عملی، خاصی عملی تھی۔

آیت اللّٰہ کی موت نے ایران کو مضبوط کیا

جو کینٹ کے مطابق سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا قتل امریکا کے حق میں ثابت نہیں ہوا بلکہ اس سے ان کے سخت گیر حامی مزید مضبوط ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ آیت اللّٰہ کو موت کا خوف تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ مارے بھی گئے تو نظام برقرار رہے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ کا ردعمل

وائٹ ہاؤس نے جو کینٹ کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی بیرونی دباؤ کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکی صدر صرف امریکا کے مفاد میں فیصلے کرتے ہیں اور وہ کسی دوسرے ملک کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر دنیا کی سب سے طاقتور ریاست اور فوج کے سربراہ ہیں۔ انہیں کوئی حکم نہیں دیتا وہ فیصلے صرف اپنے ملک کے بہترین مفاد میں کرتے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید