• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی اقتصادی کونسل نے کئی اہم اور بڑے منصوبوں کی منظوری دیدی

قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے گریٹر تھر کینال منصوبہ مزید غور کے لیے موخر کردیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے امور خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

اجلاس کے اعلامیے کےمطابق اس موقع پر کئی اہم اور بڑے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق اسپارکو کے 27 اعشاریہ 91 ارب کی لاگت کے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ منصوبہ کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں ایکنک کی سیالکوٹ تا کھاریاں 69 کلومیٹر 4 لین چوڑے منصوبے کی منظوری دی گئی، سیالکوٹ تا کھاریاں موٹر وے کو 6 لین تک چوڑا کیا جاسکے گا۔

اعلامیے کے مطابق ایکنک نے نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے دوسرے نظرثانی منصوبے کی بھی منظوری دے دی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ نئے ائیرپورٹ کو ائیربس اے 380،  بوئنگ 747،777 سمیت بڑے طیارےاستعمال کرسکیں گے۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی فنڈنگ سے آئیسکو میں ایڈوانس میٹرنگ انفرااسٹرکچر کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں پشاور اور نوشہرہ میں 16اعشاریہ69 ارب کے وارسک کینال سسٹم کی ری ماڈلنگ منصوبےکی منظوری دی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ایچ ای سی کے 12اعشاریہ78 ارب کے ترقیاتی منصوبے اور نالج اکانومی سے متعلق 23 اعشاریہ 54 ارب سے پاک یونیورسٹی کے پہلے مرحلے کی منظوری دی گئی۔

قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے خیبرپختونخوا کے شہروں میں معیار زندگی بلند کرنے کے 97 اعشاریہ 14 ارب کے منصوبےکی منظوری دی گئی۔

اعلامیے کے مطابق مردان، ایبٹ آباد، کوہاٹ، مینگورہ، پشاور کی 60 لاکھ سے زائد آبادی مستفید ہوگی، آئی جے پی سے سرینگر ہائی وے تک 12اعشاریہ 139 ارب کےٹینتھ ایونیو منصوبےکی منظوری دی گئی۔

قومی خبریں سے مزید