• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں کراچی کے علاقے جام گوٹھ میں ناظم جوکھیو نامی شخص کی مبیّنہ تشدّد سے ہونے والی موت ،اُس کے بعد اس بہیمانہ واقعے کے خلاف ہونے والےاحتجاج اور پھر اس قتل کے مقدمے میں ایک رکنِ صوبائی اسمبلی اور ایک رکنِ قومی اسمبلی کے ناموں کا بہ حیثیت ملزمان اندراج ذرایع ابلاغ کی سرخیوں میں نمایاں رہا۔کسی نے اسے سیاسی مسئلہ بنایا تو کسی نے اسے کم زوروں اور طاقت وروں کے درمیان کش مکش قرار دیا۔ لیکن اس سارے معاملے کی وجہ بننے والے نکتے پر سے تقریبا سب ہی کی توجّہ ہٹ چکی ہے اور بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جنہیں یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ اس معاملے کا آغاز کہاں سے ہوا تھا۔

دراصل اس افسوسناک کہانی کا آغاز کراچی نہیں بلکہ ضلع ٹھٹھہ کی حدود میں واقع علاقےجنگ شاہی سے ہوا تھا۔ ناظم کے بھائی کی جانب سے درج کرائی جانے والی ایف آئی آر کے مطابق ستّائیس سالہ ناظم جوکھیو تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کا باپ تھا۔ جس روز ناظم کی لاش ملی، اُس سے ایک روز قبل،یعنی دو نومبر کو ،وہ گھگھر پھاٹک کے قریب واقعے اپنے گاوں سالار گوٹھ میں تھا۔ اس نے دیکھا کہ کچھ غیر ملکی اس کے علاقے میں نایاب پرندوں کے شکار میں مصروف ہیں۔

ناظم نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا اور ان کی لائیو وڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر نشر کردی جس کے بعدوہ غیر ملکی وہاں سے چلے گئے ،لیکن کچھ ہی دیر بعد اسے علاقے کے طاقت ور افراد کی جانب سے دھمکیاں ملنے لگی تھیں ۔پھر رات کے گیارہ بجے رکنِ صوبائی اسمبلی ،جام اویس نے ناظم کو جام ہاوس ،واقع جام گوٹھ،ملیر طلب کیا جہاں جام اویس سمیت کئی افراد نے اس پر تشدد کیا جس سے اس کی موت واقعے ہوگئی۔اس کی لاش جام ہاوس کے مرکزی دروازے پر پائی گئی۔بتایاجاتاہے کہ ناظم جوکھیو سماجی کارکن بھی تھا اوراسےخاص طور پر معدومیت کے خطرے سے دو چار پرندے، تلور، کے شکار پر سخت تشویش تھی۔

پاکستان کے سماج اور سیاسی نظام پر نظر رکھنے والے افراد کے لیے یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ ماضی میں بھی اس قسم کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں ۔وقت کے ساتھ ان کے کردار اور واقعات کی ترتیب کچھ بدل جاتی ہے،باقی سب کچھ ماضی جیسا ہوتا ہے۔اس واقعے کے دو پہلو سب سے نمایاں ہیں۔پہلا یہ کہ جاگیر دار اورطاقت ورآج بھی خود کو کسی قانون اور قاعدے کا پابند نہیں سمجھتا۔

دوسرا یہ کہ ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ کے نعرےملک کے صرف عام آدمی کے لیے ہیں،کیوں کہ حکومتیں غیر ملکیوں کو خوش کرنے کے لیے انہیں معدومیت کے خطرے سے دوچارجان داروں کا شکار کرنے کے اجازت نامے بے دریغ جاری کرتی ہیں اور علاقے کا طاقت ور فرد اپنے دوستوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے اثر ورسوخ والے علاقے میں بلاکر انہیں شکار کرنے کی کھلی اجازت دے دیتا ہے۔

