• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کو فوجی تحفظ دینے کی خبر غلط قرار، امریکا نے دعویٰ واپس لے لیا

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

وائٹ ہاؤس نے توانائی کے وزیر کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کے ذریعے آئل ٹینکرز کو تحفظ دینے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غلط معلومات قرار دے دیا۔

امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحریہ نے ایک آئل ٹینکر کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزارا تاہم یہ پیغام تقریباً آدھے گھنٹے بعد بغیر وضاحت کے حذف کر دیا گیا۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے میڈیا بریفنگ میں واضح کیا کہ امریکی بحریہ نے کسی بھی ٹینکر یا جہاز کو اس وقت تک کوئی فوجی اسکورٹ فراہم نہیں کی۔

ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ضرورت پڑنے پر ایسا اقدام کر سکتے ہیں مگر فی الحال ایسا کوئی آپریشن نہیں ہوا ہے۔

اس پر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی بیان کو ’جعلی خبر‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بیان کا مقصد عالمی تیل منڈیوں کو متاثر کرنا تھا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز ایران، عمان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان واقع ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی گزرتی ہے۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد اس راستے پر تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔

دوسری جانب امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل ڈین کین نے بھی تصدیق کی ہے کہ فوج کو ابھی تک ٹینکرز کی حفاظت کا کوئی باقاعدہ مشن نہیں سونپا گیا ہے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے سے خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے مشتبہ مائن بچھانے والی 10 کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید