• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پروفیسر خالداقبال جیلانی

ازروئے قرآن ریاست و حکومت کی تشکیل سے مقصودِ خداوندی زمین پر ایک ایسے انسانی معاشرہ کا قیام ہے جس میں انسان اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے احکامِ الٰہیہ کی اطاعت پر مبنی نظام نافذ کرے (یعنی اقامتِ صلوٰۃ و ایتائے زکوٰۃ ) اور افراد معاشرہ کی تربیت و اصلاح (نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے) کا فریضہ انجام دے۔

چنانچہ اسی مقصدِ الٰہیہ کے حصول کے لئے آغاز کار کے طور پر رسول اللہ ﷺنے مدینے کی پہلی اسلامی ریاست و حکومت قائم کی اور اس کے زیرِ اثر ایک ایسے اسلامی انسانی معاشرے کی تعمیر و تشکیل فرمائی ،جس میں اقامتِ صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ کے ساتھ افراد معاشرے کی تربیت و اصلاح حکمرانوں کا بنیادی فریضہ اور اولین ذمے داری قرار پائی ۔

آپﷺ کے بعد اس کام کو خلفائے راشدین ؓ نے بڑی جاں فشانی و سرفروشی کے ساتھ نہ صرف جاری رکھا، بلکہ اسے ترقی و عروج کی رفعتوں اور استحکام کی راہوں پر گامزن رکھتے ہوئے نئی منزلوں کی وسعتوں سے ہم کنار کیا۔خلافت راشدہ کے بعد وہ حکومت و نظام جو زمین پر نیابتِ الہٰی کی جیتی جاگتی تصویر تھا اپنے عروج کی طرف چلتے ہوئے یک دم’’صراطِ مستقیم‘‘ سے ہٹنا شروع ہو گیا، جس کا سفر وہاں جاکر ختم ہوا، جہاں اجتماعی تنظیم، نظامِ خلافت کے بجائے شخصی عظمت کے مینار تعمیر کرنے لگی ،شخصی اقتدار کی ہوس کے ہاتھوں اسیر ہو کر جب خلافت ملوکیت اور حاکمت الٰہیہ ذاتی حکومت میں تبدیل ہوئی تو مسلمان حکمرانوں نے’’احکامِ خداوندی کی اطاعت کرتے ہوئے افراد معاشرہ کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ و اصلاح‘‘کے اصل فرض اور ذمہ داری کو پسِ پشت ڈال دیا۔ 

اس غفلت اور ذمہ داریوں سے پہلو تہی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست کے بنیادی اسلامی ادارے صلوٰۃ و زکوٰۃ اور امر بالمعروف نہی عن المنکر جمودو تعطل کا شکار ہوگئے ۔ دراصل شخصی حکومت کی اصل خرابی یہ ہوتی ہے کہ اس نظام میں حکمرانوں کی تمام ترفکری صلاحیتیں اور توجہات اپنی حکومت کو مستحکم کرنے اور اسے دوام بخش کر اپنی اگلی نسلوں کو منتقل کرنے اور ان کے مستقبل کو محفوظ تر بنانے پر مرکوز ہوتی ہیں اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو کھپا کر اور ریاست کے تمام افرادی اور مادی وسائل کو اس مقصد کو حاصل کرنے میں جھونک دیتے ہیں اور اپنی بنیادی ذمہ داری افراد کی تربیت اور اصلاحِ معاشرہ کے فریضے کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔ اس تمام صورت حال کا نتیجہ حکمرانوں کے بدترین اخلاق و کردار کے بگاڑ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور پھر حکمرانوں کایہ اخلاقی بگاڑ تمام افرادِ معاشرے کے اخلاق و کردار پر اثر انداز ہوتا ہے جو پھیل کر سارے معاشرے کے تمدنی، سیاسی،اخلاقی بگاڑاور دینی انحطاط کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور یہی انحطاط سارے معاشرے کے زوال کا سبب بنتا ہے۔

تاریخ اسلام میں ایسا ہی ایک اخلاقی بگاڑ اور معاشرتی انحطاط اموی اور عباسی حکمرانوں کی شخصی حکمرانی کے دور میں ظاہر ہوا جب حکمرانوں نے اصلاح معاشرہ کے بنیادی دینی فریضہ سے غفلت برتی اور اسلامی معاشرہ بگاڑ اور اخلاقی انحطاط کی انتہا پر پہنچ گیا۔ ان حالات میں اس وقت کے علماء و صلحائے امت کے ایک گروہ (جس میں مفسرین، محدثین ، فقہاء، فلاسفہ اور معلمین اخلاق سب شامل تھے ) نے اصلاح معاشرہ اور تزکیہ و تربیتِ افراد کی حکومتی وریاستی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھاتے ہوئے ایک عملی و معاشرتی اصلاحی تحریک کا آغاز کیا، تا کہ مسلمانوں کو فکر و عمل کی گمراہی و بے دینی کے سیلاب ِبلا خیز سے بچایا جا سکے۔

درحقیقت یہ وہی صلحائے امت تھے جو اسلام کے اولین درو میں علمی و عوامی حلقوں میں ’’اہل ُاللہ‘‘،’’اہلُ الصّفا‘‘اور ’’اہلُ التّقویٰ‘‘کے ناموں سے پکارے جاتے اوران کی فکر و فلسفہ ’’صدق و صفا‘‘اور’’اخلاص و اخلاق ‘‘کے نام سے پہچانا جاتا تھا، جسے قرآن و حدیث میں ’’تقویٰ و احسان‘‘کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا اور یہی عملی و معاشرتی اصلاحی تحریک آگے چل کر ہمارے دینی لٹریچر میں ’’تصوف‘‘ یا ’’طریقت‘‘ کے نام سے متعارف ہوئی،اس تحریکِ تصوف اور اس کے اکابرینِ قدیم کے بارے میں سب سے اہم بات یہ کہ تمام حضراتِ صوفیاء پہلے مسلمان تھے پھر صوفی و مصلح ، وہ تصوف کو اسلام کے مقابل جداگانہ مسلک کی حیثیت سے نہیں لاتے تھے، بلکہ اسلام کے ماتحت اس کی خالص و پاکیزین ترین عملی صورت کو وہ ’’تصوف‘‘ یا ’’طریقت‘‘ کہتے تھے۔ وہ اسلام کو تصوف پر مقدم رکھتے تھے۔ 

ان حضراتِ صوفیاء کے تصوف کا مقصد و مفہوم صرف اس قدر تھا ،مسلمانوں کے فکر و عمل کو قرآن و سنت کا نمونہ بنانے میں انتہائی فکری و عملی کوشش کی جائے اور قرآن و سنت کے احکام کو مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں نافذو جاری کرنے کے لئے اگر جہاد کا راستہ اختیار کرنا پڑے تو اس عملی اقدام سے بھی قدم پیچھے نہ ہٹائے جائیں اور ان تمام تر اصلاحی کوششوں میں اسوۂ حسنہؐ اور طریقۂ صحابہؓ کو دلیل و زاد راہ بنایا جائے۔ احکام اللہ و رسول ﷺکی ہر حال میں تعمیل کی جائے ،طاعت و عبادت کو مقصد ِحیات سمجھا جائے ، نفس کو قانونِ خداوندی (تقویٰ) کی خلاف ورزی کے برے نتائج سے ڈرا کر اُس سے باز (پرہیزگاری رکھا جائے) اس ساری جدوجہد سے ان کا مقصدپہلے اپنے اندر اخلاق حسنہ پیدا کرنے کے بعد معاشرے کے دیگر افراد میں اس کی تخم ریزی (تزکیہ و تربیت) کی جائے اور اس کے لئے انسانی بس و اختیار میں جدوجہد کا کوئی طریقہ (ریاضت و مجاہدہ) نہ چھوڑاجائے جو بالآخر دنیا میں انسانوں کی خدمت و اصلاحِ معاشرہ ، ہدایت و رہنمائی اور زمین پر قیامِ دین اور غلبۂ اسلام کی شکل میں ظاہر ہو۔

قیامِ واحیائے دین اور غلبۂ اسلام کی ایسی ہی ایک معاشرتی اصلاحی تحریک کا آغاز پانچویں صدی ہجری میں عباسی دورِ حکومت میں عالمِ اسلام کے بطلِ جلیل جید صوفی اور با کمال ولی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے کیااور عباسی دور حکومت میں شخصی حکمرانی کی پیدا کردہ معاشرتی خرابیوں اور دینی بگاڑ اور فکر و عمل کے انحطاط کی اصلاح کا بیڑہ اٹھایا ہر چند کہ عباسی دور میں مسلمانوں نے مادی ترقی بہت کی۔ خلفاء کا شاہانہ انداز حکمرانی اور دربار کی چکاچوند دیدنی تھی۔ 

مادی ترقی کا اندازہ صرف اس بات سے لگایئے کہ خلیفہ اور عمائدین حکومت و سلطنت کے زربفت اور طلائی لباس کا تو ذکر ہی کیا عام آدمی کے لباس تک میں ہیرے جواہرات جڑے ہوتے تھے، خود خلیفہ مہدی کی بیٹی نے خواتین کے لیے ایک دوپٹہ ڈیزائن کیا جس میں سونے کی زنجیریں جڑی ہوئی تھیں، مگر اس مادی ترقی کے دور میں شاہانہ لباس میں ملبوس مادی وجودوں میں موجود روحیں محتاجِ کفن تھیں۔ بنو عباس کے اکثر خلفاء اخلاقی پستی شکار تھے ، عوام الناس کی اصلاح اور ہدایت کی الہامی ذمہ داریوں سے لاتعلق صرف شخصی حکومت کو مضبوط کرنے میں مصروف اور یہی پستی اور دینی بگاڑ عام آدمی کی گمراہی اور معاشرہ کی تباہی کا سبب بنا تھا۔

یہ تاریخ اسلام کی ایک روشن حقیقت ہے کہ محبوب سبحانی سیدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ جس دور میں اصلاحِ معاشرہ اوردعوتِ دین کا فریضہ لے کر اٹھے،وہ مسلمانوں کے لیے سخت آزمائش اوراسلام کے لیے بڑی ابتلاء کا زمانہ تھا ۔ ایسے پُر فتن، معاشرتی بگاڑ، اخلاقی زوال اور دینی انحطاط کے دور میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے مسلمانوں کی معاشرتی و اخلاقی اصلاح اور احیائے دین کا عظیم فریضہ انجام دیا۔ آپ کے دور میں یہ فکر بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہی تھی کہ"آیا انسان کو ایسا مسلک دینی اختیار کر لینا چاہئے کہ وہ دین کی طرف سے بے پروا ہو جائے اور محض رسمی اور رواجی طور پر مسلمان کہلائے یا ایسا دینِ عقل پرست اختیار کرنا چاہیے جو اہلِ دین کے مسلّمات و عقائد سے متصادم ہو"اس فکر سے اسلامی معاشرے کا ہر فرد متاثر ہو رہا تھا۔ 

ملتِ اسلامیہ کا سیاسی و فکری وانحطاط اپنے عروج کو پہنچ چکا تھا۔ خلقِ قرآن، اعتزال، فلسفۂ الحاد اور باطنیت کے فتنوں نے مسلمانوں کے اہلِ علم طبقہ میں تشکیک و الحاد اور عام لوگوں میں عملی بے راہ روی کے بیج بو دئیے تھے۔ان حالات میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے محسوس کیا کہ حکمرانوں کی عدم توجہی اور لاپرواہی کے باعث ملتِ اسلامیہ زوال کی زدپر ہے جس سے بچاؤ کے لئے کوئی دوسری قوت عالمِ اسلام میں سرگرم عمل نہیں ،آپ کا یہ احساس اس جذبے میں تبدیل ہو جاتا ہے کہ عالمِ اسلام کے مرکز بغداد میں کھڑے ہو کر کم از کم ایک صدائے درد تو بلند کی جائے ۔ 

چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور احیائے دین کے لئے اپنے مواعظ حسنہ کا آغاز کرتے ہوئے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :’’رسول اللہ ﷺکے دین کی دیواریں پے درپے گررہی ہیں اور اس کی بنیادیں بکھری جاتی ہیں۔ اے باشندگانِ زمین آؤ اور جو گر گیا ہے، اسے مضبوط کردیں اور جو ڈھے گیاہے، اسے درست کردیں، یہ چیز ایک سے پوری نہیں ہوتی ، سب ہی کو مل کر کام کرنا چاہیے، اے سورج، اے چاند اور اے دن تم سب آؤ"۔ (فتح ربانی)حکام اور امراء کے لئے بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سلسلے میں شیخ کے ہاںکسی رورعایت کی گنجائش نہیں تھی۔ 

آپ نے پانچ عباسی خلفاء کا دور دیکھا اور ان کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا اوراُن کی غیر اسلامی روشِ حکمرانی اور اندازِ زندگی پر انہیں کھلے عام اور برسرِ منبر للکارتے ہوئے ایک مؤثر حزب اختلاف اور زبردست قوت ِ احتساب کا کردار ادا کیا، خلفاء وامراء سے سرزد ہونے والی لغزشوں پر اُن کی بیبا کانہ گرفت اور اصول دین سے انحراف کے رجحان پر سزا کے خوف سے بے نیاز ہو کر عنان گیری کی ۔حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒکو اللہ نے دین و فقر کی دولت کے ساتھ مال و دولت ِ دنیاسے بھی خوب نوازا تھا، مگر دنیا اور اس کے مال ودولت کی حیثیت آپ کے نزدیک رائی برابر بھی نہیں تھی۔ 

آپ نے ارشاد فرمایا، "دنیا کی حقیقت میری ہتھیلی پر رائی کے دانے کی طرح ہے"۔آپ کے اس ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ اگر دنیا کی تمام دولت و ثروت ، زر و جواہر ، جاہ و حشم کو لپیٹ کر میری ہتھیلی پر رکھ دیا جائے اگر یہ میری ہتھیلی پر سے گر جائے گا تو عبدالقادر ؒ اسے اٹھانے کے لئے جھکے گا نہیں، جس طرح کسی شخص کی ہتھیلی پر سے رائی کا دانہ گر جائے تو وہ اسے اٹھانے کے لئے جھکتا نہیں، کوئی پاگل بھی یہ حرکت نہیں کرتا۔آپ کے سلسلۂ امر بالعروف و نہی عن المنکر اور وعظ کی مجالس کے اثرات عظیم تحریکوں سے بڑھ کر ہوئے ہر مجلس میں مشرف بہ اسلام ہونے والوں اور بے عملی سے تائب ہوجانے والوں کا تانتا بدھ جاتا ۔

شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے وعظ و نصیحت کے ساتھ ساتھ قلم کے ذریعہ بھی احیائے اسلام اور اصلاح معاشرہ کا فریضہ انجام دیا اور اس سلسلے میں کئی کتابیں تحریر فرمائیں۔ آپ کی سب سے معروف کتاب غنیۃ الطالبین ہے ۔یہ آپ کے افکار پر مبنی مرکزی تصنیف ہے۔ جس میں آپ نے ارکانِ شریعت ، آدابِ مجلس ، امربالمعروف ، بدعت و ضلالت، نفس و روح و قلب کی تشریح جیسے موضوعات پر گفتگو کی ہے۔ اس کتاب میں شریعت و طریقت کا اصل لب لباب بیان کرتے ہوئے مسلمانوں میں ایمان و عمل کے احیاء کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ 

طریقت و تصوف کے ضمن میں شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے فنی اور اصطلاحی پیچیدگیوں سے ہٹ کر تصوف کو واضح اور سادہ اسلوب دیا ،ان کی تالیفات اس اعتبار سے صوفیانہ ادب میں بڑا اہم مقام رکھتی ہیں۔ آپ نے تصوف کی زبان کو بھی عام فہم بنایا اور تصوف کے ساتھ وابستگی کے دروازے بھی عام آدمی کے لئے کھول دیئے ۔ بحیثیت صوفی مبلّغ کے آپ نے چالیس سال تک وعظ و نصیحت کا کام کر کے عملاً ثابت کر دیا کہ تصوف و طریقت پر صرف اہلِ خلوت کی اجارہ داری درست نہیں۔

آپ طریقت کو شریعت کے ساتھ ہم آہنگ اور کھلی شاہراہ کی طرح کشادہ دیکھنا چاہتے تھے۔ آپ نے بیعت اور خانقاہی تربیت کے طریقوں کو بھی مرکز توجہ بنایا اور مروجہ طریقہ خانقاہی کو وسعت اور تازگی بھی دی اور نظم و ضبط بھی بخشا ۔ آپ کا جاری کردہ سلسلۂ قادریہ لاکھوں انسانوں کے مُردہ دلوں کو حیاتِ جاوداں عطا کرنے اور احیائے اسلام و اصلاح معاشرہ کی ایک عظیم تحریک کی شکل اختیار کر گیا،جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے اور لاکھوں نفوس اس سے براہِ راست مستفید و مستفیض ہو رہے ہیں۔