جب تلور نےحکومت کو ہلادیا

اگست 2015میں یہ خبر ذرایع ابلاغ کی زینت بنی تھی کہ حکومت نے تلور کے شکار پر عاید پابندی اٹھانے کے لیےعدالتِ عظمی میں درخواست دائر کی ہے ،تو اسے پڑھ کر بہت سے افراد کو شدید صدمہ پہنچا تھا۔ اس صدمے کی دو بہت اہم وجوہ تھیں۔ پہلی یہ کہ یہ پرندہ معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔دوسری یہ کہ عدالتِ عظمی نے اسی برس اگست کے مہینے میں تلور کے شکار پر پابندی سے متعلق صوبہ سندھ اور بلوچستان کی ہائی کورٹس کے فیصلوں کی توثیق کی تھی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سائبیریا سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے پرندے ،تلور ،کے شکار پر اگست 2015کے تیسرے ہفتے میں ملک گیر پابندی عاید کر دی تھی۔ عدالت نے تلور کے شکار کے لیے جاری کردہ تمام سرکاری اجازت نامے بھی منسوخ کر دیےاور وزارت خارجہ کو اس پرندےکے شکارکے لیے مزید اجازت نامے جاری کرنے سےروک دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے تلور کے غیر قانونی شکار کو روکنے کے لیے ایک کاروباری شخص عامر ظہور الحق کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی تھی۔ 

عدالت نے تلور کے شکار پر پابندی کے سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف صوبائی حکومتوں کی اپیلیں بھی خارج کر دی تھیں۔ انیس اگست کو سماعت کے دوران درخواست گزار عامر ظہور کے وکیل راجا فاروق نے دلائل دیتے ہوئے کہاتھا کہ عالمی معاہدوں کے تحت حکومت پاکستان تلور کے شکار کی اجازت نہیں دے سکتی۔اس کے باوجود وزارتِ خارجہ عرب شہزادوں کو تلور کے شکار کے پرمٹ جاری کرتی ہے۔بینچ میں شامل جسٹس دوست محمد نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا تھا کہ سیکریٹری خارجہ کس قانون اور اتھارٹی کے تحت شکار کے پرمٹ جاری کرتے ہیں؟

آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد جنگلی حیات کا محکمہ صوبوں کو منتقل ہو گیا ہے۔اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا تھاکہ تلور کے شکار کے پرمٹ جاری کرتے ہوئے بیرونی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلور کا شکار ایک کھیل ہے اور حکومت تلور کے شکار کے لیے خود دعوت نامے بھیجتی ہے۔ اس پر جسٹس دوست محمد نے کہا تھا کہ یہ کوئی ثقافتی ورثے کا شو نہیں کہ دعوت نامے بھیجے جائیں، بلکہ یہ قانون اور اتھارٹی کا غلط استعمال ہے۔

سماعت کے دوران اس وقت کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی کھیل نہیں بلکہ نایاب پرندوں کا شکار ہے اور یہ ملکی آئین کے آرٹیکل پانچ کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا کہنا تھا کہ کیا غیر ملکیوں کو یہاں قتل کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی مہمان بھی آئینِ پاکستان کے پابند ہیں۔ عالمی معاہدوں کی پاس داری کی جائے، لیکن ملکی قوانین کو مذاق نہ بنائیں۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملک بھر میں تلور کے شکار پر پابندی عاید کردی تھی۔اس عدالتی فیصلے کے بعدراجا فاروق کا کہنا تھا کہ یہ عدالتی فیصلہ ملک میں قانون کی حکم رانی اور جنگلی حیات اور نایاب پرندوں کے تحفظ کی سمت میں اہم قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بون کنونشن اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تحفظ اور دیگر عالمی معاہدوں کے تحت نایاب نسل کے پرندوں کی حفاظت کا ذمے دار ہے۔ لیکن ان معاہدوں کی خلاف ورزی خود وفاقی اور صوبائی حکومتیں کر رہی تھیں۔ تاہم اب عدالتی حکم کے بعد اس ماحول دوست پرندے کا شکار رک جائے گا جس سے اسے کم ازکم پاکستان کی حد تک معدوم ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔

اسی ضمن میں عدالتِ عظمی نے آٹھ ستمبر2015 کو ایک مقدمے کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا تھاکہ حکومت سندھ کی جانب سے تلور کے شکار کے ضمن میں جاری کیا جانے والا نوٹی فیکیشن سندھ کے جنگلی حیات کے تحفظ کے آرڈی نینس کی شقوں کے سراسر خلاف ہے اس لیے اسے منسوخ کیا جاتاہے۔ وفاقی یاصوبائی حکومت میں سے کوئی بھی (تلور)کے شکار کا اجازت نامہ جاری نہیں کرسکتی۔وفاقی حکومت کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ معدومیت کے خطرہ سے دوچار حیوانات اور نباتات کی انواع کی عالمی تجارت کے بارے میں طے شدہ معاہدے اورCMS یعنی جنگلی حیوانات کی ہجرت کرنے والی انواع سے متعلقہ معاہدے ، کے زیر اثر جو ذمے داریاں عاید ہوتی ہیں اُن پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ 

کیوں کہ ان معاہدوں کو پاکستان نے بھی تسلیم کیا ہے۔ وفاقی حکومت صوبوں کو بھی آئینِ پاکستان کی شق نمبر149کےمطابق ضروری ہدایات جاری کرے۔ صوبے بھی اپنے متعلقہ جنگلی حیات کے قوانین میں ترامیم کرکے انہیں بین الاقوامی معاہدے CMS اور CITES سے ہم آہنگ کریں اور کسی بھی ایسی نوع کے شکار کی اجازت نہ دیںجسے معدوم ہونے کا خدشہ لاحق ہو یا جسے قرار دے دیا گیا ہو کہ وہ آسانی سے معدوم ہو سکتی ہے۔ 

عدالت ِعظمی کے تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا تھا کہ تین رکنی ممبر بینچ نے تلور کے شکار کے مقدمہ CP No 145,38, & 253/2015 میں اپنے مختصر آرڈر مورخہ19 اگست 2015ء کا تفصیلی فیصلہ آج جاری کیا ۔ اس بینچ کی سربراہی جناب چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کر رہے تھے اور اس کے دیگر دو ارکین جناب جسٹس دوست محمد خان اور جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ تھے۔ یہ تفصیلی فیصلہ جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیاہے۔سپریم کورٹ میں مختلف درخواستوں /پٹیشنزکے ذریعے درخواست کی گئی تھی کہ عدالتِ عظمی سندھ حکومت کے جنگلات اور جنگلی حیات کے محکمےکی جانب سے جاری کردہ نوٹی فیکیشن مورخہ بارہ اکتوبر2014ء کی شقوں کا جائزہ لے۔ یہ نوٹی فیکیشن تلور کے شکار کی اجازت فراہم کرتا تھا۔ 

اس میں درج تھا کہ تلور کے شکار کی اجازت صرف خصوصی پرمٹ کے ذریعے دی جائے گئی جس کی بنیاد پر وزارتِ خارجہ نے بہ ذریعہ خط علاقہ مختص کیا ہوگا۔ کم از کم دو خطوط وزارت ِخارجہ نے مورخہ یکم نومبر کو جاری کئے۔ ایک میںمتحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کو اور دوسرے میں بحرین کی وزارت خارجہ کو مخاطب کیا گیا تھا ۔ ان خطوط میں پندرہ غیر ملکی شخصیات کے لیے بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے مختلف خطے مختص کیے گئے تھے۔

عدالت نے (بلوچستان جنگلی حیات کی حفاظت ، تنوّع، اور انتظام و انصرام ایکٹ2014) (بلوچستان تحفظِ جنگلی حیات ایکٹ) پنجاب تحفظِ جنگلی حیات ایکٹ1974( پنجاب تحفظِ جنگلی حیات ایکٹ )کی شقوں کا تفصیلاً جائزہ لیتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ ان قوانین میں جنگلی حیات کے تحفظ کی بابت بہت سے تضادات موجود ہیں۔ جیسا کہ عدالت نے یہ جانا کہ بلوچستان تحفظِ جنگلی حیات ایکٹ کی یہ منشاء ہے کہ حکومت جنگلی، حیواناتی اور نباتاتی نسلوں کو درپیش عالمی تجارت کے خطرے اور جنگلی جانوروں کی نسلوںCMS پر طے شدہ معاہدے کو نافذ العمل کرے۔

یہ ایکٹ ’’اعلیٰ لوگوں‘‘کو شکار کرنے کی اجازت کی فیس کی مد میں ایک کروڑ روپے کی ادائیگی پر ایک سو تک تلور شکار کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ عدالت نے یہ بھی جانا کہ عالمی سطح پر تلور حالیہ اندازوں کے مطابق 78960 اور 97000کی تعداد میں موجود ہیں۔

عدالتِ عظمی نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا کہ پاکستان عالمی اتحاد برائے تحفظِ فطرت (IUCN) بہ شمول IUCN کی ’’سرخ فہرست برائے خطرے سے دو چار جنگلی حیات کی متعددنسلیں‘‘ کا رکن ملک ہے۔ اِسی دستاویز یعنی آئی یو سی این کی سرخ فہرست زیرِ عنوان جنگلی حیات کی متعدد نسلوں کو درپیش خطرات میں بتایا گیا ہے کہ ’’جنگلی حیات کو سب سے بڑا درپیش خطرہ جنگلی حیات (بنیادی طور پر تلور کے شکار) کے شکار سے ہے ۔ اور قطعی طور پر مہاجر پرندوں کا شکار ہی بنیادی خطرے کی وجوہات ہیں۔ 

ایران اور پاکستان میں ایسے پرندوں کی بہت بڑی تعداد کا شکار کر لیا جاتاہے اور اِنہیں بحری جہازوں کے ذریعے عقابوں کو شکارکرنے کی تربیت دینے کے لیے عرب کی سرزمین پر لے جایا جاتا ہے۔ اور اگر شکار کھیلنے کے شوق و ذوق کو محدود نہ کیا گیا تو یہ نایاب جانوروں کی نسلیں بہت جلد بہت زیادہ خطرے سے دوچار نسلوں میں شامل ہو جائیں گی۔ 

تاہم، سائنسی طریقوں سے حاصل شدہ اعداد و شمار سے اِن نایاب نسلوں کے ختم ہو جانے کا خطرہ درپیش ہونے کے واضح امکانات کے اظہار کے باوجود بلوچستان، سندھ اور پنجاب کی اور وفاقی حکومت نے اپنی ذمے داریوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ایسے اِقدامات کیے ہیں جو تلور کی نسل کو ختم کرنے میں نہیں تو جلد ہی محدود اور زوال پذیر کرنے میں ممد و معاون ہیں۔ اِس حقیقت کا ادراک بھی کیا گیا ہےکہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ حکومت نے ایک سے بڑھ کر ایک ذریعے سے تلور کے شکار کو آسان بنانے کے لیے اِقدامات نہ کیے ہوں ۔ 

اُن کے کاموں کو بارہا کام یابی کے ساتھ ہائی کورٹس میں چیلنج کیا گیا ۔ بدقسمتی سے حکومتیں ہائی کورٹ کے واضح احکامات/فیصلوں کے باوجود اُن کی حکم عدولی کرتی رہیں۔ عدالت نے یہ دلیل مسترد کر دی کہ غیر ملکی تلورکو لوٹ کر رقم لائیں اور اسے اسکولز، مساجد، دواخانوں وغیرہ کی تعمیر کے لیے بخشش کر دیں۔ اور یہ بیان کیا کہ پاکستان اور صوبوں کے قوانین اور پاکستان کے بین الاقوامی معاہدے قابلِ فروخت اشیاء نہیں ہیں۔ اور استفسار کیا کہ حکومتیں شہریوں کی قدر و قیمت کم کرتی ہیں۔

فیصلے میں جسٹس عیسیٰ نے اس بات پر زور دیاتھا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے صرف انسان کو یہ ذمے داری سونپی گئی ہے کہ وہ توازن قایم رکھے اور قدرت کے قانون کی خلاف ورزی نہ کرے۔ عدالت نے زور دیا کہ حکومت اپنی ذمے داریاں زمین پر منتظم کی حیثیت سے قدرتی وسائل کے تحفظ کے ضمن میں اداکرے اور اللہ کی مخلوق کا خیال رکھے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ زندگی اور باعزت زندگی گزارنے کا بنیادی حق (شق نمبر 9اور 14، آئینِ پاکستان) جو کثیر التعداد انواع کے پاس ہے، وہ صرف ہماری زندگیوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی محفوظ ہے۔ سائنسی شواہد کی روشنی میں یہ اخذکیا گیا کہ اگر یہ زمین جانوروں، پرندوں ، حشرات ، چرند، پرند، صاف دریاؤں، شفاف ہوا اور مٹی سے محروم ہو جائے تو یہ ہماری تباہی اور معدومیت کا پیش خیمہ ہو گا۔

