• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہزارہا سالوں کے بے کیف و کٹھن شب و روز کے اندھیروں سے واپسی تک کے اس طویل سفر کے دوران نسل انسانی کئی صبر آزما اور جاں گسل مراحل سے گزری ہے۔

ان لاتعداد گزری صدیوں میں گمنامی کے پردوں میں چھپی کئی حقیقتیں جب رفتہ رفتہ انسان پر آشکار ہوتی گئیں، تو کئی اورلایعنی گتھیوں کو سلجھانے کی آرزو من میں مچلنے لگی۔ کیوں اور کیا کے سوالوں کے سہارے اس نے علم کے زینے پر پہلا قدم تورکھا، پر منزل ابھی دور تھی۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کی ہوئی فہم وفراست سے مالامال عالموں نے اس کی رہنمائی کی ۔یہ اتناآسان نہ تھا کہیں انہیں سرِ دار کھینچا گیا اور کہیں انہیں زہر کا جام پینے پر مجبور کیا گیا ان ہی عالموں نے علم کی شاخیں اور درجے متعین کئے۔ بعد میں ان شاخوں سے کئی جھرنے پھوٹے جو آگے چل کر ایک دریا کی شکل اختیار کرگئے۔یوں علم کا دریا بہتا رہا اور اس بہتے دریا سے پیاسے مقدور بھر اپنی پیاس بجھاتے رہے۔ اورباحیثیت مجموعی جس قوم نے اس بہتے دریا سے استفادہ حاصل کیا،وہی دنیا میں طاقتور اور معتبر ٹھہری۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ علم کے اس دریا سے کراچی کے باسی کس قدر مستفیض ہوئے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب کراچی پوری طرح آبادنہیں ہوا تھا ۔لیاری ، کھڈہ ، کھارادر اور ملیر تک کہیں کہیں ساحلی بستیاں آباد تھیں۔ یہاں کے لوگوں کو تعلیم کی طرف رغبت دلانے میں کسی نے خاص کردار ادا نہیں کیا تھا۔ البتہ تالپور حکمرانوں نے کراچی میں مسجدوں سے ملحق مدرسوں میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا انتظام کیا تھا۔ انگریزوں نے اپنی آمد کے ساتھ ہی تالپوروں کے اس نظام تعلیم کو ختم کردیا، کہ انہیں مقامی لوگوں کو انگریزی سکھانے کی جلدی تھی، بعد ازاں انہوں نے پہلا انگریزی اسکول کراچی میں صدر بازار کے علاقے میں کھولا۔

بدیسی حکمرانوں کی جانب سے انگریزی تعلیم پر ابتداً تو مقامی لوگوں کا رویہ معاندانہ رہاجو عین فطری تھا، مگر کچھ عرصہ بیت جانے پر یہ رویہ نارمل ہوتا گیا اور پھر نہ صرف ان کے قائم کیے گئے اسکولوں میں والدین اپنے بچوں کو بھیجنے لگے، بلکہ کچھ مقامی رفاہی ادارے بھی سرگرم ہوگئے۔مسلمان، ہندو، عیسائی اور پارسی حضرات مذہب کی تفریق کیے بغیر مقامی رہائشیوں کو تعلیم سے بہرہ مندکرنے کے لئے کراچی میں تعلیمی ادارے کھولنے لگے۔ یہاں بسنے والی قدیم برادیوں نے بھی اپنی اپنی جماعتوں کے زیر انتظام اسکول کھول کر علم کی شمعیں روشن کیں۔

لیاری، کھڈہ،کھارادر، بولٹن مارکیٹ، بندرروڈ، صدر اور سولجر بازار کے قدیم اسکولوں نے ہزاروں بچوں کو تعلیم سے بہرہ مند کیا۔ چینسرگوٹھ سے ڈرگ روڈ اور ملیر تک قائم ہونے والی نئی آبادیوں میں ساٹھ کی دہائی تک سیکنڈری اسکولز نہیں تھے۔ یہاں رہائش پذیر کراچی کے باسی اپنے بچوں کو سکینڈری تعلیم کے لئے شہر کے قدیم علاقوں کے اسکولوں میں بھیجتے تھے۔ سٹی اسٹیشن سے لانڈھی تک ہر دوگھنٹے بعد چلنے والی لوکل ٹرینیں ان طالب علموں کے لئے محفوظ اور ریل کے کرایوں کے ماہانہ پاس کے ذریعے سستا وسیلہ سفر تھا۔

کراچی میں اسکولوں کے قیام کا آغاز انیسویں صدی کے وسط میں ہوا۔1841 میں صدر کے علاقے میں پہلا انگلش میڈیم اسکول قائم ہوا۔ بھیم پورہ کے علاقے لارنس روڈ پر 1852میں سی ایم ایس (چرچ مشنری سوسائٹی اسکول) کے نام سے دوسرے اسکول کا قیام عمل میں آیا۔ علم کی زنجیر کی کڑیاں بنتی گئیں۔ 1855میں بندر روڈ (ایم اے جناح روڈ) پر ریڈیو پاکستان کی عمارت کے سامنے این جے وی اسکول (نارائن جگن ناتھ ویدیا) کا قیام عمل میں آیا۔

فریئر روڈ، اردو بازار کے قریب 1916میں ’’شریمتی ہردلوبائی‘‘ نے ایک اسکول قائم کیا۔ اس وقت اس کا نام ’’ کالج فار وومین‘‘ ہے۔

ان اسکولوں میں اردو، سندھی، گجراتی اور انگریزی زبانوں میں تعلیم دی جاتی تھی۔1918میں بندر روڈ پر این جے وی اسکول کے قریب ’’ماما پارسی ہائی اسکول‘‘ سماجی رہنما آنجہانی نوروجی نسروانجی ماما جی کی وصیت کے مطابق قائم ہوا۔ جہاں ابتدا میں صرف پارسی لڑکیوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔

اسے تعلیم سےمحبت کی ایک مثال کہہ سکتے ہیں کہ پارسی برادری کے ایک مخیر شخص شاپوجی ہرمزجی سپاری والا نے اپنا ذاتی بنگلہ اسکول کے قیام کے لیے عطیے میں دیا تھا۔1859 میں قائم ہونے والے اس اسکول کا نام’’اینگلو ورناکولہ‘‘ تھا۔1870میں انہوں نے اس کا نام اپنی آنجہانی اہلیہ کے نام پر ’’بائی ویر جی سپاری والا‘‘ یعنی ’’بی وی ایس اسکول‘‘ رکھ دیا۔

بہت جلد مسلمانوں کو یہ احساس ہونے لگا کہ انگریزی سیکھے بغیر مسلمان چھوٹی، بڑی سرکاری نوکریوں کے اہل نہیں ہو سکتے۔ معاشی حالت بھی دگرگوں رہے گی، ساتھ ہی دوسرے شعبوں میں بھی مشکلات پیش آئیں گی۔سر سید احمد خان نے تحریک کی صورت میں اس سوچ کو برصغیرکے عوام تک پہنچایا۔ اب اکابرین تعلیم بھی ٹھنڈے دل و دماغ کے سا تھ اس کا جائزہ لینے لگے۔

تعلیمی پستی کوختم کرنےکے لئے حسن علی آفندی نے انگریزی علوم کو ترویج کے لئے دہلی میں سر سید احمد خان سے ملاقات کے بعد 1984ء میں ’’محمڈن ایسوسی ایشن کلکتہ‘‘ کی ایک شاخ کراچی میں قائم کی۔ حسن علی آفندی اس شاخ کے صدر اور مولوی اللہ بخش سیکریٹری مقرر ہوئے۔1885ء میں اسی ایسوسی ایشن کے تحت ایک تنظیمی بورڈ ’’سندھ مدرسہ بورڈ‘‘ کے نام سے بنا،اسی سال بولٹن مارکیٹ کے قریب کرائے کی عمارت میں ’’سندھ مدرستہ الاسلام‘‘ کا افتتاح ہو،کچھ ہی دنوں بعد حسن علی آفندی نےاطراف کے ماحول کو اسکول کے لئے ناموزوں محسوس کرتے ہوئے اسے صاف ستھرے اورکشادہ مقام پر منتقل کرنے کے لئے سرگرم ہو گئے۔ 

اس کے لئے ان کی نظر انتخاب مدرسے کی موجودہ جگہ پر پڑی جسے انگریز دوستوں کی مدد سے حاصل کیا بعد ازاںسندھ و برصغیر کے مسلمانوں سے چندہ اکٹھا کر کے، 1890 ء میں سندھ مدرستہ اسلام کی موجودہ عمارت مکمل کی۔’’سی ایم ایس‘‘ اسکول کو یہ فخر حاصل ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے یہاں سے تعلیم حاصل کی۔

1840 ء کے بعد کراچی میں اسکولوں کے قیام کا سلسلہ تیزی سے جاری رہا،مگر یہ تمام تعلیمی ادارے پہلی جماعت سے میٹرک تک تعلیم فراہم کرتے تھے، مزید تعلیم کے لئے اُس وقت کراچی میں کوئی کالج نہیں تھا۔ ناچار طالب علموں کو بمبئی یا لاہور جانا پڑتا۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے مقامی حکومت اور مخیر حضرات نے مل کر اعلیٰ تعلیمی اداروں کی بنیاد ڈالی۔یہ کاوشیں رنگ لائیں اور 1887ء میں کراچی کا پہلا کالج’’سندھ آرٹس کالج‘‘ کے نام سے قائم ہوا۔ 

ابتدا میں یہ کالج کرائے کی عمارت میں شروع ہوا، بعد ازاں طلباء کی تعداد میں اضافے کے باعث 1892ء میں اس کے لئے موجودہ عمارت تعمیر کی گئی۔ چونکہ اس کے تعمیراتی اخراجات کے لئے، دیا رام جیٹھا مل نے خطیر رقم کا عطیہ دیا تھا، لہٰذا ان کی وفات کے بعد اس کالج کا نام’’دیارام جیٹھا مل‘‘ (ڈی جے کالج) رکھ دیا گیا۔ڈی جے کالج کی عمارت کے سامنے 1901ء میں طلباء کی رہائش کے لئے ’’میٹھا رام جیٹھ مل شاہانی‘‘ کے نام سے ایک ہوسٹل تعمیر کیا گیا۔

1921ء میں کچہری روڈ پر این ای ڈی کالج کی بنیاد رکھی گئی۔ کراچی میں کالجوں کے قیام کے سلسلے کا یہ دوسرا اور سندھ بھر کا پہلا انجینئرنگ کالج تھا۔ اس کے قیام کے لئے کراچی میں مقیم پارسی برادری کے ایک مخیر شخص ’’نادر شاہ ایڈلجی ڈنشا‘‘ نے دو لاکھ روپے کاعطیہ دیا اوراس کالج کا نام ان ہی کے نام پر ’’این ای ڈی‘‘ کالج رکھ دیا گیا۔ خوش قسمتی سے کراچی میں کالجوں کے قیام کا ایک تسلسل جاری ہو گیا۔ آرٹس اور انجینئرنگ کی سہولت میسر آجانےکے بعد قانون کے شعبے کے لئے تدریسی ادارے کی ضرورت تھی، لہٰذا 1925ء میں این ای ڈی کالج کے آگے ’’ایس ایم لا کالج‘‘ قائم ہوا۔

اب یہاں طب و جراحت کی تعلیم دینے کے لئے کسی کالج کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔ ایسے کالج کے لئے شہر میں کسی بڑے سرکاری یا غیر سرکاری اسپتال کا ہونا ضروری تھا۔ اور یہ ضرورت 1854ء میں قائم ہونے والے سول اسپتال نے فراہم کر دی ۔ اسپتال کے قیام کے تقریباً سو سال بعد 1946 میں اس کے ساتھ میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی گئی ،جس کی عمارت کا افتتاح گورنر سندھ میک ڈائو نے کیا۔

ان تمام تعلیمی اداروں کےساتھ شہر میں ایک یونی ورسٹی کی ضرورت تھی۔شہر کے منتظمین اعلیٰ اور تعلیمی ماہرین اس ضرورت سے غافل نہ تھے۔ انیسویں صدی کے اواخر سے وہ کراچی میں سندھ یونیورسٹی کی صورت میں اس اعلیٰ ترین ادارے کے قیام کے لئے کوششیں جاری رکھے ہوئے تھے،مگر یہ کوششیں بار آور ثابت نہ ہو سکیں۔ گو کہ سندھ بمبئی پریذیڈنسی سے 1936ء میں الگ ہوا، مگر اس کی تیاریاں انگریز حکومت نے اس سے قبل ہی کر لی تھیں۔ 

اس سلسلے میں 1934ء میں گورنر سے سندھ میک ڈائو کے سربراہی میں سندھ یونیورسٹی کے قیام کا جائزہ لیا گیا۔اپریل 1936ء میں سندھ جب بمبئی پریذیڈنسی سے الگ ہو کر ایک علیحدہ صوبہ بن گیا تو حکومت سندھ نے ایک با اختیار کمیٹی قائم کی، جس نے سندھ کے لئے ایک علیحدہ یونیورسٹی کے قیام کی حمایت میں رپورٹ پیش کی۔1946 تک سندھ یونیورسٹی ایکٹ سندھ اسمبلی میں پاس نہ ہو سکا، تاہم اپریل 1947ء میں اس ایکٹ کے پاس ہوتے ہی 13؍اپریل 1947 کو کراچی میں سندھ یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔1951 میں کراچی کو مرکزی دارالحکومت قرار دیئے جانے کے بعد اس یونیورسٹی کو حیدر آباد منتقل کر دیا گیا اور 1953 ء میں کراچی کے لیے ایک علیحدہ یونی ورسٹی کاقیام عمل میں لایا گیا جو’ جامعہ کراچی‘ کہلائی۔

اس طرح رفتہ رفتہ کراچی کی سر زمین پر علم کے پودے لگتے گئے ، اور باعبانوں کی موثر رکھوالی سے کئی ایک علم کے سایہ دار درخت بن گئے۔

علم کے حصول اور فراہمی کا یہ یہ سلسلہ خوش اسلوبی سے جاری تھا کہ قیام پاکستان کے تیس پینتیس سالوں بعد تعلیم کا شعبہ کمرشل ازم کے آسیب کی طرف بڑھنے لگا۔

تقریباً ڈیڑھ صدی سے چلتے اس کامیاب سسٹم کی تباہی کا آغاز سرکاری اسکولوں کے درس و تدیرس کے معیار کی تنزلی سے ہوا۔ نجی اسکولوں نےاس انحطاط سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اور پھر متزاد یہ کہ نجی اسکولوں کے رنگ برنگے خوبصورت یونیفارم کے مقابلے میں سرکاری اسکولوں کے پیلے رنگ کے شلوار قمیص نے والدین کے ذہنوں میں اپنے بچوں کے خوبصورت نظر آنے کے خوش کن پہلو کو دھندلا دیا تو مہنگے کاغذ پر طبع کی گئی رنگین تصویروں سے مزین نجی اسکولوں کی کتب نے معصوم طلباؤ کے ذہنوں کو اس چکا چوند کی طرف راغب کیا۔

بالآخر سرکار کی عدم توجہ ، اساتذہ کے بے رغبتی اور خود والدین کی علم کے حصول سے زیادہ اسٹیٹس کی خواہش کے سبب کراچی میں موجود ڈیڑھ صدی سے جاری کامیاب تعلیمی سفر کے نقوش ماند پڑنے لگے، اور یوں اپنے وقت کے بیش ترنامور اسکول بند ہو کر ماضی کا قصہ بن گئے۔