تاہم بعد ازاں بائیس جنوری2016 کو سپریم کورٹ نے تلور کے شکار کی اجازت دے دی تھی۔فیصلے کے حق میں چار ججوں نے رائے دی اور بینچ کے رکن جسٹس فائز عیسیٰ نے اختلافی نوٹ تحریر کیاتھا۔یاد رہے کہ جسٹس عیسٰی اس بینچ کے بھی رکن تھے جس نے شکار پر پابندی لگانے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

عدالت نے تلور کے شکار پر مکمل پابندی عاید کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔یہ حکم وفاق، صوبہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کی جانب سے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواستوں پر دیا گیا تھا جس میں شکار پر پابندی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔اگست 2015 میں اس وقت کےچیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے تلور کے شکار پر پابندی عاید کرنے کے بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔تاہم اس فیصلے میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کثرتِ رائے سے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

یہ فیصلہ جسٹس میاں ثاقب نثار نےتحریر کیا تھا جنہوں نے لکھا کہ ہجرت کرنے والے پرندوں سے متعلق اقوام متحدہ کا کنونشن اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ان نسلوں کی افزائش کر کے شکار کیا جا سکتا ہے۔فیصلے میں کہا گیاتھاکہ عالمی ادارہ برائے جنگلی حیات نے تلور کو اُن پرندوں میں شامل نہیں کیا جن کی نسل معدوم ہو رہی ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قانون کا جائزہ لے کر عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ تلور کے شکار پر مستقل پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ صوبوں کا اختیار ہے کہ کس پرندے کے شکار پر پابندی لگائیں اور کس پرندے کے شکار کی اجازت دیں، عدلیہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے تلور کے شکار کے پرمٹ کے طریقہ کار کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ اس کے علاوہ اس فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ عدالت کو کسی بھی مرحلے پر یہ نہیں بتایا گیا کہ جنگلی حیات کے بارے میں صوبوں کے قوانین کیا ہیں۔عدالت کاکہنا تھا کہ جنگلی حیات کے تحفظ اور افزائش کے لیے محکمہ وائلڈ لائف ایسے اقدامات کرے جو تمام جنگلی حیات کے لیے ہوں۔

ہجرت کرنے والے اور شکاری

واضح رہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں ہے جہاں نایاب سمجھا جانے والا پرندہ تلور موسمِ سرما گزارتا ہے۔ حکومتِ پاکستان اس کے شکار کے لیے خصوصی پرمٹ جاری کرتی ہے اور اس کے شکار کے لیے خلیجی ریاستوں کے شاہی خاندانوں کے ارکان کی بڑی تعداد پاکستان کا رخ کرتی رہی ہے۔ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں 1980 کی دہائی سے خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے عرب شیوخ کو شکار گاہیں الاٹ کی جاتی رہی ہیں۔

اس پرندے کے شکار کے لیے وفاقی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جو پرمٹ جاری کیا جاتا ہے اس کے مطابق کسی بھی علاقے میں عرب شیوخ دس دن کے لیے شکار کر سکتے ہیں۔ان دس دنوں میں انہیں صرف سو تلور شکار کرنے کی اجازت ہوتی ہے تاہم بلوچستان کے محکمہ تحفظِ جنگلی حیات کی رپورٹ کے مطابق 2014 میں ایک سعودی شہزادے نے چاغی میں تین ہفتے کی کیمپنگ کے دوران 2100 تلور شکار کیے تھے۔

ہر برس ستمبر سے فروری کے دوران سائبیریا سے ہزاروں کی تعداد میں تلور ہجرت کر کے پاکستان کے چاروں صوبوں کے مختلف علاقوں میں موسم سرما گزارنے آتے ہیں۔ مختلف اندازوں کے مطابق ہجرت کرنے والے ان پرندوں کی تعداد عام طور پر آٹھ سے دس ہزار تک ہوتی تھی جو اب کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں آنے والے پرندوں میں سے ہزاروں مقامی اور غیر ملکی شکاریوں، خصوصا خلیجی ممالک سے آنے والے مہمانوںکے شکاربن جاتے ہیں۔2014میں دفتر خارجہ نے تلور کے شکار کے لیے تینتیس پرمٹ جاری کیے تھے۔ ایک پرمٹ میں ایک سو پرندوں کے شکار کی اجازت ہوتی ہے۔ لیکن صرف ایک دن میں بائیس سو تلور شکاریوں کا نشانہ بنے تھے۔

پاکستان میں تلور کے شکار کے لیے نہ صرف بندوقوں کا استعمال کیا جاتا ہے بلکہ عرب مہمان اپنے ساتھ لائے ہوئے باز بھی تلور کے شکار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جنگلی حیات اور پرندوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق مارے جانے والے تلور کے علاوہ یہ مہمان بہت سے تلور اپنے ساتھ زندہ حالت میں بھی لے جاتے ہیں جنہیں شکاری بازوں کو سدھانے اور شکار کرنے کی تربیت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ واضح رہے کہ پاکستان کے ہم سایہ ملک بھار ت میں تلور کے شکار پر پابندی عاید ہے۔

تلور ،کچھ حقائق

تلور نامی بڑے پرندے زمین پر رہنے والے پرندوں کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کھلی زمین اور گھاس کے میدانوں میں رہتے ہیں۔ یہ زمین پر گھونسلا بناتے ہیں اور ہمہ خوروں کی قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اپنی مضبوط ٹانگوں اور بڑے پنجوں کی مدد سے یہ زمین پر آسانی سے چل سکتے ہیں۔ چلتے پھرتے ہوئے یہ اپنی خوراک بھی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ان کے پروں پر اضافی پر ہوتے ہیں جوانہیں اڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ 

ملاپ کے وقت ان میں سے بہت سے پرندے عجیب و غریب انداز میں رقص کرتے ہیں۔ مادہ ایک وقت میں تین تا پانچ انڈے دیتی ہے جن پر دھبے ہوتے ہیں۔ یہ انڈے زمین پر موجود کسی ڈھیر پر دیئے جاتے ہیں اور مادہ اکیلے ہی انڈوں کو سیتی ہے۔تلور ملاپ کے موسم کے علاوہ بھی بہت میل جول رکھنے والا پرندہ ہے۔تاہم یہ عموما کسی انسان کو اپنے نزدیک نہیں آنے دیتے۔

تلور ایک خوبصورت پرندہ ہے۔ ساٹھ سینٹی میٹرلمبے اورایک سو چالیس سینٹی میٹر پروں کے پھیلاو کے حامل اس پرندے کے جسم کا اگلا حصہ کتھئی اور پچھلا حصہ سفید رنگ کا ہوتا ہے۔ گردن سے پشت تک کالے رنگ کی ایک دھاری اس کی خوب صورتی میں اضافہ کرتی ہے۔

یہ پرندہ کینری آئس لینڈ،ا سپین، شمالی افریقا، ایران اور پاکستان میں وسیع پیمانے پر پایا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ اسرائیل، سوڈان، لبنان، سعودی عرب، یمن، عمان، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت، شام، عراق، افغانستان، بھارت، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، کرغیزستان، قازقستان، روس ، منگولیہ اور چین میں بھی یہ پرندہ پایا جاتا ہے۔

اس پرندے کی کُل بائیس اقسام ہیں ۔ ان میں سے شمالی افریقا میں پایا جانے والا پرندہ درمیانے سائز کا ہوتا ہے۔عموما نر کا وزن ڈیڑھ تا ڈھائی کلو ہوتا ہے۔ مادہ کا وزن ایک تا ڈیڑھ کلو ہوتا ہے۔ اس کی رہائش زیادہ تر ریگستانوں میں ہوتی ہے اور وہیں ان کے انڈوں سے بچے نکلتے ہیں۔ریگستانی جھاڑیوں میں یہ اڑنے سے زیادہ چلنے اور بھاگنے کو ترجیح دیتے ہیں۔یہ اپنی کمین گاہوں سے بڑے بڑے غول کی صورت میں خوراک کی تلاش میں اڑتے ہیں اور بسیرا الگ الگ، لیکن نزدیک نزدیک کرتے ہیں۔ان کی خوراک میں کیڑے مکوڑے، چھوٹے حشرات الارض اور درختوں، پودوں کے بیج شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق تلور ہجرت کرنے والا پرندہ ہے جو روسی سائیبریا اور گردونواح کے علاقوں سے سردیوں میں بلوچستان اور پاکستان کے بعض دیگر علاقوں کا رخ کرتا ہے۔ تلور، بسٹرڈ نسل کے پرندوں میں سے ہے جس کا بائی نومئیل نام (Chlamydotis undulata) ہے۔ یہ پرندہ صحرائی علاقوں میں انڈے دیتاہے اور اپنے بچوں کی پرورش کرتا ہے۔ ان ہی دنوں میں اس کا شکار کیا جاتاہے۔

ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً پانچ سے سات ہزار تلور سائبیریا سے پاکستان کا رخ کرتے ہیں اور یہاں ستمبر کے اوائل سے فروری تک عارضی بسیرا کر کے اپنے آبائی مسکن کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔یہ پرندہ سولہ ملکوں میں داخل ہوتا ہے۔ ان تمام ممالک میں اس کے شکار پر پابندی ہے۔ پڑوسی ملک بھارت میں بھی اس کا شکار ممنوع ہے۔ اس پرندے کی نسل کےمعدوم ہونے کے خطرے کےپیش نظربون کنونشن کے تحت اس کا شکارممنوع قرار دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ پاکستان بھی اس میثاق پر دست خط کر چکا ہے۔

عرب شیوخ 1980کی دہائی سے بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں تلور کے شکار کے لیے آتے ہیں۔ یہ پرندہ روس سے بلوچستان اور پاکستان کے دیگر گرم علاقوں کا رخ کرتا ہے۔ جس کے باعث موسمِ خزاں کے دوران بلوچستان کے قلعہ سیف اللہ، چاغی، خاران ، واشک ، کیچ، لسبیلہ اور جھل مگسی سمیت متعدد علاقے مذکورہ شخصیات کی شکار گاہوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ان مہمانوں کا تعلق سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے ہوتا ہے۔عرب شہزادوں کو وفاقی حکومت اس پرندے کے شکار کی خصوصی اجازت دیتی ہے اورانہیں تحفظ فراہم کرنے کی ذمےداری صوبائی محکمۂ داخلہ کی ہوتی ہے۔

قدرتی ماحول کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی ادارے آئی یو سی این نے اس پرندے کو ان جنگلی حیات کی فہرست میں شامل کیا ہے جن کی نسل کو معدومی کا خطرہ لاحق ہے جس کے باعث اس پرندے کا شکار ممنوع ہے۔اس پرندے کے شکار کے لیے وفاقی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جو پرمٹ جاری کیا جاتا ہے اس کے مطابق کسی بھی علاقے میں عرب شیوخ دس دن کے لیے شکار کر سکتے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ان دس دنوں میں انہیں صرف سو تلور شکار کرنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن اس ضمن میں کوئی پابندی خاطر میں نہیں لائی جاتی۔

اس کے لذیذ گوشت کی وجہ سے اس کا اندھا دھند شکار کیا گیا اور بالاخر اس کی نسل کو شدید خطرات لاحق ہو گئے۔یہ بھی مشہور ہے کہ اس کا گوشت مردانہ طاقت میں اضافہ کرتا ہےچناں چہ بعض افراداس نیت سے اس کا شکار کرتے ہیں۔ پاکستان میں اس کے شکار پر پابندی تو ضرور لگائی گئی ہے ،لیکن چوری چھپے ہنوز اس کا شکار جاری و ساری ہے۔ ان پرندوں کا خوراک کی تلاش میں انسانی بستیوں کے نزدیک آنا جانا لگا رہتا ہے جس کی وجہ سے یہ آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان نے اپنے صوبائی پرندے کے طور پر تلور کا انتخاب کیا لہذا یہ بلوچستان کا علامتی صوبائی پرندہ ہے۔ لیکن افسوس کہ بلوچستان کی حکومت نے اس کی افزائش اور اس کی نسل کو درپیش خطرات کے بارے میں کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ہے۔